اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دشمن کے 6 طیارے مار گرائے، جو خود کو تھانیدار سمجھتا تھا

دشمن کے 6 طیارے مار گرائے، جو خود کو تھانیدار سمجھتا تھا

دشمن کے 6 طیارے مار گرائے، جو خود کو تھانیدار سمجھتا تھا

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے دشمن کے 6جہاز گرائے ہیں، جو دشمن اپنے آپ کو جنوبی ایشیا کا تھانیدار سمجھتا تھا اس کے 6جہاز گرائے، دشمن کے رافیل، مگ اور ڈرون گرائے۔جنگ میں فتح کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی، ہم نے جنگ جیت لی مگر ہم امن چاہتے ہیں تاکہ یہ خطہ بھی باقی دنیا کی طرح ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کرے۔ وفاقی دارالحکومت میں معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں شاندار فتح پر یوم تشکر کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ میں فتح کے بعد اللہ تعالی نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وطن عزیز اور اپنی جانیں نچھاور کرنے والے عظیم شہدا ء کے عظیم والدین، اہل خانہ، وفاقی وزرا، چیئرمین جوائنٹس چیف آف اسٹاف جنرل شمشاد ساحر مرزا، سپہ سالار بری فوج جنرل سید عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابرسدھو،مسلح افواج کے افسران، سرکاری افسران اور سفارتکاروں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اس محفل میں ہمارے انتہائی قابل احترام صحافی، بہن اور بھائی موجود ہیں، پاکستان کے مایہ ناز فنکار موجود ہیں اور یہاں پر پاکستان کے انتہائی قابل احترام غازی بھی موجود ہیں۔ وزیراعظم شہباز نے کہا کہ آج کا دن یوم تشکر ہے، یہ دن دنیا کی تاریخ میں کسی کسی کو ملتا ہے اور صدیوں بعد ملتا ہے، اللہ تعالی فضل و کرم ہے کہ آج سے تقریبا 50 سال قبل ایک دلخراش واقعہ پیش آیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری مخلصانہ پیشکش کو دشمن نے ٹھکرایا ہے جس میں ہم نے کہاتھا کہ ایک عالمی تحقیقاتی کمیٹی بناتے ہیں جو پوری تحقیقات کے بعد دنیا کو حقائق بتادے گی، مگر دشمن نے انتہائی تحکمانہ انداز میں، غرور کے نشے میں بدمست ہوکر پاکستان پر حملہ کردیا اور بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا جن میں چھ سالہ بچہ بھی شہید ہوا، مائیں، بہنیں، بزرگ اور جوان شہید ہوئے اور دشمن نے یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستان کے اندر جاکر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دشمن کے چھ جہاز گرائے ، جو کہ جنوبی ایشیا میں خو د کو تھانیدار سمجھتا تھا، اور یہ سمجھتا تھا کہ پاکستان اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اسی پاکستان کے شاہینوں نے جھپٹ جھپٹ کر ان کے رافیل بھی گرائے، مگ اور رافیل بھی گرائے، اور اسے ایسا ڈرائونا خواب دکھایا کہ قیامت تک وہ اس خواب سے نکل نہیں سکے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد جنرل عاصم منیرنے مجھ سے کہا کہ اجازت دیں کہ دشمن کے منہ پر ہم ایسا تھپڑ رسید کریں گے کہ وہ عمر بھر یاد رکھے گا اور پھر آپ نے دیکھا کہ کس طرح پٹھان کوٹ، ادھم پور اور دوسرے مقامات پر ہمارے شاہینوں اور الفتح میزائلوں نے حملے کیے اور دشمن کو سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر کا پھر مجھے فون آیا اور کہا کہ ہم نے دشمن کو بھرپور جواب دے دیا ہے اور اب ہم سے سیز فائر کرنے کی درخواست کی جارہی ہے، میں نے کہا کہ اس سے بڑی عزت کی کیا بات ہوسکتی ہے کہ آپ نے دشمن کو سیزفائر پر مجبور کردیا ہے، میں نے کہا کہ آپ سیزفائر کی پیشکش کو قبول کرلیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے ایئرچیف اور ان کے شاہینوں نے جس طرح ملک میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو چینی طیاروں کے ساتھ استعمال کیا اس سے دنیا کے ہوش اڑگئے اور دوستوں کا اعتماد آسمان سے باتیں کرنے لگا، امریکا سے لے کر جاپان تک اور ہر جگہ آج یہ بات ہورہی ہے کہ پاکستان کی افواج نے کس طرح خاموشی سے یہ صلاحیت کرلی۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کو دن رات باور کروارہا تھا کہ اس کی معیشت کھربوں ڈالر میں ہے اور اسلحے پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور اسے خطے کا بادشاہ تسلیم کیا جائے، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا، اور اللہ رب العزت نے یہ عظیم فتح پاکستان کو دی جس کے لیے ہم آج یوم تشکر اس طرح