اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایچ اقبال=احمد اقبال

ایچ اقبال=احمد اقبال

ایچ اقبال = احمد اقبال

۔ اصل میں دونوں ایک تھے۔۔ظاہر میں دو۔۔ یک جان دو قالب والا محاورہ شاید ایسی ہی صورت میں استعمال ہوتا ہے

ہر چند کہ ایسا نہ تھا۔۔میں تو نظریہ ضرورت کے تحت1971 میں اقبال احمد خان سے احمد اقبال بنا تھا کیونکہ مارکیٹ میں پہلے سے میرے نام کا معروف صحافی موجود تھا۔۔ایچ اقبال ہمیشہ سے ہمایوں اقبال تھا لیکن لوگ ایچ اقبال کو جانتے تھے۔ الف لیلے ڈایجسٹ کا موجد۔۔پرمود سیریز اور صبیحہ بانو۔ یعنی چھلاوہ کا موجد۔ وضعداری کا پیکر۔ خوبصورت شاندار
میری اس سے ملاقات 1975 سے قبل اس دور کی تھی جب میں دو پہیوں پر پھرتا تھا اوروہ دو ٹانگوں پر۔یعنی نصف صدی سے قبل جب میرے پاس موٹر ساییکل تھی اور وہ پیدل تھا مگر ہم ایک دوسرے کو پہچانتے نہیں تھے۔ایک جگہ اس نے اچانک سامنے آکے کہا”آپ ہمارے لیےؑ کیوں نہیں لکھتے”
میں نے کہا” دکاندار کسی گاہک کو انکار کیسے کر سکتا ہے جو پوری قیمت دینے پر راضی ہو”۔۔۔میں 30 روپے صفحہ لے رہا تھا ۔
اس نے کہا "میں 40 روپے دوں گا” ۔۔تو میں نے کہانی دے دی لیکن کچھ ایسا ہوا کہ ہم دوست بن گئے اور وہ میرے ساتھ موٹر سایکل پر پھرنے لگا۔اس بات کو 53 سال تو ہو گئے مگر اس نصف صدی میں ایک بار بھی میں نے اسے اجلے بے داغ وایل کے سفید کرتے پاجامے کے علاوہ کسی لباس میں اور منہ میں پان کی گلوری کے بغیر نہیں دیکھا۔ ایک زمانے میں جب اس کے معاشی حالات دگرگوں تھے وہ کلفٹن سے برنس روڈ تک رکشا میں اپنی پسند کا پان لاتا تھا.
اس کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے تھا اور اس کے والد کے جوش ملیح آبادی سے دوستانہ گھریلو مراسم تھے چنانچہ جب ” یادوں کی برات” شایع ہوئی تو ایچ اقبال بہت جز بز ہو ا تھا کہ یہ "سب سچ” نہیں ہے، اس میں زیب داستاں کیلیےؑ ملاوٹ کی گئی ہے۔۔ جوش صاحب کی زندگی میں وہ چپ رہا پھر اس نے "ہمایوں بلگرامی” کے نام سے اختلافی مضامیں لکھے مگر طاہر ہے فرق کسی کو نہیں پڑا
وہ شاعر بھی تھا لیکن ادھر گیا نہیں۔میں نے اس کی بہت غزلیں سنیں جو روایتی شاعری تھی۔میری طرح وہ قایل تھا کہ آپ چار کام کر سکتے ہوں تو وہ کریں جس میں کمال کر سکتے ہوں۔ اس نے یہی کیا…
مثال کے طور پر وہ گا سکتاتھا اور ہارمونیم کے ساتھ گاتا تھا۔ اس کے استاد کا نام اب مجھے یاد نہیں ۔ وہ "سلور کوارٹرز "میں رہتے تھے اور میں بارہا اسے وہاں لے گیا۔ایچ اقبال نے کلاسیکی موسیقی پر ایک کتاب”ابجد موسیقی” بھی لکھی اور شایع کی تھی۔ہارمونیم کو عام فہم بنانے اور سیکھنے پر بھی ایک کتاب مرتب کی تھی۔۔مگر وہ موسیقار نہیں بنا..

