سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے ڈسٹرکٹ جج معطل کردیا
سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے فل بینچ نےراجہ امتیاز احمد ممبر انسپکشن ٹیم ہائی کورٹ ( ڈسٹرکٹ جج )کو معطل کرتے ہوئے انکوائری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں انکوائری رپورٹ ایک ماہ میں پیش کی جائے ۔ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے مقدمہ عنوانی بینک اسلامی بنام ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق ہائی کورٹ وغیرہ کی سماعت کی ۔ ایڈووکیٹ جنرل شیخ مسعود اقبال کے علاوہ ہائی کورٹ کے ممبر انسپکشن ٹیم راجہ امتیاز احمد سپریم کورٹ کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت عظمیٰ نے ممبر انسپکشن ٹیم اور ان کےہمراہ پیش ہونے والے افسران کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیر کو آئندہ تاریخ پیشی پر معاونت کا حکم جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ راجہ امتیاز احمد نے بطور سپیشل جج عدالت امتناع منشیات حویلی ملزم کی بریت کا حکم جاری کیا ہے جس کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ایک ڈسٹرکٹ جج کی جانب سے عدالت ہذاکے فیصلے کی صریح خلاف ورزی اور عدالتی وقار کم کرنا توہین عدالت کا باعث ہے جبکہ سیشن جج کی جانب سے عدالت ہذا کے روبرو کذب بیانی اور دروغ گوئی عدالتی مس کنڈکٹ ہے۔ راجہ امتیاز احمد کی معطلی کا حکم آج ہی پیش کیا جائے۔ مزید برآں ایسے تمام مقدمات جن میں راجہ امتیاز احمد نے اپنے عرصہ تعیناتی مظفرآباد، پلندری اور حویلی میں فیصلے صادر کئے ہیں ان کی تفصیل، نقول اور ان مقدمات کی آوٹ کم کے بارہ میں تفصیلی رپورٹ عدالت ہٰذا میں پیش کرے۔ سپریم کورٹ نے راجہ امتیاز احمد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے روبرو کذب بیانی اور دروغ گوئی کی وجہ بتائیں اور وضاحت کریں کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی گئی ہے
