اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ظہران ممدانی: لبرل سوشلسٹ یا مسلمان ترجمان؟

ظہران ممدانی: لبرل سوشلسٹ یا مسلمان ترجمان؟

ممدانی کی حمایت کیوں مسلم کمیونٹی نے ظہران ممدانی کی حمایت کا فیصلہ کیا تو مختلف حلقوں سے سوالات کی یلغار شروع ہو گئی۔ کسی نے ان کی والدہ کا ماضی کھنگال ڈالا، کسی نے ان کے پرانے گانے نکال کر پیش کیے، اور بعض نے انہیں محض “انڈین” ہونے کی بنیاد پر مسترد کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہا گیا کہ آخر ایک مسلمان شخص کسی سوشلسٹ امیدوار کی حمایت کیسے کر سکتا ہے؟ ایسے اعتراضات میں کچھ حقیقت کم اور تعصب زیادہ نظر آیا، اور کئی باتیں سن کر تو بے ساختہ ہنسی آتی ہے۔ لیکن اگر آپ ظہران ممدانی کی شخصیت کو ایمانداری سے پرکھیں تو وہ اُس “روایتی مسلمان” کے تصور پر پورے نہیں اترتے جسے ہمارے معاشرے میں مثالی مانا جاتا ہے—یعنی وہ شخص جس کا خاندان مذہبی ہو، جو پانچ وقت کا نمازی ہو، اور جس کے چہرے پر ریشِ مبارک ہو۔ اگر یہی معیار ہے تو یقیناً آپ کو مایوسی ہو گی۔ (البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کی خوبصورت داڑھی ان کے چہرے پر خوب سجتی ہے 😄) ظہران ممدانی خود کو “ترقی پسند مسلمان” کہتے ہیں۔ ان کے سیاسی نظریات سوشلسٹ اور سماجی رویے لبرل ہیں۔ مگر ان کی حمایت کا جواز صرف مذہبی شناخت نہیں، بلکہ وہ سیاسی، اخلاقی اور نظریاتی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ان کی شخصیت میں مختلف طبقات نے اپنی اپنی امیدوں کا عکس دیکھا ہے—اور وہ نیویارک کی سیاست میں تبدیلی کی علامت بن کر ابھرے ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب تین سال پہلے ان کا نام بھی زیادہ تر لوگوں کے لیے ناآشنا تھا، تو میں نے ان کے ساتھ “Back to School” کا ایک پروگرام ترتیب دیا۔ مقامی مسجد کے کچھ افراد نے مشورہ دیا کہ ان کے ساتھ پروگرام نہ کیا جائے کیونکہ وہ “راسخ العقیدہ مسلمان” نظر نہیں آتے۔ میں نے ان سے کہا: “بھائی، وہ آپ کے علاقے کے اسمبلی ممبر ہیں، خود کو مسلمان کہتے ہیں، فی الحال یہی کافی ہے۔” ظہران کی جو خوبی مجھے سب سے نمایاں دکھائی دی، وہ ان کا صاف، دو ٹوک اور جرات مندانہ مؤقف ہے—خصوصاً بھارت اور اسرائیل جیسے حساس معاملات پر۔ ان کا بیانیہ کئی عرب حکمرانوں سے زیادہ واضح، غیر معذرت خواہ اور باوقار ہے۔ وہ مودی کو “گجرات کا قاتل” کہتے ہیں، نتن یاہو کو “جنگی مجرم” قرار دیتے ہیں، اور یہاں تک اعلان کرتے ہیں کہ اگر نتن یاہو نیویارک آئے تو انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔ یہ مؤقف ان کی سیاسی موت کا باعث بن سکتا تھا، لیکن غزہ کی حالیہ قربانیوں کے بعد فضا کچھ مختلف ہو چکی ہے۔ اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ بیانیہ ظہران نے آج نہیں، برسوں پہلے سے اپنایا ہوا ہے۔ امریکہ کی سیاست میں کامیابی کے لیے پہلا سوال یہ نہیں ہوتا کہ آپ امریکہ کے کتنے وفادار ہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اسرائیل کے کتنے بڑے حامی ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ نیویارک کے میئر کے انتخاب میں امیدواروں سے سوال کیا گیا: “کیا آپ اسرائیل کا دورہ کریں گے؟” تقریباً تمام امیدواروں نے ہاں میں جواب دیا—سوائے ظہران ممدانی کے۔ انہوں نے حاضر دماغی سے جواب دیا: “میں نیویارک میں رہ کر یہاں کے یہودیوں کی فلاح کا خیال رکھوں گا۔” انہوں نے کبھی خود کو اسرائیلی لابی سے جوڑنے کی کوشش نہیں کی، نہ ہی اصولوں پر کوئی سودے بازی کی۔ یہی چیز انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ ظہران نہ صرف فلسطینیوں کے حق میں کھڑے ہوئے ہیں بلکہ یہودیوں کے حقوق کے بھی حامی ہیں۔ انصاف پسند یہودی تنظیم “Jews for Peace” ان کی حمایت کر رہی ہے۔ ان کے ساتھ ایک طرف مسجد کا امام کھڑا ہے، تو دوسری طرف ایک لبرل، بائیں بازو کا یہودی۔ ان کے حلقۂ اثر میں وہ سب بھی شامل ہیں جو شاید ایک دوسرے کے سیاسی نظریات سے اتفاق نہ رکھتے ہوں، مگر ظہران کی دیانت اور جرأت کے قائل ہیں۔ کچھ لوگ طنز کرتے ہیں کہ جس کا باپ انڈین ہو، ماں بالی ووڈ فلموں سے وابستہ رہی ہو، اور بیوی آدھی آستین کی قمیص پہنتی ہو، اس کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے؟ مگر میں کہتا ہوں، جب اس دور میں خود کو “مسلمان” کہنا بھی خطرہ بن چکا ہو، اگر کوئی شخص مسجد میں بھی دکھائی دے، خود کو مسلمان کہنے میں فخر محسوس کرے، اور فلسطین کے لیے کھل کر آواز اٹھائے—تو وہ شخص میرے لیے محترم ہے، کم از کم نیویارک کے سیاسی میدان میں۔ ظہران نیویارک میں مسلمانوں کے میئر ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن وہ صرف مسلمانوں کے نمائندے نہیں—وہ پوری کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے تین مقبول عوامی نعرے ہیں: • کرایوں کو منجمد کرنا • پبلک بسوں کو مفت کرنا • خوراک اور بنیادی ضروریات کو سستا کرنا اور وہ کم از کم تنخواہ کو $20 تک لے جانا چاہتے ہیں۔ شاید وہ اپنے تمام وعدے پورے نہ کر سکیں، لیکن جو بات وہ آج کہہ رہے ہیں، ہم اسی پر یقین رکھتے ہیں۔ کیونکہ حضرت عمرؓ کا قول ہے: “دلوں کا حال تو اللہ جانتا ہے، ہم تو ظاہر پر فیصلہ کرتے ہیں۔” اور ظہران ممدانی کا ظاہر—آج کے بہت سے لیڈروں سے بہتر ہے۔ یقیناً کل اگر کراچی میں انتخابات ہوں تو وہاں کا معیار مختلف ہو گا۔ لیکن نیویارک کے موجودہ سیاسی، سماجی اور اخلاقی حالات میں—ظہران ممدانی ہی وہ انتخاب ہیں، جس پر میرا دل مطمئن ہ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481