اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عبدالخالق بٹ کی خوبصورت کتاب ’’لفظ تماشا‘‘

FB IMG 1725265067039 2

عبدالخالق بٹ کی خوبصورت کتاب ’’لفظ تماشا‘‘

FB IMG 1746184690771 1
جب ہم بچے تھے، کبھی ہم بچے بھی تھے تو ہماری بچوں کی دنیا کے سامانِ دلبستگی اور میٹھی یادوں میں دیگر دلچسپیوں کے علاوہ ایک خاص مشغلہ ’’پُتلی تماشا‘‘ بھی ہوا کرتا تھا۔ کچھ آگے چل کر لڑکپن، نوجوانی اور اختتامِ جوانی تک کھیل تماشا چلتا رہا، اور یہی سمجھا جاتا رہا کہ دنیا کی زندگی گویا کھیل تماشا ہے۔ تاہم جوانی جو ختم ہو جانے پر بھی بھلائے نہیں بھولتی، اور کیسے بھولے! اس کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے؛
یہ جوانی میں بھلا کیسے بھُلا سکتا ہوں
اس نے آتے ہوئے مُجھ سے مرا بچپن کھینچا

اگرچہ زندگی کی مانند جوانی کا قیام بھی مختصر ہی رہتا ہے۔ داغ دہلوی کے بقول؛

رہتی نہیں بہارِ جوانی تمام عُمر
مانندِ بوئے گُل اِدھر آئی اُدھر گئی

اب جب کہ جوانی بُڑھاپے کی دہلیز پر سِپر انداز ہو چکی ہے، یُوں کہیے کہ پیری کے بچپن کا آغاز ہو چکا ہے، لیکن تماشوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ پُتلی تماشا اور کھیل تماشا کے بعد اس نے ذہنی بلوغت کا ثبوت دیتے ہوئے گویا لفظ تماشا کی صورت دھار لی ہے۔ یہ ذکر ہے جناب عبدالخالق بٹ صاحب کی خوبصورت کتاب ’’لفظ تماشا‘‘ کا، جس پر پہلی نظر ڈالتے ہی ایک معنی خیز سرورق اور عمدہ ’’گٹ اپ‘‘ نے اپنی جانب متوجہ کیا۔ سرورق کو معنی خیز کہنے کی ضرورت یُوں پیش آئی کہ جیسے پھُلجڑیاں سی چھُوٹ رہی ہیں اور یُوں لگا کہ الفاظ نظیر اکبر آبادی کے اس شعر کی زبان میں گویا کہہ رہے ہیں؛

یُوں تو ہم کچھ بھی نہ تھے مِثلِ انار و مہتاب
جب ذرا آگ دکھائی تو تماشا نکلا

اور یہ لفظوں کو آگ دکھانے کا کام عبدالخالق بٹ صاحب نے ایسی ہُنر وری اور ذہنی چابک دستی سے کیا ہے کہ کتاب کا قاری ہاتھ باندھے اُن کے پیچھے ہو لیتا ہے۔ اور بٹ صاحب حرف و الفاظ کی پھُلجڑیوں کی چکاچُوند میں اُسے جہاں چاہتے ہیں ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ یہ تلاشِ حرف و معنی کا سفر اتنا دلچسپ اور خوش مزا ہے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ یہاں مجھے بے ساختہ احمد حاطب صدیقی اور اُن کے الفاظ پیما اور حرف آشنا کالموں کی یاد آ رہی ہے۔ تاہم ابو نثرسے میرا پہلا ادبی تعارف اُن کی مشہورِ زمانہ نظم ، ’’یہ بات سمجھ میں آئی نہیں‘‘ سے ہوا تھا۔ بچوں کے حوالے سے کہی گئی یہ دلنواز نظم جس سے چھوٹوں کے مقابلے میں بڑے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں، میری بھی پسندیدہ نظم ہے۔ میں اِسے جب بھی پڑھتا ہوں، صوفی تبسم کی تخلیق کردہ بچوں کی حیرت انگیز دنیا میں پہنچ جاتا ہوں، اور پھر تادیر وہیں رہتا ہوں۔ ویسے سچ پوچھیے تو بات اب بھی سمجھ میں نہیں آئی اور شاید کبھی آئے گی بھی نہیں، یہی اس کا حُسن ہے۔ میرؔ کا شعر یاد آ گیا۔ آپ بھی سُن لیجئے؛

