اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مفتی قوی کو مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد سے نکال دیا

مفتی قوی کو مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد سے نکال دیا

مفتی قوی کو مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد سے نکال دیا

وفاقی دارالحکومت کی مشہور لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالقوی کو اس وقت لال مسجد سے نکال دیا جب وہ دارالافتاء میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔

 

مولانا عبدالعزیز نے بندوق تھامے مفتی عبدالقوی کو کہا کہ یہاں سے نکل جاؤ اگلی بار آئے تو کوڑے ماروں گا، انھوں نے کہا کہ یہ بدمعاش ہے، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتی عبدالقوی جامعہ حفصہ کے دفتر میں کچھ علما کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران مولانا عبدالعزیز غصے اور اسلحے سے لیس حالت میں کمرے میں داخل ہوئے۔

مولانا عبدالعزیز نے کسی رسمی گفتگو کے بغیر سخت لہجے میں مفتی عبدالقوی کو فوراً ادارہ چھوڑنے کا حکم دیا اور خبردار کیا کہ “ نکل جائو ورنہ میں گولی مار دوں گا۔“

https://x.com/kohsarnewsdg/status/1923444829222043913

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتی عبدالقوی اس اچانک صورتحال پر خوفزدہ ہوکر جلدی میں کمرے سے نکل جاتے ہیں۔ اس دوران مولانا عبدالعزیز نہ صرف ان پر سنگین الزامات لگاتے ہیں بلکہ سخت زبان بھی استعمال کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مولانا عبدالعزیز ہاتھ میں رائفل پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے گارڈز کے ساتھ دارالافتاء کی طرف جا رہے ہیں۔ جاتے ہی انہوں نے مفتی عبدالقوی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا ”میں اسے گولی مار دوں گا، یہ بد معاش ہے۔“

انہوں نے دارالافتاء کے لوگوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”آئندہ جو بھی اس کے ساتھ بیٹھا میں اس کا علاج کروں گا، یہ انسان نہیں ہے۔ یہ جہاں ملے اس کو کوڑے لگائے جائیں، اس بدمعاش کو، یہ خود کہتا ہے میں نے بہت ساری شادیاں کی ہیں، نیا دین بنایا ہے اس نے۔“

 

جب یہ واقعہ پیش آیا تب مفتی عبدالقوی دارلافتاء میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ مولانا عبدالعزیز کے آنے کے بعد وہ اٹھ کر چل دیے اور فون کان کو لگالیا۔ اس دوران مولانا عبدالعزیز نے انہیں ہاتھ سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا اور کہا “ چل نکل یہاں سے، دفع ہوجا، آئندہ لال مسجد میں آپ نے نہیں آنا، اگر آپ لال مسجد میں آئے تو میں آپ کو یہاں باندھ کر کوڑے لگواؤں گا۔“

مولانا عبدالعزیز کی گرج چمک کے بعد مفتی عبدالقوی جلدی میں باہر نکلے لیکن جلد ہی دوبارہ اندر آگئے کیونکہ وہ اپنا بیگ بھول گئے تھے۔ انہوں نے اپنا بیگ اٹھایا اور وہاں سے چلتے بنے۔

اس موقع پر مفتی عبدالقوی نے ریمارکس دیئے کہ جمعہ کی نماز کے لیے لال مسجد گیا،مسجد کے علماء کرام شرعی مسئلہ پوچھنے کے لیے مجھے دفتر لے گئے۔

انھوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز ائے اور انہوں نے مجھے مسجد سے نکل جانے کا کہا، مولانا عبدالعزیز نے مجھے اللہ کے گھر سے نکالا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481