جب الف لیلے کی اشاعت بڑھنے لگی تو اس کے معاشی حالات میں بہتری آئی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ فیڈرل بی ایریا بلاک 14 کی ایک گلی میں 120 گز کے گھر میں رہتا تھا۔۔گھر کے ڈرائنگ روم اور ایک بیڈ روم کو آفس بنا رکھا تھا جہاں کاتب بھی بیٹھتے تھے۔ اس مکان کے مالک مولانا اکبر انصاری بلاک 16 میں میرے پڑوسی تھے۔ کرایہ وقت پر نہ ملے تو ان کی لڑاکا بیگم مجھ سے شکایت کرتی تھیں”تمہارے دوست نے پھر کرایہ روک رکھا ہے” ۔۔ کئی بار میں نے کرایہ دے کر جان چھڑائی.. ایچ اقبال نے بعد میں ایجنٹ سے رقم وصول ہونے پر مجھے دے دیا
اسی ابتدائی دور یعنی 1973۔74 میں ایک دن وہ میرے ساتھ بازار گیا کہ یار قالین خریدنا ہے۔گھوم پھر کے اپنی پسند کا قالین خریدنے کے بعد وہ اتنا خوش تھا کہ برنس روڈ لے گیا اور میں نے پہلی بار وحید کے فرائی کباب کھایؑے ۔ یہ ابتدا تھی۔ اس کے بعد ایچ اقبال نے پلٹ کے نہیں دیکھا۔
ایک سال بعد جب میں نے1975 میں دس برس پرانی فاکس ویگن لی تو اس نے نئی متعارف ہونے والی لمبی چوڑی لشکارے مارتی ۔ سرخ رنگ کی "–ٹویوٹا مارک ٹو” خریدی۔ اپنی رہایش بلاک ‘این’ نارتھ ناظم آباد میں ‘چیل والی کوٹھی’ کے مقابل کرلی ۔ اس کو شاہانہ انداز میں فرنش کیا۔ مثلا’ 12 کرسیوں والی کھانے کی میز بنوائی۔AKAI آف جاپان کا ساونڈ سسٹم لیا اور وہاں موسیقی کی محافل ہوئیں جن میں مہدی حسن بھی بلائے گئے.
میں نے اپنی سر گزشت "اقبالی بیان” میں یہ سب زیادہ تفصیل سے لکھا ہے
وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھا ۔ لاکھوں خرچ کرنے پر بیوی اپنا گھر بنانے کی بات کرتی تھی تو انکار کردیتا تھا کہ کس کیلیے؟ تمہارے لیےؑ یہ سب ہے اور رہنے کیلیے تمہارےبھائی کا گھر کیا کم ہے۔ جب فراغت میں عیش کوشی بڑھی تو کاروبار نظر انداز ہوا اور غلط افراد کے ہاتھوں میں گیا تو نوبت بہ ایں جا رسید کہ لوٹ کر اسی بلاک 14ایف بی ایریا کے گھر میں آنا پڑا۔ اس کے بعد کے حالات افسوسناک ہیں۔
میں اسلام آباد چلا گیا تھا خبریں مجھے ملتی رہیں مگر ان کا ذکر لا حاصل ہے۔ چند سال قبل شریک حیات بھی نہیں رہی تھی اس کا ذہن پر بہت اثر تھا۔ معراج رسول،7076e0b5 3a29 4783 9478 ae54d103af28 ایچ اقبال=احمد اقبال شکیل عادل زادہ اور انور فراز جیسے لوگوں نے اس کے حالات کو سہارا دینے کی بہت کوشش کی۔ مجھے پروفیس شبنم امان کی پوسٹ سے حالات کی ابتری کا اندازہ ہوا مگر اس وقت تک معاملات بہت بگڑ چکے تھے ۔ طویل عرصہ اس سے رابطہ نہیں رہا۔ پھر کل خبر ملی کہ بد بختی اسے لے گیؑ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481