اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری کے جنگلات کیوں تباہ ہو رہے ہیں؟

Untitled 1 copy.jpg23 مری کے جنگلات کیوں تباہ ہو رہے ہیں؟

ہمارے مری میں گیس سلنڈر نہ ہونے سے پہلے آگ جلانے کے لیے ایندھن کے طور پر چیڑھ کے درخت ہی کاٹے جاتے تھے اور جلاۓ جاتے تھے اور اب بھی کاٹے جا رہے ہیں۔۔۔۔
سال 2000 سے قبل جب تک ڈیزل والی جدید آرا مشین نہیں آئی تھے تو اس وقت اکثر پورا گاؤں جمع ہو کر ایک ایک ایک گھر کی سردیوں سے قبل لکڑیاں بنانے کی تقریب منعقد کرتا تھا ۔ جس میں سب مل کر ایک بڑا سا درخت کاٹ کر اس کو مکمل چیر کر گھر میں محفوظ کر لیا کرتے اور سردیوں میں جلایا کرتے تھے اور سال کی باقی ماہ بھی کچن میں یہی لکڑی ہی جلائی جاتی تھی۔ اس طرح گاؤں کے سارے لوگ باری باری سب کی لکڑیاں بنا دیا کرتے تھے۔۔۔۔
حکومت نے پہاڑی علاقوں کے لیے اس حوالے سے کبھی بھی کوئی پالیسی نہیں بنائی اور صدیوں سے یہ کام اسی طرح چل رہا ہے اور اب لکڑی بلیک بھی پچھلے دس پندرہ سال سے زیادہ ہونا شروع ہو گئی ہے اور نتیجتاً مری کے جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی سے بنت ہمالیہ ملکہ کوہسار بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور اب یہ "ترقی” کرتے کرتے درجہ حرارت میں بھی اسلام آباد کا مقابلہ کرنے لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔
ضلع و تحصیل مری کی یونین کونسل بن کے گاؤں لنگار سے تعلق رکھنے والے اشفاق احمد ستی کا صاحبزادہ نعمان اشفاق جس کی عمر اکیس سال تھی۔ انٹر کرنے کے بعد مرچنٹ نیوی میں جانے کے لیے کراچی سے ابھی کورس مکمل کر کے واپس گاؤں آیا تھا۔ ہنس مزاج خوش اخلاق یہ بچہ گاؤں میں تھا کہ پڑوسیوں نے چیڑھ کا درخت کاٹنے کے لیے بلا لیا۔۔۔۔
یہ لڑکا روایتی طور پر لکڑیاں کاٹنے یا درخت سنبھالنے میں ماہر نہ تھا۔ اور جب چیڑھ کا درخت گرا تو یہ اس کے نیچے آ گیا اور ادھر ہی زندگی سے مکمل طور پر آزاد ہو گیا۔۔۔۔۔
والدین راولپنڈی میں تھے ان کو اطلاع ملی تو وہ بھی رات کو ہی گاؤں پہنچ آۓ۔۔۔۔ اور قیامت خیز منظر سے سامنا کرنے کے باوجود بھی عقل و صبر کے ساتھ یہ غم برداشت کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔
لیکن ہماری پیاری پنچاب پولیس ہمیشہ کی طرح کام تمام ہونے کے بعد مکمل جاگ گئی اور آ کر کہا کہ ہم لواحقین کی بات نہیں مانتے بلکہ لاش کو لے کر مری سول ہسپتال جاہیں گے اور پوسٹ مارٹم کروائیں گے حالانکہ ہمارے ملک میں شہید جمہوریت سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا بھی پوسٹ مارٹم لواحقین کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکا تھا۔
لیکن یہاں چونکہ معاملہ ایک غریب آدمی کا تھا اور پولیس نے لواحقین کی خواہش کا باکل بھی احترام نہیں کیا اور لاش کو سول ہسپتال لیجانے کے لیے لواحقین سے ہی گاڑی بھی بک کروائی اور سول ہسپتال پہنچ کر لطیف نام کا اے ایس آئی پوسٹ مارٹم کی راہ میں رکاوٹ بننے لگا اور لواحقین کو انتظار کی ذلالت کی بھینٹ چڑھانے لگا۔۔۔۔۔
جب اشاروں کنایوں میں بات لواحقین کو سمجھ نہ آئی تو لطیف نے براہ راست متوفی کے والد اشفاق سے کہا کہ فلاں فلاں بندے کے خلاف ایف آئی آر دے دو اور تین لاکھ ۔۔۔۔۔۔۔
بس اس بات پر متوفی کے والد نے ایک زناٹے دار تھپڑ لطیف کے گال پر رسید کر دیا اور ساتھ میں باقی لوگوں نے بھی حصہ ڈالا جس پر وہ رشوت خور وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا۔
بعد میں دیگر اعلی احکام سے رابطہ کروا کر پوسٹ مارٹم کروایا گیا اور اشفاق صاحب نے اپنے گاؤں میں جنازہ پڑھانے کے بعد اپنے لاڈلے بیٹے کو سپرد خاک کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
اس واقعے پر بات کرنے کے لیے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ تقدیر پر تو ہم سب کا ایمان ہے لیکن اپنے حصے کی تدبیر میں بھی ہم اجتماعی طور پر سارے کے سارے مجرم بنتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔
میرے ناقص خیال میں تدبیر کے بعد تقدیر پر یقین رکھنا زیادہ بہتر ہے ورنہ تدبیر کو بھی تقدیر کے حوالے کرنے سے ہم سب ہی تقدیر کے مجرم بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔
اشفاق احمد ستی انتہائی مثبت انسان ہیں ہم ان کے اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔۔۔۔۔ زبانی تو ہم سب شریک ہیں لیکن جوان بیٹے کی موت کا صدمہ صرف والدین ہی جان سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔
حادثاتی موت حکمی شہادت اور اگلے جہان میں ملاقات کا یقین ہم سب کے بہت سارے ایسے غموں کو ہلکا کرنے کے لیے ایک مضبوط سہارا بن جاتا ہے۔۔۔۔ لیکن مرنے کی جدائی کا غم پر موسم میں جوان ہی رہتا ہے ۔۔۔۔۔
آئیے مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک نعمان اشفاق ستی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہم سب کو مزید ایسے حادثات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین و رب رحمتہ اللعالمین
(ڈاکٹر یاسر حسین ستی الخیری)
ناڑوٹہ شریف


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481