اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پہاڑی لسانیات پر اہم کتاب "پہاڑی زبان” شائع ہو گئی

پہاڑی لسانیات پر اہم کتاب پہاڑی زبان شائع ہو گئی

پہاڑی لسانیات پر اہم کتاب "پہاڑی زبان” شائع ہو گئی

 

استاد، شاعر اور ماہر قانون صبیر ستی مرحوم کی پہاڑی لسانیات کے حوالے سے 2004ء میں شائع ہونے والی اہم کتاب "پہاڑی زبان” کا دوسرا ایڈیشن اشاعت پذیر ہو چکا ہے۔ پہاڑی لسانیات کے موضوع پر پاکستان سے شائع ہونے والی یہ پہلی کتاب ہے۔

دوسرے ایڈیشن میں پروفیسر اشفاق کلیم عباسی ، ڈاکٹر یاسر ستی الخیری، محمود الحسن ستی، احمد سہیل صبیر ستی اور راقم الحروف کے کتاب کے حوالے سے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔

یہ کتاب کل پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں مصنف نے پہاڑی زبان کا مختصر سا تعارف پیش کیا ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہاڑی زبان کے حوالے سے سری نگر میں قائم اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے شعبہ پہاڑی اور 80 کی دھائی سے اس کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ادبی رسالے "شیرازہ پہاڑی” کے بارے میں مصنف کو علم نہیں تھا۔ نیز کریم اللہ قریشی کی کتاب "پہاڑی اور اردو ایک تقابلی جائزہ” اور ڈاکٹر نصراللہ ناصر کی کتاب "پہاڑی زبان میں ملفوظی اعزازات و نوادرات” بھی ان کے مطالعہ میں نہیں آئی۔

دوسرے باب میں پہاڑی زبان کے بنیادی قواعد کے حوالے سے بحث کی گئی ہے۔ حروف تہجی، رسم الخط، ہندسے، حرکات، کلمہ (اسم، فعل، حرف) کے حوالے سے یہ بحث تقریبا پچاس صفحات پر محیط ہے۔

تیسرے باب میں زمانوں کے متعلق بحث ہے اور اس ضمن میں گردانوں کی مدد سے اردو اور پہاڑی کا تقابل پیش کرتے ہوئے فاضل مصنف نے اپنی بات سمجھائی ہے۔ کہیں کہیں انگریزی کی بھی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

چوتھے باب کے شروع میں اردو سے پہاڑی میں ترجمے پیش کر کے وہ قارئین جو پہاڑی زبان نہیں جانتے، ان کے لیے اس کتاب کو پرکشش بنا دیا ہے۔ اس کے بعد اس باب میں پہاڑی محاورات اور ضرب الامثال بھی اردو ترجمے سمیت شامل کیے گئے ہیں۔

آخری باب میں ادبی نمونے پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں افسانہ، مکالمہ، خطوط، ہائیکو اور دو غزلیں شامل ہیں۔

پروفیسر اشفاق کلیم عباسی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔۔

"اس کتاب کی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے سائنسی بنیادوں پر لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگرچہ پہاڑی زبان کا ابھی تک اپنا کوئی متفقہ رسم الخط دستیاب نہیں ہے، اس کے باوجود انھوں نے اردو زبان کے رسم الخط سے قریب رہ کر زبان کی تاریخ اور اس کے سائنسی اصولوں کو مرتب کرنے کی کوشش کی ہے”.

ایک سو چوالیس صفحات پر مشتمل اس دیدہ زیب کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے ہے، لیکن پچاس فی صد خصوصی رعایت کے ساتھ محدود مدت کے لیے قارئین یہ کتاب مبلغ پانچ سو روپے (علاوہ ڈاک خرچ) میں پبلشر سے حاصل کر سکتے ہیں۔ آواز پبلی کیشنز ،اقبال مارکیٹ، کمیٹی چوک ، راولپنڈی (03005211201)

۔۔۔۔۔۔

راشد عباسی __ راولپنڈی 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481