اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کھوتا کڑائی

Khota Kadai

کھوتا کڑائی

شکیل اعوان ۔۔۔۔ ایبٹ آباد 

شکیل اعوان ۔۔۔۔ ایبٹ آباد 

شکیل اعوان ۔۔۔۔ ایبٹ آباد

کھوتا انتہائ شریف النفس جانور ہے صدیوں سے انسان کی بار برداری کے کام آتا رہا ہے آج بھی جہاں سڑک نہیں پہنچی انسانوں کی باربرداری اسی کے زمے ہے اب یہ الگ بات کے حیوان ِ ناطق نے اسے بھی پیٹ کے دوزخ کی خوراک بنا لیا ہے ہمارے علاقے میں برسوں یہ شریف جانور سب کے کام آتا رہا ایک بار ساون کے موسم میں ندھی ہرو جوبن پر تھی گونی والے راجہ چچا لورہ سے سامان لے کر واپس آرہے تھے کے کھوتے ہرو کے درمیان پہنچے تو بھاڑ آگئ کھوتے سامان سمیت” رڑھ” گۓ جب خبر گاوں پہنچی تو گاوں کے لوگ مدد کو پہنچے چچاراجہ تو زندہ مل گۓ مگر کھوتے نہ مل سکے جب چچا راجہ کو ہوش آئ تو بولے مہاڑے بہتر کُتھہہ اے” تو قائد ِتحریک راجہ حنیف نے کہا دو” تارہہ ٹی وی دِکھّنے راجہ چچا نے پوچھا وہ کیسے تو راجہ صاب نے کہا” لتاں اُپر تہہ منہ تھلہہ ” ایک بار ہم اسلام آباد میں تھے تو ایک دوست نے ہماری دعوت کی ” بار بئ کھاو” یعنی باربی کیو ہم کھا کر واپس آۓ ایف نائن پارک کے سامنے سے گُزرے تو تو ہمارے دل کے اندر خرمستیاں کرنے کی سُوجھی ہم نے دوست سے کہا یار زرا رکو کچھ” بلدیاں” مار لیں کہیں یہ وہی تو نہیں کھا آۓ جو آپ سمجھ رہے؟ ہیں ویسے بھی مسالہ لگا ہو تو کہا پتہ چلتا ہے” کُکڑ” کڑائ ہے کے” کاں” کڑائ کھوتا ازل سےانسان دوست جانور ہے ہمارے ایک دوست بتا رہے تھے امارات کی ریاست الفجیرہ میں اگر کھوتا سڑک پر آجاۓ تو آپ جب تک وہ خود راستے سے نہ ہٹے آپ اُسکو نہیں ہٹا سکتے کے یہ وہاں کے شیخ کا حکم ہے بچپن میں جو پہلی سواری ہم نے دیکھی وہ یہی تھی چچاکمال ہمیں کبھی اسکول سے آتے بیٹھا لیا کرتے تھے پھر اس وقت نے بھی آنا تھا ہماری اصطبلشمنٹ نے بہت سے کھوتے گود لے لیے جنکی” دولتیاں” اس مُلک کو بہت مہنگی پڑی ہیں ،کے کھوتوں کی فطرت میں” دولتیاں” ہیں شیخ سعدی علیہ رحمت نے ایک شعر میں یوں فرماکر کھوتے کو خراج ِتحسین پیش کیا ہے

خرِ عیسی اگر بہ مکہ راورد
باز آید ہنوز خر باشد

اور ہمارے مرحوم دوست سلیم ترامی نے کہں فرمایا تھا
کھوتا کٹھے بِچ کن تہوندا
چھکڑا ماہیے دا ملتانوں ام ٹہوندا

اب چھکڑے اور کھوتے کا موازنہ بنتا بھی ہے کہیں نہیں یہ مرحوم سے پوچھنا رہ گیا ، خیر ہر جانور کی اپنی افادیت ہے اب کسی کو شیر کہیں تو چھاتی چوڑی کر کے خوش ہوتا ہے اور کھوتا کہہ دیں تو مارنے پر تُل جاتا ہے ہے حالانکہ ہیں دونوں ہی جانور شیر درندہ صفت اور کھوتا انسان دوست مُلا نصیر الدین کی حکایات میں کھوتے کا بڑا عمل دخل ہے بچپن میں بہت پڑی ہیں مرکزی حکومت کے عین ناک کے نیچے کھوتوں کے ساتھ ظلم وبربریت کی رپورٹ چشم کُشا ہے اصل میں یہ گوشت پنج ستارہ ریستوران تک جاتا ہوگا اور کب سے یہ کام چل رہا ہوگا باخبر زرائع دڑ وٹ پالیسی پر عمل پہرا ہیں ورنہ حکمران کلاس جس طرح کی "دولتیاں "ماررہی ہے اور خرمستیاں کر رہی ہے ہو نہ ہو گوشت اثر کررہا ہے کے یہی فطرت کا اصول بھی ہے خوراک جیسی ہوگی انسانی فطرت پر اثر انداز ہوگی پہاڑی زبان میں بہت سی ضرب المثال موجود ہیں مگر کچھ خوف ِ فساد ِ خلق کی وجہ سے نہیں لکھی جاسکتی مگر بے ضرّر جیسے
"کھوتہاں کدوں مرنڈے کھادے ”
جیسے
اپنا کھوتا وی شیر لگنا ”
سو اے اشرف المخلوقات بےزبانوں پر رحم کیا کرو کے تم پر رحم کیا جاوے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481