منارہے ہیں کہ پوری قوم کے سر رب ذوالجلال کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی، آج پوری قوم یک جان دو قالب ہے اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ آج وقت آگیا ہے کہ اس سفر کا آغاز کردیں جس کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب آگے بڑھنا ہے، اور قومی یکجہتی کو سرمایہ حیات بنا کر چل پڑے تو نہ صرف ماضی کے نقصانات کا ازالہ ہوگا بلکہ بہت جلد پاکستان اقوام عالم میں اپنا جائز مقام حاصل کرلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں معاشی میدان میں 10مئی کو معروض وجود میں لانا ہے، قوم تیار ہے، ہمیں شبانہ روز محنت کرنی ہوگی، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے اور شاندار اذہان سے نوازا ہے، کسی چیز کی کمی نہیں ہے، اگر ہم پرعزم ہوجائیں تو پاکستان انشاء اللہ دنیا کی دوڑ میں بہت جلد آگے نکل جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ میں تمام سفرا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جو پہلگام کے واقعے پر پاکستان کے خلاف بھارت کے بے بنیاد پروپیگنڈے کے جواب میں پاکستان کے موقف کے ساتھ کھڑے رہے، اور میں ان تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے جنگ بندی کی صورت میں اس خطے میں امن کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جراتمندانہ لیڈرشپ اور جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے کے ان کے ویژن پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں دنیا کے اس خطے میں ہولناک جنگ کا خطرہ ٹل گیا، خدانخواستہ اگر جنگ بڑھ جاتی اور ایٹمی ہتھیاروں تک پہنچ جاتی تو تصور کیجیے کہ ایک ارب 60کروڑ لوگوں میں سے کون یہ بتانے کے لیے زندہ بچتا کہ کیا ہوا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ہم نے جنگ جیت لی مگر ہم امن چاہتے ہیں، ہم نے اپنے دشمن کو سبق سکھا دیا ہے مگر ہم جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ خطہ بھی دنیا کے باقی خطوں کی طرح ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کرے۔وزیر اعظم شہبازشریف کاکہنا تھا کہ چاہے ہم اس بات کو پسند کریں یا نہ کریں مگر ہم ہمسائے ہیں اور ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ہمسایہ ہی رہنا ہے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم پرامن ہمسائے بن کر رہیں یا لڑتے رہیں، پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، کیونکہ ہمارے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں مگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ جنگوں کی وجہ سے غربت اور بیروزگاری بڑھی اور دیگر مشکلات میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ جنگوں سے سبق یہ ملا ہے کہ ہم پرامن ہمسایوں کی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل حل کریں، کیونکہ اگر مستقل امن چاہتے ہیں تو پھر مسائل کو مستقل طور پر حل کرنا ہوگا۔ جموں و کشمیر اور پانی کی تقسیم کے مسائل حل ہوجائیں تو پھر اس کے بعد ہم تجارت پر بات کرسکتے ہیں، اور انسداد دہشتگردی کے میدان میں بھی تعاون کرسکتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے جس نے 90ہزار جانیں قربان کی ہیں، اس میں ہمیں ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے، کس قوم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتنا جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف اپنے ملک میں امن کے لیے دہشتگردی سے نہیں لڑ رہے بلکہ دنیا میں امن کے لیے دہشتگردی سے نبردآزما ہیں، اگر ہماری افواج اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کا مقابلہ نہیں کررہی ہوتیں تو یہ دنیا کے مختلف خطوں میں پھیل چکے ہوتے، چنانچہ دنیا کو پاکستان کی قربانیوں اور نقصانات کو تسلیم کرنا چاہیے۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد شہدائے وطن کے درجات کی بلندی، وطن عزیز کی ترقی،سلامتی اوراستحکام کیلئے دعا کی گئی۔ خصوصی تقریب میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد ترانے اور ملی نغمے پیش کیے جارہے ہیں۔تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم ہیں جبکہ تقریب میں وفاقی وزرا ، اراکین کابینہ چیئرمین جے سی ایس سی، سروسز چیفس، مختلف ممالک کے سفارتکار، سول اور عسکری حکام تقریب میں شریک ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481