اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بجٹ 2025-26 عوام اضافی مالی بوجھ کیلئے ہو جائیں تیار

بجٹ 2025-26 عوام اضافی مالی بوجھ کیلئے ہو جائیں تیار

بجٹ 2025-26 عوام اضافی مالی بوجھ کیلئے ہو جائیں تیار

حکومت نے نئے بجٹ سے پہلے آئی ایم ایف کو بڑی یقین دہانیاں کرا دیں نئے مالی سال کے آغاز میں ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا پلان تیار کرلیا گیا ،یکم جولائی 2025 سے بجلی ٹیرف کی سالانہ ری بیسنگ کی جائے گی، دستاویز کے مطابق یکم جولائی 2025 اور 15 فروری 2026 کو گیس ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی، تمام صوبائی حکومتیں بھی بجلی اور گیس پر کسی قدم کی سبسڈی نہیں دیں گی، یکم جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے فی لٹر کاربن لیوی بھی عائد کی جائے گی، توانائی شعبے میں گردشی قرضے کی ادائیگی کیلئے بینکوں سے 1252 ارب روپے قرض لیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کیلئے یہ رقم بجلی صارفین سے اگلے 6 سال میں وصول کی جائے گی، اس مقصد کیلئے 10 فیصد ڈیبٹ سروس سرچارج وصول کیا جائے گا، شارٹ فال کی صورت میں حکومت کو ڈیبٹ سروس چارجز کی شرح میں اضافے کا اختیار ہوگا،نئے بجٹ میں بجلی صارفین کیلئے سبسڈی کی رقم میں کمی کی جائے گی، 2031 تک گردشی قرض کی ادائیگی کو صفر کی سطح پر لایا جائے گا، نیپرا سہ ماہی بنیاد پر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نوٹیفکیشن کا اجرا جاری رکھے گا، ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا بھی بروقت اطلاق کیا جائے گا، بیس ٹیرف اور حقیقی ریونیو کی ضروریات کے درمیان گیپ ختم کیا جائے گا، کمزور یا غریب صارفین پر بجلی ٹیرف کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی کہ بجلی کے شعبے میں صرف ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی، کابینہ کی منظوری سے نئے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کا جولائی میں اعلان کیا جائے گا، دستاویز کے مطابق پہلی ششماہی میں توانائی کی لاگت میں کمی، ریکوری بہتر ہونے سے 450 ارب کا فائدہ ہوا، جنوری 2025 تک بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کا اسٹاک 2444 ارب روپے رہا، جون 2024 تک گیس سیکٹر میں گردشی قرضے کا حجم 2294 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے اصلاحات جاری رکھی جائیں گی، آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ توانائی شعبے میں قیمتوں میں کمی کیلئے کاسٹ ریکوری بہتر بنائی جائے گی، جون تک آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے 348 ارب کے بقایاجات کلیئرکئے جائیںگے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481