اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قسط نمبر 6 – محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی

landscape 3 2 1751130998652 1

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(چھٹی قسط)

میں پرائمری سکول میں پڑھ رہا تھا کہ والدہ کو تپ دق جیسا مرض لاحق ہو گیا۔ اس وقت اس بیماری کو بہت مہلک اور خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ ملکوٹ میں نہ صحت کی سہولیات تھیں اور نہ ہی ذرائع آمد و رفت۔ مریضوں کو چارپائی پر اٹھا کر پہلے اوسیاہ لایا جاتا اور پھر وہاں سے گاڑی ملتی تھی اور مریض کو مری یا راولپنڈی پہنچایا جاتا تھا۔ کئی مریض بروقت علاج میسر نہ ہونے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔ والدہ مرحومہ (اللہ پاک کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے) کو ساملی سینی ٹوریم داخل کروانا پڑا کیونکہ مرض بہت بڑھ گیا تھا۔ میں اور مجھ سے بڑی دو بہنیں گھر میں رہ گئے۔

والدہ کے بغیر زندگی اداسی اور ویرانی کی تصویر بن کر رہ گئی۔ مہینے میں ایک دو بار ہی ملنے جانا ہوتا تھا۔ اللہ کا کرم تھا کہ اچھے علاج اور بہتر ماحول کی وجہ سے والدہ کی صحت میں بہتری آنا شروع ہو گئی تھی لیکن انھیں تین چار ماہ تک ہسپتال میں داخل رکھا گیا۔

 

میرا خیال ہے چھوٹی عمر میں والدہ سے دور رہنے سے بچے پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ شاید میرے حد سے زیادہ حساس، سنجیدہ اور تنہائی پسند ہونے کا زیادہ تعلق والدہ سے اس عارضی جدائی سے جڑا ہے۔

مجھے تو علم نہیں، ماں نے پر بتایا تھا
میں بچپنے میں بھی یوں ہی اداس رہتا تھا
(راشد عباسی)

ہماری والدہ سادہ دل، خدا ترس، عبادت گزار اور سراپا خلوص و محبت تھیں۔ ہماری ذات میں اگر کوئی وصف، خوبی یا اچھائی ہے تو یہ انہی کی تربیت کا اثر ہے۔ ہم سکول میں پڑھتے تھے تو ہمیں سمجھایا کرتی تھیں کہ کسی کے کھیت سے اگر دانتوں میں خلال کرنے کے لیے مالک کی اجازت کے بغیر ایک تنکا بھی توڑا یا اٹھایا جائے تو یہ گناہ ہے۔ بدکلامی اور بداخلاقی خاندانی لوگوں کا وطیرہ نہیں۔ خوددار لوگ فاقے برداشت کر لیتے ہیں لیکن کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت نہیں اٹھاتے۔ وقت مشکل ترین ہو یا آسانیوں سے بھرپور، آخر گزر جاتا ہے۔ انسان کو اپنا کردار ایسا رکھنا چاہیے کہ وقت گزرنے پر اسے اپنے عمل اور کردار پر ندامت اور پچھتاوا نہ ہو۔ محنت کر کے حاصل کی ہوئی سوکھی روٹی بھیک میں ملے ہوئے سونے کے نوالے سے لاکھوں درجے بہتر ہے۔ جہاں رہو عزت اور وقار سے رہو۔

ہمارا ننھیال ملکوٹ سے متصل گاؤں آرواڑ، یوسی پلک میں ہے۔ ہماری نانی جان والدہ کے بچپن میں ہی فوت ہو گئیں تھیں۔ والدہ بہنوں اور بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ بتایا کرتی تھیں کہ شدید غربت اور مصائب کا عہد تھا۔ دو وقت کی روٹی بہت کم لوگوں کو میسر تھی۔ لوگوں کی اکثریت پھٹے پرانے کپڑوں میں ہی مرمت کر کے گزارا کرتی تھی جب کہ پاؤں میں جوتے نصیب والوں کو ہی نصیب ہوتے تھے۔ اس مشکل دور میں جب والدہ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا تو والدہ محترمہ کے سر پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ گھر کے سارے کام کاج، چولھا ہانڈی، بہنوں، بھائیوں کا خیال رکھنا ۔۔۔ سب ان کی ذمہ داری بن گیا۔ اکثر ان مصائب کو یاد کر کے نم دیدہ ہو جاتی تھیں۔ پھر نانا جان نے دوسری شادی کر لی۔ یوں گھر میں والدہ کی موجودگی سے ایک تو عدم تحفظ کا احساس ختم ہو گیا اور دوسرے اگر کوئی کام نہ سمجھ آ رہا ہوتا تو ان سے رہنمائی مل جاتی۔

