اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پانچویں قسط ۔۔ محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی

landscape 3 2 1751130998652 1

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(پانچویں قسط)

ہماری اہم فصل مکئی تھی۔ گندم اور جو کی بھی کاشت کہیں کہیں ہوتی تھی لیکن بنیادی فصل مکئی ہی تھی۔

images 60مکئی پکنے پر کاٹ کر پولے بنا دیے جاتے تھے۔ پھر چھلیاں لکڑی کے ایک نوکیلے آلے "ترکھونی” کی مدد سے چھیل کر ایک ڈھیر کی صورت جمع کر لی جاتی تھیں۔

مکئی کے پولے کھیت میں کھڑے کر دیے جاتے تھے تاکہ دھوپ میں خشک ہو جائیں۔ جب یہ مکمل خشک ہو جاتے تو ان کو ایک ترتیب سے جمع کر دیا جاتا، جسے "بگا” کہتے تھے۔

مکئی کو کھاریوں کی مدد سے ایک کمرے میں منتقل کر دیا جاتا۔ اسے دھوپ میں خشک کر کے، مناسب وقت پر کوٹ کر دانے الگ کر لیے جاتے تھے۔ ایک خاص پیمانے "چہواء” کی مدد سے دسواں حصہ عشر نکالا جاتا، جسے غریبوں، مسکینوں میں بانٹ دیا جاتا۔ ہمارے ہاں مولانا عبداللطیف صاحب اپنے ہاتھوں سے عشر الگ کیا کرتے تھے۔

مکئی سے آٹا بنوانے کے لیے مقامی طور پر پن چکیاں موجود تھیں، جنھیں جندر کہا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں مختلف مقامات پر جندر ہوتے تھے جن میں سے دیول والے جندر زیادہ مشہور تھے۔

سیب کے باغات اکثر علاقوں میں تھے۔ ملکوٹ میں صوفی سلمان صاحب کا باغ اور حاجی مجید صاحب کا باغ مشہور تھے۔ ملکوٹ میں "امری” سیب زیادہ تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بنکی سیب بھی تھا، جو موسم سرما کے آغاز پر کہیں جا کر پکتا تھا۔ ہاڑی سیب بھی کہیں کہیں تھا، جو سب سے پہلے پک کر تیار ہوتا تھا۔

خوبانی، آڑو، آلوچا ، ناخ، بٹنگی وغیرہ کے کافی درخت تھے لیکن ان کا منظم باغ پورے علاقے میں کہیں موجود نہ تھا اور نہ سیب کی طرح اسے تجارتی فصل کے طور پر فروخت کیا جاتا تھا۔ بلکہ یہ پھل اکثر پڑوسیوں اور رشتہ داروں میں بانٹ دیے جاتے تھے۔

ہمارے علاقے کا بڑا نفسیاتی مسئلہ یہ تھا کہ آزادی فکر مفقود تھی۔ شاید ہندو سماج کا اثر تھا یا قبائلی سوچ کہ طبقات میں بٹا معاشرہ صرف اس بنا پر عزت و تکریم کا فیصلہ کرتا تھا کہ یہ فلاں قبیلے، برادری یا ذات سے تعلق رکھتا ہے۔

یہاں تک کہ مرکزی جگہ کے لوگ دور دراز علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو کمتر سمجھتے تھے۔

یہ ذہنی بیماری سارے پہاڑی علاقے میں پھیلی ہوئی تھی۔ جیسے اوسیاہ، دیول، بیروٹ والے نالے سے پار بسنے والے لوگوں کو حقارت سے "کانڈاں” کے لوگ کہتے تھے۔ اسی طرح کشمیر کے لوگوں کو "پارے نیں لوک” بولا جاتا تھا۔ بکوٹ وغیرہ میں مرکزی گاؤں کے لوگ "بڑے کھن” کے لوگوں کو اپنے مقابلے میں کمتر سمجھتے تھے۔

اب بھی یہ بیماری مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لیکن اب "پارے نیں لوک” کہلانے والے اہل کشمیر نے اپنے علم و شعور، دانش اور تجربات کے ذریعے نہ صرف خود کو اہل نخوت سے بہتر ثابت کیا ہے بلکہ اب "اورارے نیں لوک” ان کی مثالیں پیش کرتے نہیں تھکتے۔

اسی طرح "کانڈاں نیں لوک” بھی اللہ کے فضل، اپنی جہد مسلسل اور محنت و ریاضت سے وہ مقام و مرتبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے کہ "پدرم سلطان بود” والے ان کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ "بڑے کھن والے” اب ایسے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں کہ مرکزی گاؤں والے اپنے کاموں کے سلسلے میں ان سے وقت لے کر ان کے دفاتر میں حاضر ہوتے ہیں۔

جانے کیوں ہم نے کبھی اپنے لوگوں میں موجود بڑے لوگوں کو بڑا تسلیم نہیں کیا۔ ہم نے ہمیشہ بڑے لوگ باہر سے درآمد کیے اور ان کی پوجا کی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی نظر میں مقامی لوگوں کی حیثیت کمی کمین لوگوں کی سی بھی نہیں ہوتی۔