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا، ہائے
سو بھی اِک عُمر میں ہوا معلوم

واپس لفظ تماشا کی طرف آتے ہیں۔ سرورق کے بعد کتاب کے نام اور موضوع سے مطابقت رکھتی آیتِ قرآنی اور شعرِ رُومیؒ کے بعد ابا جی کی بے شمار شفقتوں اور امّی جی کی بے پناہ محبت سے معمور انتساب سے روحانی مسرّت کشید کرتے ہوئے جب فہرستِ مضامین پر ایک طائرانہ نظر ہی ڈالی تو وہی حالت ہوئی جو ایک شاعر کی چمن میں جا کر ہوئی تھی؛

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھُل گیا

کتاب اگرچہ نظرِ بظاہر کالموں کا مجموعہ ہے تاہم اُن کا مرکزی موضوع وُہی ہے جو کتاب کے سرورق پر درج ہے۔ ’’حرف و معنی کے تعلق کی دلچسپ داستان‘‘ ۔ عنوانات پڑھے تو وہ مجھے اپنے تخلیق کار ’’عبدالخالق بٹ‘‘ سے یہ کہتے سنائی دیے؛
قلعہ و کوٹ و حصار اور گڑھی ایک ہوئے
تِری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

اور یہ ارتباطِ حرف و معنی کے مرکزی عنوان کی یک رنگی سے ذیلی عنوانات کی ہمہ رنگی تک کا سفر، جسے لغتِ تصوّف میں وحدت سے کثرت تک کا سفر کہنا ایسا بے جا نہ ہو گا، کچھ اِسی ایک عنوان پر موقوف نہیں بلکہ ہر عنوان یہی کہانی کہہ رہا ہے کہ لفظ تماشا کا تماشا گر مسافر، معانی کے پروں پر سوار، کیسے الفاظ کے گھونسلوں تک جا پہنچتا ہے اور اِس سفر میں وہ چاروں کُھونٹ گُھومنے کے باوصف اپنا کھُونٹا نہیں چھوڑتا۔ لسانی تحقیقات کی یہ لفظوں کے مَبداء و ماخَذ تک رسائی حاصل کرنے کی نہایت دلچسپ داستان، دورانِ مطالعہ مکمل طور پر پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لیے رکھتی ہے۔ لیکن ذرا ٹھہریے! کیا یہ فقط مختلف زبانوں کے ہم صوت اور ہم معانی الفاظ کی تماشا گری ہے؟ ایسا نہیں ہے، یہ تو اِس کتاب کا محض ایک تحقیقی رُخ ہے، وگرنہ تو اِس ایک کتاب میں ایک سے زیادہ کتابیں پائی جاتی ہیں۔ نئے اور پُرانے، کلاسیکی اور جدید آہنگ کے منفرد اور معیاری اور نایاب اشعار کی ایک خوبصورت بیاض بڑی سہولت سے مرتّب کی جا سکتی ہے۔ کتاب میں شامل اُردو نثر نگاری کے دلکش و دلپذیر اور معلوماتی اور معنی آفریں اقتباسات، جہاں ایک طرف صاحبِ کتاب کی وُسعتِ مطالعہ پر دال ہیں، وہیں دوسری جانب اُن کے حُسنِ انتخاب پربھی داد خواہ ہیں۔ ان سب پر مستزاد خود عبدالخالق بٹ صاحب کے تخلیقی اور ادبی شان کے حامل،کٹیلے،نوکیلے اور دھاری دھار جملے، جولفظ کہانی کو آپس میں مربوط رکھنے کے لیے جا بجا استعمال ہوتے رہے اور کتاب کے اندرون کی خوبصورتی کو مزید اُجاگر کرنے کا سبب بنتے رہے اور موقع بہ موقع مشتاق احمد یوسفی اور مشفق خواجہ جیسے اُردو نثر کے قافلہ سالاروں کی یاد دلاتے رہے۔ کسی بھی تحریر کو پڑھ کر ایسے لوگوں کی یاد آنا کچھ ایسا ہنسی مذاق بھی نہیں۔ یُوں لسانیات سے متعلق خشک اور ادّق موضوع کو ایسی رسیلی اور پُربہار نثر سے دل رُبائی عطا کرنا بٹ صاحب کا کارِ خاص ہے اور انہیں اپنی ایک الگ پہچان عطا کرتا ہے۔ بر سبیلِ تذکرہ اگر ہر ہر صفحے سے ایک ایک جملہ بھی منتخب کیا جائے اور کتاب کا فونٹ تھوڑا بڑھا دیا جائے تو بلا مبالغہ لفظ تماشا کی ضخامت کے برابر ایک کتاب تیار ہو سکتی ہے۔
جملۂ معترضہ کے طور پر یہ بھی عرض ہے کہ اِس گراں قدر تاہم نسبتاً چھوٹے فونٹ میں کمپوز کی گئی اس کتاب کے مطالعے اور ملاحظے کے دوران ایک شُبہ بار بار دل میں سر اُٹھاتا رہا کہ شاید بٹ صاحب نے ’’لفظ تماشا‘‘ کو جوانوں یا چالیس برس سے کم عمر کے قارئین کے لیے تخلیق کیا ہے۔ کیونکہ سُنتے آئے ہیں کہ چالیس برس کے بعد اعضاء اور اعصاب زوال آمادہ ہونے لگتے ہیں اور پڑھنے اور سُننے کی حسّیں یعنی بصارت و سماعت وغیرہ اتنی کارگر و مؤثر نہیں رہتیں۔ لیکن ہم نے جلد ہی اس وسوسے کو ذہن سے جھٹک دیا اور اُسی دقّتِ نظری اور ’’خشوع و خضوع‘‘ سے مطالعہ جاری رکھا، تاآنکہ گوہرِ مقصود کو نہ پہنچے، یعنی مطالعۂ کتاب کو اپنے اختتام تک نہ پہنچایا۔ ویسے یہ کتاب ایک بار نہیں بلکہ حوالہ جاتی کتابوں کی طرح بار بار پڑھی جاتی رہے گی۔
بارِ دگر عرض کرتا ہوں کہ صاحبِ کتاب نے تحقیق کے منظرِ خُشک میں جس انداز سے اَذفر و مُشک کا رنگ بھرا ہے یہ کسی ناپُختہ رنگ ریز کا کام نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے جو محنت، حوصلہ مندی، جانکاہی اور آگاہیٔ فن درکار ہے، بٹ صاحب اس سے پوری طرح بہرہ وَر ہیں۔ اِن سطور کا لکھنے والا یہ کہنے میں کوئی جھجھک اور ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کہ ’’لفظ تماشا‘‘ فقط کتابوں میں نہیں بلکہ اُردو زبان و ادب کے ذخیرے میں ایک باثروت اور وقیع اضافہ ہے۔ دُعا ہے کہ مبداء فیّاض، صاحبِ کتاب کی صلاحیتوں میں مزید ارزانی کرے۔

اختتامِ تحریر پر غالبؔ کا ایک جانا پہچانا شعر، قدرے تحریف کے ساتھ جناب عبدالخالق بٹ صاحب کی نذر کرتا ہوں؛
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ ’’خالق ‘‘ تِری ’’ تحریر‘‘ میں آوے

محمد آصف مرزا ۔۔۔۔۔ کوہ مری 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481