اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بلند ترین شرح خواندگی ۔مری کا اعزاز برقرار

Murree retains highest literacy rate

بلند ترین شرح خواندگی ۔مری کا اعزاز برقرار

logo بلند ترین شرح خواندگی ۔مری کا اعزاز برقرار

پروفیسر محمد اشفاق عباسی

 

آج دن پروفیسر ڈاکٹر عابد عباسی نے ایک معتبر رپورٹ اپنی وال پر شیئر کی جو پنجاب میں شرح خواندگی کے اعتبار سے اضلاع کی درجہ بندی پر مبنی تھی۔اس رپورٹ میں پنجاب کے41 اضلاع میں٪84 شرح خواندگی کے ساتھ ضلع مری اول رہا،جبکہ پنجاب کے10 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز یعنی راولپنڈی سرگودھا فیصل آباد گوجرنوالہ سیالکوٹ لاہور ساہیوال ملتان بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے علاؤہ دیگر 30اضلاع بھی مری سے پیچھے رہے۔مری کےسوشل میڈیا سرگرم صارفین نے اس پوسٹ کو بجا طور پر فخر کے شیئر کیا۔پاکستان اور پنجاب بھر کے عوام کے لیے شاید یہ کوئی اچنبھے کی بات ہو لیکن واقفان حال بخوبی جانتے ہیں کہ تحصیل و ضلع مری کی شرح خواندگی ہمیشہ سے قابل ذکر اور نمایاں رہی ہے۔اگرچہ اس کا تقابلی جائزہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے لیکن یہ حقائق ایک مدت سے موجود تھے لیکن ان کا اعتراف جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔اس تمام عرصے میں ان اضلاع کے تعلیمی افسران کو تحصیل و ضلع مری میں تعینات کیا جاتا رہا میں سےنصف سے زائد مذکورہ فہرستِ کے ثانوی حصے میں شامل ہیں۔مذکورہ بالا تعلیمی افسران مری کے پرینتی ایلیمنٹری اور ہائی سکولوں کے بارے میں گمراہ کن رپورٹیں مرتب کرکے اوپر بھیجتے رہے جس کےنتیجےمیں آج تحصیل و ضلع مری میں بچوں اور بچیوں کے سرکاری سکولوں کی تعداد کم ہوکر نصف یعنی 500 کی بجائے250ترہ گئی ہے۔یہ رپورٹ ان اداروں ایجنسیوں اور افراد کے مکروہ چہروں پر ایک زوردار تمانچہ ہےجو خود کو طرم خان اور کوہسار مری کے عوام کو کمتر درجے کا شہری سمجھتے رہے ہیں۔
اس عظیم الشان تعلیمی ترقی کےپیچھے یہ دلچسپ حقیقت کار فرما رہی ہے کہ کوہسار مری کے لوگ ہمیشہ سے آزاد اور خودمختار رہے ہیں یہاں غلام داری اور مزارعہ گیری کی لعنت نہ ہونے کے برابر رہی ہے اور باستثنا اگر کہیں کوئی بے زمین لوگ تھے یا رہے بھی تو وہ خود رائے اور خودار بھی تھے جس کے باعث وہ تعلیمی میدان میں کبھی کسی بڑے خانوادے کی اولادوں سے پیچھے نہیں رہے۔
مکتب سکول سے پریمری مڈل ور ہائی سکولوں میں تدریس کے علاؤہ راقم کو گورنمنٹ کالج مری اور کوہساریونیورسٹی مری میں تدریس کااعزازبھی حاصل رہاہے۔اسےشرح خواندگی کے تعین اس کے معیاری اشاریے اور تعلیم مدارج نیز معیاری تعلیم اور خواندگی کی تعریف کے علاؤہ اس کی فی صدی کے نکالنے کے طریق کار سے بھی آگاہی کا دعویٰ ہے مذکورہ بالا تمام معیارات اس امر کی شہادت کے لیے کافی ہیں کہ شرح خواندگی کی اس شرح کا حصول سرکاری تعلیمی اداروں کے توسط سے ہی ممکن ہوا ہے بصورت دیگر خواص کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل مقامی افراد کی شرح بہت کم ہے کیونکہ یہاں سے پڑھنے والوں کی اکثریت دوسرے شہروں سے تعلق ہونے کے باعث معیار بندی میں کام ہی نہیں اتی۔
اس ساری صورتحال میں ان مقامی اساتذہ کے کمال کا اعتراف نہ کرنا بھی بد دیانتی ہوگی جنہوں نے سرکا کے سوتیلے پن اور کوہسار کے دشوار گزار علاقوں میں موسموں کی شدت اور تعلیم سال کے مختصر ہونے کے باوجود اپنا کام کر دکھایا اگرچہ سرکار انہیں ہمیشہ توہین اور تحضیر امیر ناموں سے یاد کرتی رہی۔
اگر ضلع مری کی شرح خواندگی یعنی ٪84 کو درست مان لیا جائے تو باقی ٪16 آبادی میں 60 برس سے زائد کی خواتین اور 70 برس سے زائد کے مرد حضرات شامل ہیں جو قیام پاکستان سے 1960 تک کے عرصے میں پیدا ہوئے لیکن سکول نہ جاسکے یا ان کے قریب ترین دیہات میں کوئی سکول تھا ہی نہیں۔یہ تمام حقائق اس امر پر اپنی مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ ضلع مری می50 برس سے کم عمر کی ٪100 ابدی نہ صرف خواندہ ہے بلکہ سکول جانے کی عمر کا کوئی بچہ بھی سکول سے باہر نہیں ہے
اس حقیقت کا دوسرا شرم ناک پہلو یہ ہے کہ محکمہ تعلیم نام نہاد اعدادوشمار کی بنیاد پر سرکاری سکولوں کی مسلسل نجکاری کررہا ہے جس سے اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ اور گھناؤنے عزائم صاف نظر آتے ہیں۔ضلع مری کے ہائیر سیکنڈری,ہائی مڈل اور پریمری سکولوں کی نجکاری کے علاؤہ ضلع مری کے دو بڑے کالجز کا خاتمہ کامرس کالج سے سوتیلے سلوک کے علاؤہ گرلز کالج پھگواڑی سے بے اعتنائی نیز تحصیل کوٹلی ستیاں کے کالجز کی حالت زار کے علاؤہ کالجز کے پروفیسرز اور سکول اساتذہ کی ترجیحی بنیادوں پر بھرتی نہ کرنا اس سارے معاملے میں نسل نو کے ساتھ ناانصافی کو عیاں کرتی ہے
ان حالات میں تمام سرکاری سکولوں کی نیشنلائزیشن،ختم شدہ کالجز کی بحالی،کرور اور نیومری میں نئے کالجز کے قیام کے علاؤہ کوہسار یونیورسٹی مری کو حکومت پنجاب کی سرپرستی میں مکمل فعال کرنا اس کی تمام تعلیمی تحقیقی اور انتظامی ضروریات کو پورا کرنا اور تمام پریمری سکولوں میں چھ،چھ مڈل سکولوں میں پندرہ پندرہ اور ہائی سکولوں میں بیس بیس اساتذہ کی تعیناتی کے ذریعے اس خطے کے اعزاز کو تسلیم کرتے ہوئے اسے مزید اعزازات کے حصول کے قابل بنائیں ورنہ اربوں کھربوں روپے کے سیاحتی منصوبے کسی بھی علاقے اور قوم کی تعلیمی ترقی اور Human Resource Development کا متبادل نہیں ہوسکتے
فرام سنبل بیاwith love


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481