اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نور مقدم قتل کیس،مجرم ظاہر ذاکر جعفر کی سزائے موت برقرار

نور مقدم قتل کیس،مجرم ظاہر ذاکر جعفر کی سزائے موت برقرار

نور مقدم قتل کیس،مجرم ظاہر ذاکر جعفر کی سزائے موت برقرار

نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر ذاکر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھ دی گئی۔

سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کر کے دفعہ 302 میں سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

علاوہ ازیں مجرم ظاہر جعفر کی دفعہ 376 میں سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا گیا جبکہ اغوا کے الزام میں سزا کالعدم قرار دے دی گئی۔

دوسری جانب عدالت نے مجرم ظاہر جعفر کے مالی اور چوکیدار کی سزائیں کم کردیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ چوکیدار اور مالی جتنی سزا گزار چکے ہیں اتنی ہی رہیں گی۔

آج سپریم کورٹ میں نور مقدم کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر مجرم ظاہر جعفر کے وکیل نے دلائل دیے کہ پراسیکیوشن کا سارا کیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر پر ہے، اپیل کنندہ کے خلاف شواہد کا شک و شبہ سے بالاتر ہونا ضروری ہے۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت بطور شواہد پیش فوٹیجز سے باہر نہیں جاسکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پراسیکیوشن کی فوٹیج چلائی گئی لیکن وہ چل نہ سکی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جس سی سی ٹی وی فوٹیج پر آپ کا اعتراض ہے اسے آپ تسلیم کرچکے ہیں، پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے بھی کہا فوٹیج ٹیمپرڈ نہیں اور نہ اس سے چھیڑ چھاڑ کی گئی، کوئی انسان ویڈیو بناتا تو اعتراض ہوسکتا تھا کہ مخصوص حصہ ظاہر کیا گیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اس ویڈیو کے معاملے پر تو انسانی مداخلت ہے ہی نہیں، یہ ویڈیو سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے ریکارڈ ہوئی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481