اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایران کی امریکا کو براہ راست فوجی مداخلت پر وارننگ

ایران کی امریکا کو براہ راست فوجی مداخلت پر وارننگ

ایران کی امریکا کو براہ راست فوجی مداخلت پر وارننگ

ایران نے امریکا کو براہِ راست فوجی مداخلت سے باز رہنے کی سخت وارننگ جاری کی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کا کہنا ہے کہ ایران نہیں چاہتا کہ تنازع پھیلے، مگر تمام ضروری آپشنز میز پر موجود ہیں اور ایران، ضرورت پڑنے پر دشمن کو سبق سکھانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس سے قبل انھوں نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا جہاں بھی ہمیں ضروری ہدف نظر آئے، ہم کارروائی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دفاع میں کارروائی کریں گے اور یہ بات بالکل واضح اور سیدھی ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق ایران نے امریکا یا اسرائیل سے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ مجید تخت روانچی نے کہا کہ ہم نے کسی سے رابطہ نہیں کیا، ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں، ہم ہمیشہ سفارت کاری کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں کر سکتے۔

مجید تخت روانچی نے کہا کہ جب ہمارے عوام روزانہ بمباری کا شکار ہوں، تو ہم مذاکرات کے لیے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے، ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے۔ ہم جوہری ہتھیاروں پر یقین نہیں رکھتے، جوہری ہتھیاروں کا ہماری دفاعی پالیسی میں کوئی مقام نہیں، بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا جوہری ہتھیاروں کے بغیر زیادہ بہتر جگہ ہوگی۔

دوسری جانب عراق کے ممتاز مذہبی رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی مذہبی یا سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے پورے خطے پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع وسیع افراتفری کو جنم دے سکتا ہے جو خطے کے عوام کے مصائب میں اضافہ اور اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچائے گا۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کی یورپی ممالک سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی کل جنیوا میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں یورپی یونین کے اعلیٰ سفارتکار بھی شریک ہوں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ ملاقاتیں یورپی ممالک کی درخواست پر ہو رہی ہیں اور ان کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481