اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جنگ کے بعد پہلے خطاب میں مودی کی دھمکیاں

جنگ کے بعد پہلے خطاب میں مودی کی دھمکیاں

جنگ کے بعد پہلے خطاب میں مودی کی دھمکیاں

 

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ مختصر جنگ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو پہلی مرتبہ قوم سے خطاب کیا۔

 

اس خطاب میں نریندرمودی نے دھمکی دی کہ اگر پھر بھارت میں حملہ ہوا تو وہ پھر پاکستان پر حملہ کرے گا۔

 

لیکن ساتھ ہی مودی پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر چیخ و پکار کرتے بھی دکھائی دیئے ۔

 

بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ ’انڈیا پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا تو منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔

 

ہم اپنے طریقے سے، اپنی شرطوں پر جواب دے کر رہیں گے۔ ہر اس جگہ جا کر کارروائی کریں گے جہاں سے دہشت گردی کی جڑیں نکلتی ہیں۔

 

انڈیا کوئی بھی ایٹمی بلیک میل نہیں سہے گا۔ ہم دہشت گردی کی سرپرست سرکار اور آقاؤں کو الگ نہیں دیکھیں گے۔‘

 

نریندر مودی نے مزید کہا کہ ’تجارت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔‘

 

’اگر پاکستان سے بات ہوگی تو دہشت گردی پر ہی ہوگی۔ اگر پاکستان سے بات ہوگی تو پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر پر ہی ہوگی۔‘

 

مودی اتنے بوکھلائے ہوئے تھے کہ اپنے پہلے خطاب میں جنگ کے دوران ہلاک بھارتی فوجیوں اور شہریوں کو بھی بھول گئے۔ بھارت نے اپنے ایک فوجی اور ایک کمشنر سمیت 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ جبکہ پاکستان کے مطابق بھارت کے چالیس سے پچاس فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

جنگ سے پہلے مودی بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافال کی ڈینگیں مارتے تھے جو پاکستان نے مار گرائے۔ خطاب میں مودی نے کہا کہ بھارت نے مقامی ساختہ اسلحے سے دفاع کیا اور میزائل دفاعی نظام نے پاکستانی میزائل اور ڈرون مار گرائے۔ یاد رہے کہ بھارتی فوج کی کرنل صوفیا قریشی نے 10 مئی کی صبح ہی تصدیق کی تھی پاکستان نے بھارت کی 26 فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481