زیادتی میں ملوث 3رکنی گینگ کا ایک کارندہ بیروٹ سے گرفتار
بکوٹ پولیس نے لاہور کی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے تین ملزمان میں سے ایک کو بیروٹ سے گرفتار کر لیا۔لاہور جانے کی خواہش مندذہنی کمزوری کا شکار 20 سالہ لڑکی کو راولپنڈی فیض آباد سے دھوکہ دہی کے تحت ٹویوٹا ہائی ایس میں بٹھا کر ایبٹ آباد کے علاقے بیروٹ لایا گیا، جہاں تین ملزمان نے اسے مبینہ طور پر نشہ آور چیز کھلا کرہوس کا نشانہ بنایا۔ہوش میں آنے پر لڑکی مین روڈ پر پہنچی تو گاؤں کے ایک شریف النفس شخص نے اس کے والدین کو اطلاع دی جو اسے ساتھ لے گئے۔علاقے کے عوام نے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے اور عبرت کا نشان بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
درندگی میں ملوث تینوں ملزمان کا تعلق بیروٹ سے ہے ، ان میں اوباش علی اور حمزہ اختر کا تعلق کہوٹی سے جبکہ حسیب کا تعلق ٹہنڈی سے بتایا جاتا ہے۔
واقعے سے متعلق تفصیلات کے مطابق کم و بیش بیس سالہ لڑکی جو ذہنی معذور تھی، اس نے راولپنڈی کے فیض آبادبس اسٹاپ پر 6340 ٹویوٹا پرعلی نامی لڑکے سے پوچھا کہ لاہور کی بس کہاں سے ملے گی؟ اس نے لاہور کی گاڑی کے بجائے اس سے مری جانے والی ٹویوٹا گاڑی میں بٹھا لیا اور بیروٹ لے آیا۔یہاں آ کر حسیب اور حمزہ نامی ٹیکسی ڈرائیوروں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ذرائع کے مطابق تینوں ملزمان لڑکی کو حسیب کے گھر لے گئے اور نشہ آور دوا پلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ہوش میں آنے پر لڑکی بازار میں آٸی ،جہاں علیم نامی شخص نے اسے طبی امداد بھی دلائی اور اس کے والدین کو لاہور سے بلایا اور ان کے حوالے کیا۔اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر شدید رد عمل اور عوام میں اشتعال کے باعث بکوٹ پولیس نے رات گئے ایک ملزم حسیب کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
علاقے کے عوام نے ملزمان کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ملزم کو بچانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں انہیں دی جائے گی۔
