آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقدہ شہدائے جموں و کشمیر عوامی حقوق کانفرنس نے حکومت کو آٹھ جون تک کی مہلت دیتے ہوئے 13 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا ہے، جس میں عام شہریوں کے لیے تعلیم اور صحت سہولیات کی مفت فراہمی ،اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ۔مہاجرین کی اسمبلی نشستوں اور کوٹے پر نظر ثانی۔خلاف ضابطہ تقرریوں کی منسوخی۔کرپشن کے خلاف شفاف کارروائی اور بھارتی جیلوں میں قید کشمیری قائدین کی رہائی کے مطالبے سمیت دیگر نکات شامل ہیں۔کانفرنس کے کنوینر شوکت نواز میر نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں ریاست گیر احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔ اس لیے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اقوام عالم سے مطالبہ کرتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن اور مستقل حل کیلئے کشمیری عوام کو ان کاحق خودارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دیا جائے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر حکومت ایکشن کمیٹی کے ساتھ پرانے چارٹر آف ڈیمانڈ پر طے گئے معاہدہ پر 8 جون سے پہلے عملدرآمد یقینی بنائے، بصورت دیگر کمیٹی اگلی کال کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گی۔ اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کے جرم میں قید یاسین ملک سمیت دیگر کشمیری رہنماؤں اور حریت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ کیاگیا۔ علاوہ ازیں آزاد کشمیر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو ناقابل قبول قرار
