اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر شرائط پر نہیں،بلاول

بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر شرائط پر نہیں،بلاول

بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر شرائط پر نہیں،بلاول

پاکستانی وفد کے سربراہ اورپاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مودی اور نیتن یاہو کی امن کو تباہ کرنے اور نفرت کو فروغ دینے کی پالیسی ایک جیسی ہے جبکہ دونوں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مجرم ہیں۔نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں نیوز کانفرنس کے دوران پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گرد حملے ہورہے ہیں اور ہم دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ میری والدہ بھی دہشتگردی میں شہید ہوئیں۔بلاول نے کہا کہ دہشتگردی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے بنا تحقیق پہلگام حملے کا پاکستان پر الزام لگا کر پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کی اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جبکہ وزیراعظم پاکستان نے غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آج بھی خطے کے پرامن حل کا خواہاں ہے اور ابھی تک بھارت کے خلاف ہم نے کوئی بھی جارحانہ قدم نہیں اٹھایا پھر بھی بھارت سندھ طاس معاہدے سمیت دیگر چیزوں پر جارحیت کررہا ہے۔ بلاول نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب عالمی برادری کو پائیدار امن اور جنگ بندی کیلئے بھی آگے آنا ہوگا، عالمی برادری کو کسی بھی بڑے تصادم سے پہلے مداخلت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارتی جارحیت کا نوٹس لے، پاکستان ہر فورم پر دہشتگردی کی مذمت کرتا آیا ہے۔بلاول نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کیا بھارت اپنے ملک میں ہونے والے کسی بھی حملے کے بعد پاکستان پر الزام لگا کر جہاز فضا میں اڑائے گا اور ایٹمی میزائل فائر کرے گا؟۔انہوں نے کہا کہ بھارت خود دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے، دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کسی کے حق میں نہیں ہے اور بھارتی حکومت کی یہ جارحانہ حکمت عملی کام نہیں کرے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بنے، خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے جبکہ بھارت نے جب پاکستان پر حملہ کیا تو اس نے اسرائیلی ڈرون کا بھی استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ تنازع کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکرات ہی واحد راستہ ہے جبکہ بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر شرائط پر نہیں، امن کا حصول ڈائیلاگ اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔ بلاول نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ دہشتگردی کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کرے اور ساتھ مل کر کام کرے۔پاکستانی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت پاکستان سمیت کینیڈا اور دیگر ممالک میں اپنے سلیپرسیلز کے ذریعے دہشتگردی پھیلا کر لوگوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بھی بھارتی شکایتوں کی فہرست ہے، اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی تو ساری دنیا اس کے نتائج سے متاثر ہوگی۔بلاول نے کہا کہ بھارت اسرائیل کی طرح عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے جبکہ مودی اور نیتن یاہو نفرت کو فروغ دے رہے ہیں اور دونوں کی پالیسیاں امن کیلئے خطرہ ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور تعاون ضروری ہے جبکہ بھارتی حکومت اپنے ملک میں دہشت گردی کو مسلمانوں کے تشخص کو مسخ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے امریکا اور چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کے معاہدے ہیں، صدر ٹرمپ اب پاکستان کے ساتھ جامع تجارتی معاہدے چاہتے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481