والدہ بتایا کرتی تھیں کہ ان کے بچپن کے دور میں تعلیم کے بارے میں لوگوں میں شعور نہ ہونے کے برابر تھا۔ بچیوں کی تعلیم کا تو ہمارے دیہات میں تصور ہی نہیں تھا کیونکہ گاؤں میں سکول ہی موجود نہ تھے۔ ذرائع آمد و رفت نہ ہونے کی وجہ سے سفر جہاں وقت طلب تھا وہیں دشوار تر بھی تھا۔ اس لیے دور دراز پڑھائی کے لیے جانا بھی ممکن نہ تھا۔ بچے دس بارہ سال کے ہوتے تو والدین کا زمینداری میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیتے یا کراچی ، لاہور جا کر نوکری شروع کر دیتے۔ کراچی غریب پرور شہر تھا اس لیے زیادہ تر لوگ کراچی ہی جاتے تھے۔

ٹیلی فون وغیرہ کی سہولت صرف بڑے شہروں میں دستیاب تھی اس لیے رابطے کا ذریعہ خط ہی تھا۔ جمعہ کے علاوہ ہر روز شام کو لوگ خط کے انتظار میں ڈاک خانے کے سامنے گھنٹہ بھر کھڑے رہتے۔ جن کا خط آیا ہوتا وہ خوشی خوشی گھر لوٹتے اور باقی اگلے دن تک پھر انتظار کی چکی میں پستے رہتے۔

والدہ کی شادی کے وقت والد صاحب لاہور میں ملازمت کر رہے تھے۔ ہمارا خاندان بھی گاؤں کے اکثر گھرانوں کی طرح محنت کش خاندان تھا۔ والدہ بتاتی تھیں کہ دلہن ڈولی میں جو سرخ دوپٹہ اوڑھتی تھی وہ گاؤں کے کسی کھاتے پیتے گھر سے عاریتا لیا جاتا تھا۔ یوں یہ ایک دوپٹہ کتنی ہی دلہنوں کے کام آ جاتا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ "ماڈرن” نہیں تھے اس لیے دلہن برقعہ بھی استعمال کرتی تھی۔

کچھ عرصہ ملکوٹ رہنے کے بعد والدہ بھی والد صاحب کے ساتھ لاہور چلی گئیں۔ یہ مشکل ترین زندگی میں آسانی اور آسائش کا شاید پہلا قدم تھا۔ والدہ بتاتی تھیں کہ جب لاہور میں والد صاحب نے انھیں گھر میں استعمال کے لیے چپل اور باہر جانے کے لیے چمڑے کے جوتے لے کر دیے تو وہ اپنی رہائش پر آ کر رونا شروع ہو گئیں۔ والد صاحب پریشان ہو گئے کہ خدا جانے کیا معاملہ ہو گیا۔ انھوں نے اس طرح رونے کی وجہ پوچھی لیکن والدہ بدستور روئے جا رہی تھیں۔ جب کافی دیر رونے کے بعد دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو انھوں نے والد صاحب کو بتایا کہ ان کے تایا زاد بھائی کی دیول، مری میں شادی تھی۔ شادی پر عورتوں کی ذمہ داریوں میں دور دراز کے چشموں سے پانی بھر کر لانا بھی شامل ہوتا تھا۔ والدہ کے تایا فوج میں صوبیدار تھے۔ اس لیے شادی دھوم دھام سے ہو رہی تھی۔ طرح طرح کے کھانے پک رہے تھے۔ قریب و دور سے مہمان مدعو تھے۔

والدہ کے پاس کیونکہ جوتے نہیں تھے اس لیے وہ ننگے پاؤں پانی بھر بھر کے لاتیں رہیں۔ کچے، جھاڑی دار رستے تھے اس لیے بار بار آنے جانے پر پاؤں میں کافی کانٹے پیوست ہو گئے اور ان کے لیے مزید چلنا محال ہو گیا۔ انھوں نے پاؤں دھوئے اور کسی عورت سے کہا کہ وہ سوئی کی مدد سے کانٹے نکال دے۔ عورت نے کانٹے تو نکال دیے لیکن ساتھ ہی اسے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ مٹی پر ننگے پاؤں چلنے کی وجہ سے والدہ کے پاؤں کی ایڑیاں بری طرح پھٹ گئی تھیں اور ان میں سے خون رس رہا تھا۔ اس عورت نے والدہ کو اپنے گھر سے چپل منگوا کر پہنائے اور اپنے گھر لے گئی۔ گھر جا کر اس نے والدہ کے پاؤں صابن کے ساتھ دھوئے، انھیں خشک کر کے ایڑھیوں پر دیسی گھی لگا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد والدہ نے درد سے چیخنا شروع کر دیا۔ دراصل دیسی گھی میں نمک شامل تھا جو ایڑھیوں کے گہرے زخموں پر لگا تو اس کے نتیجے میں ہونے والا درد والدہ کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا اور وہ تھوڑی دیر کے لیے بے ہوش ہو گئیں۔ خیر وہ زخم تو تھوڑے دنوں بعد بھر گئے لیکن رویوں اور سلوک کے زخم کبھی نہ بھر سکے اور والدہ جب بھی ان دنوں کا ذکر کرتیں تو آبدیدہ ہو جاتیں تھیں۔

(جاری ہے)

راشد عباسی ۔۔ راولپنڈی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481