اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پنجابی کلام اردو ترجمے کے ساتھ

پنجابی کلام اردو ترجمے کے ساتھ

پنجابی کلام اردو ترجمے کے ساتھ

شاعر : شیو کمار بٹالوی

مائے نی مائے!
میرے گیتاں دے نیناں وچ
برہوں دی رڑک پوے
ادھی ادھی راتیں
اٹھ رون موئے متراں نوں
مائے سانوں نیند نہ پوے
٭
ماں اے میری پیاری ماں
میرے گیتوں کی آنکھوں میں جدائی (کی کسک) اٹکتی ہے
آدھی آدھی رات کو اٹھ کر جب یہ (گیت) مر چکے دوستوں کی یاد میں روتے ہیں تو ہمیں نیند نہیں آتی۔

٭٭

بھیں بھیں ، سگندھیاں وچ
بنھاں پھہے چاننی دے
تاں وی ساڈی پیڑ نہ سہوے
کوسے کوسے ساہاں دی
میں کراں جے ٹکورمائے
سگوں سانوں کھان نوں پوے
٭
چاندنی کے پھاہے خوابوں میں بھگو بھگو کر باندھنے کے باوجود بھی ہمارے درد کی ٹیسیں کم نہیں ہوتیں
بلکہ اگر میں (اس پہ) گرم گرم سانسوں کی ٹکور کروں تو الٹا ہمیں کاٹ کھانے کو لپکتا ہے۔

٭٭

آپے نی میں بالڑی ہاں
میں حالے آپ متاں جوگی
مت کہڑا ایس نوں دوے؟
آکھ سونی مائے ایہنوں
رووے بلھ چتھ کے نی
جگ کتے سن نہ لوے

ابھی تو میں خود بچپنے کی عمر میں ہوں۔ ابھی تو میں خود نصیحتوں کی حقدار ہوں۔ (اب تم خود انصاف کرو کہ ایسے میں) اسے کون نصیحت کرے۔
میری پیاری ماں تم اسے سمجھاؤ نا کہ روتے وقت ہونٹ چبا لیا کرے ، کہیں دنیا والے (اس کی گریہ و زاری) سن نہ لیں۔

٭٭

آکھ سونی کھا لئے ٹک
ہجراں دا پکیا
لیکھاں دے نی پٹھڑے توے
چٹ لئے تریل لونی
غماں دے گلاب توں نی
کالجے نوں حوصلا رہوے
٭
پیاری ماں اسے کہو نا کہ ہجر (کے تندور) پہ پکی ہوئی روٹی کھا لے۔ نصیب کے توے تو الٹے پڑے ہیں۔
(اِسے کہو کہ) غموں کے گلاب سے نمکین شبنم چاٹ لے ، (تاکہ) کلیجے کو حوصلہ رہے
(الٹا توا فاقے اور سوگ کی علامت ہے)

٭٭

کہڑیاں سپیریاں توں
منگاں کنج میل دی میں
میل دی کوئی کنج دوے
کہڑا ایہناں دماں دیاں
لوبھیاں دے دراں اتے
وانگ کھڑا جوگیاں رہوے

(تم ہی بتاؤ) میں کونسے سپیروں سے وصال کی ڈوری مانگوں کہ مجھے کوئی وصال کی ڈوری دے دو۔
(تم ہی کہو) کون ان سانسوں کے منکوں سے بنی مالا گلے میں ڈالے جوگیوں کی طرح (بے نیازانہ) کھڑا رہے۔

پیڑے نی پیڑے
ایہ پیار ایسی تتلی ہے
جہڑی سدا سول تے بہوے
پیار ایسا بھور ہے نی
جہدے کولوں واشنا وی
لکھاں کوہاں دور ہی رہوے

درد ارے او میرے ضدی درد
یہ پیار تو ایسی تتلی ہے جو ہمیشہ تکلیف (کے پھول) پر بیٹھتی ہے۔
پیار ایسا بھنورا ہے کہ جس سے خوشبو بھی لاکھوں کوس دور ہی رہنا پسند کرتی ہے۔
(ایک کوس دو میل کے برابر ہوتا ہے)

پیار او محل ہے نی
جہدے چ پکھیروواں دے
باجھ کجھ ہور نہ رہوے
پیار ایسا آلھنا ہے
جہدے چ نی وصلاں دا
رتڑا نہ پلنگ ڈہوے
٭
(اے میرے درد) پیار وہ محل ہے جس میں (موسمی) پرندوں کے سوا کوئی نہیں رہتا
پیار ایسا آشیانہ ہے جس میں ملن کا سرخ سا پلنگ کبھی نہیں بچھتا
٭٭

آکھ مائے ، ادھی ادھی راتیں
موئے متراں دے
اُچی اُچی ناں نہ لوے
متے ساڈے مویاں پچھوں
جگ ایہ شریکڑا نی
گیتاں نوں وی چندرا کہوے
٭
ماں !! اسے سمجھاؤ نا کہ یوں آدھی آدھی رات کو بلند آواز میں رفتگان (مر چکے) پیاروں کے نام نہ لیا کرے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے مرنے کے بعد یہ حاسد اور ٹوہ باز معاشرہ ان گیتوں (فریادوں) کو بھی حماقت کہے۔

مائے نی مائے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481