اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مشرقِ وسطیٰ: نئی جنگ کے بادل

مشرقِ وسطیٰ: نئی جنگ کے بادل

مشرقِ وسطیٰ: نئی جنگ کے بادل

واشنگٹن، طہران، تل ابیب اور بغداد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑے فوجی تصادم کے امکانات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ایران پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے، جس پر امریکا کے انٹیلی جنس ادارے شدید اضطراب کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی جارحیت کی صورت میں ایران کی جوابی کارروائی کا نشانہ عراق، شام اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈے بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے تمام سفارت خانوں اور فوجی تنصیبات کو "اعلیٰ ترین سطح پر الرٹ” کر دیا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے عراق کیلئے لیول فور ٹریول وارننگ جاری کی ہے اور سفارت خانوں میں کام کرنے والے غیرضروری عملے اور فوجیوں کے اہلِ خانہ کو رضاکارانہ انخلاء کی اجازت دی گئی ہے۔
ادھر ایرانی وزیرِ دفاع عزيز ناصر زادہ نے خبردار کیا ہے کہ: "اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو امریکا کو ایسی قیمت چکانی پڑے گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ہم خطے میں امریکی اڈوں کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نشانہ بنائیں گے۔”

امریکی و صہیونی منصوبہ: ایٹمی ایران کا بہانہ؟

باخبر تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ پالیسی طویل عرصے سے یہی رہی ہے کہ ایران کو "ایٹمی خطرہ” قرار دے کر خطے میں مستقل فوجی موجودگی کو جواز فراہم کیا جائے۔ لیکن اب خدشہ یہ ہے کہ سیاسی دباؤ کا کھیل ایک حقیقی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے واضح کہا: "ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دیں گے۔”

امریکا کی دوہری پالیسی:

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک جانب امریکا ایران سے مذاکرات کی بات کرتا ہے، اور دوسری طرف اسی کے اتحادی اسرائیل کو بغیر منظوری کے حملے کی کھلی چھوٹ دیتا ہے۔ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اس کا ہدف صرف ایٹمی تنصیبات نہیں بلکہ ایران کے ریڈار، میزائل بیس اور اہم عسکری تنصیبات ہوں گی، جس کا لازمی نتیجہ خطے کی مکمل جنگی لپیٹ میں آنا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اس وقت عالمی طاقتوں کے داؤ پیچ کا میدان بن چکا ہے۔ ایران، عراق، شام، لبنان، فلسطین اور یمن میں موجود مزاحمتی قوتیں اگر متحرک ہو گئیں تو یہ تصادم اسرائیل اور امریکا کے لیے تباہ کن حد تک مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق، ایران کے پاس ایسے میزائل سسٹمز موجود ہیں جو عین الاسد بیس، بغداد گرین زون اور خلیج کے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کیا یہ پیش خیمہ ہے ایک بڑی جنگ کا؟

اب یہ سوال سب کے ذہن میں ہے کہ کیا یہ تمام اقدامات ایک بڑی جنگ کا مقدمہ ہیں یا صرف دباؤ بڑھانے کا حربہ؟ تاہم اتنا طے ہے کہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات عالم اسلام کے ہر کونے تک محسوس کیے جائیں گے۔ ایسے میں امریکا کی پالیسیوں پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کرنا خطے کے مسلم حکمرانوں کیلئے خطرناک سادہ لوحی ثابت ہو سکتی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481