پہاڑ کے لوگوں کا ایک اور ذہنی مسئلہ پرستش اہل زر ہے۔ حال آنکہ مال و اسباب والے لوگوں کی نظر میں عام آدمی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

ہمارے گاؤں دیہات کے لوگوں کو بھٹو دور میں خلیجی ممالک میں ملازمتوں کے مواقع ملے۔ یہ لوگ عموما دو سال بعد مہینے کی چھٹی آتے۔ میں نے ذاتی طور پر مشاہدہ کیا کہ لوگ ان کی دعوتوں کے لیے قرض بھی لے لیتے تھے حال آنکہ انھیں احساس تک نہ ہوتا کیونکہ ان میں سے اکثر کوئی پڑھے لکھے اور باشعور لوگ نہ تھے بلکہ موقع ملنے کی وجہ سے حادثاتی طور پر مال دار ہو گئے تھے۔ وہ نئے کپڑے پہنے، پاؤڈر کریم اور پرفیوم استعمال کر کے جب دعوت والے گھر پہنچتے تو گھر کے مرد احساس کمتری کا شکار ہوتے اور خواتین انھیں رشک کی نظر سے دیکھتیں۔ بچوں کو سمجھ تو نہیں تھی کہ یہ لوگ باہر جا کر کیا کام کرتے ہیں، ان کی تعلیمی استعداد کیا ہے، کیا واقعی یہ قابل تحسین و تقلید ہیں لیکن ان کو ملنے والی عزت و تکریم دیکھ کر بچے بھی سوچتے کہ ان کو بھی بڑے ہو کر باہر جانا ہے اور بہت سا پیسہ کما کر لانا ہے تاکہ لوگ ان کے بھی آگے پیچھے پھریں۔

خواتین کی مرعوبیت کا یہ عالم تھا کہ اگر باہر سے چھٹی آئے ہوئے شخص کے ساتھ کوئی اس کا ایسا عزیز بھی آ جاتا جو گاؤں میں ہی مقیم ہوتا اور عام لوگوں جیسی مالی حیثیت کا حامل ہوتا تو اس کو مہمان کے ساتھ دسترخوان پر بٹھانے کے بجائے، الگ سے بچوں کے ساتھ بٹھا کر رات کے بچے ہوئے سالن کے ساتھ کھانا دے دیا جاتا۔ اس کا تجربہ ذاتی طور پر مجھے ہوا جب میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا (اس وقت بھی میری چھوٹی موٹی تحریریں اخبارات کے رنگین صفحات اور جمعہ میگزین میں چھپتی تھیں)۔ میرے ایک کزن سعودی عرب سے چھٹی آئے تو انھیں دعوت پر بلایا گیا۔ گھر میں کسی کی طبیعت اچانک خراب ہونے کی وجہ سے خواتین کا جانا ممکن نہ تھا اس لیے ہم دونوں کو جانا پڑا۔ کیونکہ ٹیلی فون اور موبائل کی سہولت گاؤں میں نہیں تھی اس لیے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ جب ہم پہنچے تو ہم برآمدے میں بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد انھیں اندر مہمانوں کے کمرے (دالان) میں بلا لیا گیا جب کہ میں اور ان کا صاحبزادہ وہیں بیٹھے رہے۔ ہمیں پرچ کے بغیر کپ میں چائے پیش کی گئی۔ لیکن میں نے معذرت کر لی کہ میں چائے نہیں پیتا (میں مہمان کو پرچ کے بغیر چائے پیش کرنے کو بدتہذیبی سمجھتا ہوں)۔ تھوڑی دیر کے بعد ہمارے سامنے پھر تپائی (چھوٹا میز) رکھ دیا گیا۔ دو پلیٹوں میں سالن اور چند روٹیاں رکھ دی گئیں۔ میں نے ان کے صاحب زادے کو بتایا کہ چونکہ میں دن کو گھر سے خاصا دور اوسیاہ سکول میں ہوتا ہوں اس لیے لنچ میرے معمول میں نہیں ہے۔

میں ان کے گھر کے قریب ہی رہنے والے ایک رشتہ دار سے ملنے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بیٹھنے اور گفت و شنید کے بعد وہ مجھے اپنے کھیت دکھانے لے گئے۔ انھوں نے دیسی کھیرے اور کچھ پھل توڑ کر پیش کیے۔

واپس ان کے گھر آئے تو ان کی بیٹی مکئی کے دانے توے پر بھون کر لے آئی۔ ایک پلیٹ میں اخروٹ کی گریاں بھی تھیں۔ عمر میں وہ ہم سے کافی بڑے تھے، انھیں ہم چچا کہتے تھے لیکن ان سے ہماری دوستی تھی۔ نہایت باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ تھوڑی دیر بعد چائے اور ابلے ہوئے انڈے لے آئے۔ میں نے بہت انکار کیا لیکن ان کے اصرار کے سامنے ہار ماننا پڑی۔ ان کی وفات تک ان سے دوستی کا یہ رشتہ برقرار رہا۔ اللہ پاک انھیں غریق رحمت فرمائے ۔ آمین

راشد عباسی ۔۔۔ راولپنڈی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481