اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ جاری

پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ جاری

پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ جاری

 

لیکشن کمشنر پنجاب بطور ریٹرننگ افسر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی کے ایوان کو پولنگ اسٹیشن میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اراکین اسمبلی کو باقاعدہ ہدایت نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ن لیگ کی جانب سے چیف وہپ رانا ارشد پولنگ ایجنٹ مقرر کئے گئے ہیں، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے رانا شہباز پولنگ ایجنٹ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

 

الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ پولنگ کا وقت صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں خفیہ رائے شماری کے تحت بیلٹ پیپرز کے ذریعے ووٹنگ ہوگی، جو آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت منعقد کی جا رہی ہے۔

 

پولنگ کے دوران اراکین کو بیلٹ پیپر حاصل کرنے کے لیے اسمبلی کارڈ یا قومی شناختی کارڈ دکھانا لازم ہوگا۔ بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے نام اردو حروفِ تہجی کے مطابق ہوں گے، اور ووٹرز کو اردو یا انگریزی ہندسوں میں ترجیح درج کرنا ہوگی۔ ترجیحی ووٹ میں ہندسہ ”1“ دینا ضروری ہوگا، بصورت دیگر ووٹ مسترد تصور کیا جائے گا۔ ایک سے زائد امیدواروں کے سامنے ہندسہ ”1“ لکھنے، یا بیلٹ پر کوئی نشانی یا تحریر درج کرنے سے ووٹ کالعدم ہو سکتا ہے۔

 

پولنگ کے دوران موبائل فون پولنگ اسٹیشن کے اندر لے جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے، اور اگر کوئی رکن ساتھ لائے تو اسے پولنگ عملے کے پاس جمع کرانا ہوگا۔ ووٹرز کو پردہ دار مقام پر جا کر ووٹ ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ووٹنگ کے دوران کسی دوسرے رکن یا امیدوار سے بات کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔

 

اسمبلی کا ایوان اس وقت 369 اراکین پر مشتمل ہے، کیونکہ 371 کی مکمل تعداد میں سے دو نشستیں خالی ہیں، اور اپوزیشن رکن میاں اسلم اقبال نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا۔ جیت کے لیے امیدوار کو کم از کم 184 ووٹ درکار ہوں گے۔

 

حکومتی اتحاد کو واضح عددی برتری حاصل ہے، جن کے پاس اس وقت 261 ووٹ موجود ہیں، جبکہ اپوزیشن کے پاس 108 ووٹ ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس 229، پیپلز پارٹی کے پاس 16، مسلم لیگ (ق) کے پاس 11، اور سنی اتحاد کونسل کے پاس 75 ووٹ ہیں۔ آزاد اراکین کی تعداد 28، استحکام پاکستان پارٹی کے 7، جبکہ تحریک لبیک، مجلس وحدت مسلمین اور مسلم لیگ (ضیاء) کے پاس ایک ایک ووٹ ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481