اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ٹرمپ نے اچانک ثالث بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟

امریکا کو مزید مضبوط اور عظیم بنائیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ نے اچانک ثالث بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟ سے ائی عین نے بڑی خبر دے دی 

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ کے خاتمے کے لیے ہنگامی ثالثی کا کردار کیوں ادا کیا اس حوالے سے سی این این کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس ایسی انٹیلی جنس معلومات آئیں۔ جن کے مطابق صورت حال قابو سے باہر ہوسکتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے پر گہری نظر رکھنے والے امریکی حکام جن میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو، اور وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شامل ہیں ، نے جمعہ کی صبح اس وقت اپنی سرگرمیاں تیز کیں جب امریکا کو حساس اور تشویشناک انٹیلی جنس موصول ہوئی۔اگرچہ حکام نے حساسیت کی وجہ سے ان معلومات کی نوعیت نہیں بتائی، لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہی انٹیلیجنس اس بات پر قائل کرنے میں اہم ثابت ہوئی کہ امریکا کو اس معاملے میں مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق، نائب صدر وینس نے خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے رابطہ کیا۔پردے کے پیچھے، وینس نے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس منصوبے پر بریفنگ دی، پھر جمعے کو 12 بجے مودی سے بات کی۔حکام کا کہنا ہے کہ وینس نے مودی پر واضح کیا کہ وائٹ ہاؤس کو خدشہ ہے کہ اگر فوری اقدام نہ کیا گیا تو ہفتے کے اختتام تک صورت حال خوفناک ہوسکتی ہے۔وینس نے مودی پر زور دیا کہ بھارت براہ راست پاکستان سے بات کرے اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر غور کرے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اُس وقت دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ رابطہ نہیں تھا، اور امریکا کی کوشش تھی کہ فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔ وینس نے مودی کے ساتھ ایسی پیشکش بھی شیئر کی جسے امریکا کے مطابق پاکستان قبول کر سکتا تھا، تاہم اس کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

اس کال کے بعد اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے حکام، بشمول مارکو روبیو، نے رات بھر بھارت اور پاکستان کے اپنے ہم منصبوں سے رابطے جاری رکھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے کسی معاہدے کے مسودے میں براہ راست کردار ادا نہیں کیا، بلکہ اس کا کردار صرف فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنا تھا۔ تاہم امریکی نقطہ نظر سے، وینس کی مودی سے فون کال کو فیصلہ کن لمحہ قرار دیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481