اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

 آئندہ 24 گھنٹوں میں بھارت پر مزید ٹیرف لگے گا،ٹرمپ

 آئندہ 24 گھنٹوں میں بھارت پر مزید ٹیرف لگے گا،ٹرمپ

 آئندہ 24 گھنٹوں میں بھارت پر مزید ٹیرف لگے گا،ٹرمپ

اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت کے موجودہ 25 فیصد ٹیرف میں 24 گھنٹوں میں کافی اضافہ کیا جائے گا۔

 

ان کا کہنا ہے کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے، بھارت یوکرین کے خلاف روسی جنگی مشین کو ایندھن فراہم کر رہا ہے، بھارت ایسا کر رہا ہے اور میں اس سے خوش نہیں ہوں۔

 

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز بھارت پر مزید ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔

 

سوشل میڈیا پر ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ بھارت ناصرف بڑی مقدار میں روسی تیل خرید رہا ہے بلکہ اسے اوپن مارکیٹ میں فروخت کر کے منافع بھی کما رہا ہے۔

 

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بھارت کو کوئی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں روسی جنگی مشین کتنے لوگوں کو مار رہی ہے، اسی وجہ سے اب بھارت پر ٹیرف میں اور بھی اضافہ کروں گا۔

 

امریکی صدر ٹرمپ کے ٹیرف میں مزید اضافے کی دھمکی پر بھارت نے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کو نشانہ بنانا غیر منصفانہ اور غیر معقول ہے، بھارت قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

 

ترجمان بھارتی وزارتِ خارجہ رندھیر جیسوال نے کہا تھا بھارت نے روس سے درآمدات اس وقت شروع کیں جب یوکرین تنازع کے بعد روایتی رسد یورپ کی طرف موڑ دی گئی تھیں، امریکا نے اس وقت ایسی درآمدات پر بھارت کی حوصلہ افزائی کی تھی، امریکا نے عالمی توانائی منڈیوں کو مستحکم بنانے کے لیے بھارت کی حوصلہ افزائی کی، روس سے درآمدات کا مقصد بھارتی صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں کو قابل برداشت بنانا ہے۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481