اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اسٹاک ایکسچینج کی نفسیاتی حد اور عام آدمی

اسٹاک ایکسچینج کی نفسیاتی حد اور عام آدمی

اسٹاک ایکسچینج کی نفسیاتی حد اور عام آدمی

تحریر سجاد انور

جب اسٹاک مارکیٹ کسی بڑی "نفسیاتی حد” کو کراس کرتی ہے — جیسے 80,000، 100,000 یا اس سے بھی آگے — تو یہ صرف ایک عدد نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا علامتی لمحہ ہوتا ہے جو پورے سماج کی نفسیات پر اثر ڈال دیتا ہے۔

امیر طبقہ اس پر شیمپین کھولتا ہے، مگر غریب آدمی کے دل میں ایک ان دیکھے اضطراب کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے، "یہ سب اوپر جا رہے ہیں — اور میں؟ میں تو وہیں ہوں جہاں کل تھا، بلکہ شاید اُس سے بھی پیچھے۔”

میڈیا اس کو "معاشی کامیابی” کی نوید بنا کر پیش کرتا ہے، ٹی وی اسکرین پر سبز رنگ کی چمکدار لائنیں، تجزیہ کاروں کے جوشیلے جملے، اور کارپوریٹ کامیابیوں کے قصے —
مگر ایک چھابڑی فروش، ایک تنخواہ دار، ایک بےروزگار نوجوان صرف یہ سوچتا ہے:
"اگر سب کچھ اتنا اچھا ہے تو میرا چولہا کیوں بجھا ہوا ہے؟”

یہ "نفسیاتی حد” دراصل ایک اجتماعی شکست خوردگی کو جنم دیتی ہے۔
غریب کے لیے یہ ترقی نہیں، تماشا بن جاتی ہے — ایک ایسا شو جس میں وہ تماشائی بھی نہیں، صرف پس منظر کا سیاہ سایہ ہے۔
نتیجہ؟ معاشرتی بےچینی، احساسِ محرومی، اور طبقاتی خلیج میں مزید اضافہ۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب صرف معیشت نہیں، اعتماد بھی دو حصوں میں بٹ جاتا ہے:
ایک طرف مصنوعی بلندیوں پر اڑتی ہوئی امیدیں، اور دوسری طرف زمین پر جمی ہوئی مایوسی۔

اور تب غریب صرف یہ نہیں کہتا کہ "مجھے کچھ نہیں ملا” —
بلکہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ "شاید یہ نظام ہی میرے لیے نہیں ہے”.
اور یہی وہ اصل نفسیاتی دھچکہ ہوتا ہے،
جو اسٹاک مارکیٹ کی لائنوں میں نہیں،
بلکہ لوگوں کے دلوں میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481