اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو جنگ ہوگی،بلاول بھٹو

بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو جنگ ہوگی،بلاول بھٹو

بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو جنگ ہوگی،بلاول بھٹو-اگر انڈیا نے پاکستان کا پانی بند کیا تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے

 

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ اور پاکستانی سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انڈیا نے بہت بڑا اعلان کر دیا ہے، اس پر عملدرآمد ہو گا تو جنگ ہو گی، تو اگر انڈیا ہماری پانی کی سپلائی روکتا ہے تو اس صورت میں جنگ ہو گی۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے اپنے ایک انٹریو میں ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بارے میں امریکہ میں موجود انڈیا کے حامیوں نے بھی تسلیم کیا کہ انڈیا نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے، دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو امریکا میں مانا جاتا ہے۔اپنے دورہ امریکا اور برطانیہ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ اگر انڈیا نے پاکستان کا پانی بند کیا تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔بلاول بھٹو کہا کہ پاکستان کا موقف سچ پر مبنی اور بہت تگڑا ہے، ہم امن کا پیغام لے کر آئے ہیں، ممکنہ جوہری تنازع کے پس منظر میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں، ہم جس سے بھی مل رہے ہیں وہ نہ صرف ہمارے موقف کو سن رہا ہے بلکہ اس کو سراہ بھی رہا ہے اور مدد کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کر رہا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکا کے پاس اس بارے میں معلومات اور زمینی حقائق موجود ہیں کہ پاکستان دہشتگرد گروہوں سے کیسے ڈیل کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کا سارا عمل مکمل کیا، امریکہ اس عمل کا حصہ ہے۔ انھوں نے انتہائی قریب سے دیکھا کہ کس طرح پاکستان نے ان تمام گروپس کے خلاف ایکشن لیا، جب میں وزیر خارجہ تھا تو ہمارے ایکشن کی حمایت کرتے ہوئے تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں آ گیا۔انھوں نے کہا کہ اس عمل میں شامل تمام ممالک پاکستان کے ان گروپس کے خلاف اقدامات کے بارے میں پر اعتماد ہیں۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ دنیا بھر میں ایک انتہائی اہم ایشو ہے۔بلاول بھٹو نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے تناظر میں آپ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دیں گے تو کل کسی اور ملک میں یہ ہی کام ہو گا۔ ایک دن یہ انڈیا کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ انڈیا نے اس معاملے میں انتہائی غیر ذمہ دارانہ موقف اپنایا۔اندرونی سیاست اپنی جگہ، ہر ڈیم کی آپ کو سیاسی، تکنیکی اور معاشی پہلو دیکھنا ہوتے ہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انڈیا نے بہت بڑا اعلان کر دیا ہے، آپ نے خود کہہ دیا کہ اس پر عملدرآمد ہو گا تو جنگ ہو گی، تو اگر انڈیا ہماری پانی کی سپلائی روکتا ہے تو اس صورت میں جنگ ہو گی،انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا ٹیمو ورژن قرار دینے کے اپنے بیان پر بھی وضاحت دی کہ یہ الفاظ دانستہ استعمال کیے گئے تاکہ بات کم الفاظ میں سمجھ آ جائے۔ ان کے مطابق یہ بیان ڈیجیٹل دور کی حکمتِ عملی کے تحت تھا، اور اس کا مقصد عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنا تھا۔جب بلاول سے پوچھا گیا کہ آپ کبھی مودی کو گجرات کا قصاب اور کبھی نیتن یاہو کا ٹیمو ورژن کہتے ہیں اور ساتھ ہی جامع مذاکرات کی بات بھی کرتے ہیں، تو بلاول نے پوچھا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر میرے بیانات نہ ہوتے تو مودی اس وقت میرے ساتھ بیٹھے ہوتے؟انھوں نے مزید کہا کہ ٹیمو بہت بڑی اور امیر چینی کمپنی ہے، جو مصنوعات وہ بناتے ہیں انھیں خود بھی پتا ہے کہ ان کی کوالٹی کمزور ہوتی ہے اور ان کی قیمت بھی انتہائی کم ہوتی ہے لیکن میں نے یہ بیان ایسے نہیں دیا۔مجھ سے ایک سوال کیا گیا تو میں نے یہ الفاظ ضرور استعمال کیے، آج کل ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، میرا ماننا ہے کہ بہت کم الفاظ میں آپ بہت کچھ کہہ سکتے ہیں اور بہت کچھ لوگوں تک پہنچا بھی سکتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ میرا وہ پیغام آپ کو جتنا بھی سخت لگ رہا ہو گا، اس لحاظ سے کافی کامیاب رہا۔بلاول نے مزید کہا کہ مودی کو گجرات کے قصاب کا لقب انھوں نے یا کسی پاکستانی نے نہیں دیا بلکہ مودی کے اپنے عوام نے دیا۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مودی جی تاریخ کے دوراہے پر کھڑے ہیں۔ کیا وہ گجرات کے قصاب، کشمیر کے قصاب بننا چاہیں گے یا وہ امن قائم کر کے پاکستان اور انڈیا کے عوام کے مفاد میں، ایسا فیصلہ کرنا چاہیں گے جس کے بعد تاریخ انھیں اچھے انداز میں یاد رکھے گی۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ جہاں تک ڈاکٹر شکیل آفریدی کی بات ہے تو یہ ایک پوائنٹ ہے جو مسلسل اٹھایا جاتا ہے۔ تاہم بلاول نے کہا کہ ان کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران امریکی حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ کانگریس کے رکن نے اس کا ذکرکیا۔بلاول نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ اگر وہ یہ ساری باتیں میرے منہ پر کرتے تو میں انھیں جواب دے سکتا۔ کافی ایسی باتیں ٹویٹ میں کی گئیں جو ہماری گفتگو کا حصہ نہیں تھیں۔ اگر آگے جا کر دوبارہ ملاقات ہوتی ہے تو تفصیل میں ایسے موضوعات پر بات کریں گے۔بلاول نے مزید کہا کہ بریڈ شرمین انڈیا کے بہت نزدیک رہے ہیں حتی کہ وہ بھی انڈیا کے ساتھ ہماری جنگ کے دوران یہ ٹویٹ کرتے رہے کہ انڈیا نے دہشتگردی کے اس واقعے میں وہ ثبوت پیش نہیں کیے جس کی وجہ سے اسے پاکستان کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔بلاول بھٹو نے ہنستے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کے ششی تھرور نے بریڈ شرمین کی یہ والی ٹویٹ یا پیغام شیئر کیا یا نہیں۔بی بی سی کے اس سوال پر کہ انڈین وفد کی تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی ملاقات ہوئی، آپ کے وفد کی ٹرمپ انتظامیہ میں کسی بڑی شخصیت سے ملاقات کیوں نہیں ہوئی؟ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستانی وفد نے امریکہ میں جے ڈی وینس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار نہیں کیا، جہاں ملاقات کے لیے ہم نے خواہش کا اظہار کیا، یا جہاں سے ان کی طرف سے ملاقات کا کہا گیا تو ہم وہاں پہنچے۔تو آپ نے جے ڈی وینس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ اس پر بلاول نے بتایا کہ ہمارا دور امریکہ کا پہلا فوکس اقوامِ متحدہ تھا، پھر ہم نے سمجھا کہ سینیٹ، کانگریس اور پارلیمنٹ ہیں کیونکہ وہاں پر بہت فیصلے ہوتے ہیں اور وہ بھی بہت اثرورسوخ رکھتے ہیں۔محکمہ خارجہ میں ملاقاتیں کیں، بہت سے تھنک ٹینک ہیں جو امریکہ کی پالیسی سازی میں کردار ادا کرتے ہیں، ہم نے وہاں پر دورے کیے لیکن میرے خیال میں ہمارے دورے کے لیے یہ ہی مناسب تھا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ انڈیا پاکستان کشیدگی کے موقع پر ملک میں اتحاد کے لیے وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان سے بات ہو لیکن عمران خان تو صرف فوج سے بات کرنا چاہتے ہیں۔اس سوال پر کہ انڈیا پاکستان کشیدگی کے بعد ہمیں انڈیا میں تو سیاسی اتحاد نظر آتا ہے لیکن پاکستان میں تو اپوزیشن جماعت کے سربراہ جیل میں ہیں، تو اس لیے پاکستان میں تو اس معاملے پر بھی سیاسی تقسیم نظر آتی ہے، آپ کے خیال میں کیا ایسے موقع پر عمران خان کے ساتھ بات کرنی چاہیے؟بلاول نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انڈین وفد کافی بڑا ہے، وہ پارلیمانی وفد ہے جبکہ پاکستان کا حکومتی وفد ہے۔ جس میں حکومت، اس کے اتحادی، ٹیکنوکریٹس اور سابق سفارتکار شامل ہیں۔ پارلیمانی وفد میں اپوزیشن کی نمائندگی بھی ہوتی ہے لیکن یہ وفد جسے ایک ٹاسک سونپا گیا، حکومتی وفد ہے۔ تو اسی لحاظ سے آپ کو نمائندگی نظر آ رہی ہے۔جہاں تک اتحاد کی بات ہے تو جنگ کے دوران پورا ملک ایک تھا، یہ انڈیا کی غلط فہمی تھی کہ شاید ہم اتنے تقسیم ہو چکے ہیں کہ جنگ کے ماحول میں بھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔ انڈیا غلط ثابت ہوا۔ وزیراعظم نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو سپیکر آفس میں ملاقات کی پیشکش بھی کی تھی لیکن عمران خان کی سیاست غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی رہی ہے، انھیں جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کی خواہش کبھی نہیں رہی۔عمران خان آج بھی کہتے ہیں کہ وہ حکومت سے نہیں بلکہ فوج سے بات کرنے کو تیار ہیں۔اس سوال پر کہ عمران خان کے اختلافات یا تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہیں یا پھر مسلم لیگ ن کے ساتھ تو اس کے حل کے لیے کیا پیپلز پارٹی کوئی کردار ادار کر سکتی ہے؟بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ریکارڈ پر آپ کے سامنے ہے، ہم یہ چاہیں گے کہ پاکستان میں مزید اتحاد ہو، سیاست میں مفاہمت ہو لیکن کوشش دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ میں خواہش تو رکھ سکتا ہوں لیکن پی ٹی آئی میں ایسی سیاست ہی نظر نہیں آتی۔ وہ انتہا پسند سیاست کرتے ہیں۔ وہ انتہا پسند پوزیشنز لیتے ہیں اور ایک سیاسی بندے کے لیے ان پوزیشنز کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔انھوں نے عمران خان کے بارے میں مزید کہا کہ آپ ملک کے سابق وزیراعظم رہے ہیں، آپ سیاست دانوں میں سے ہیں اور ہر بار یہ کہنا کہ آپ سیاست دانوں سے بات نہیں کریں گے، ان کا اپنا فیصلہ ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481