اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ملکۂ کوہسار۔مری کے پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں کی تجارتی منڈی

ملکۂ کوہسار۔مری کے پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں کی تجارتی منڈی

ملکۂ کوہسار۔مری کے پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں کی تجارتی منڈی

امجد بٹ ۔ مری

قِسمتِ نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
اِک مُقدّس فرض کی تکمِیل ہوتی ہے یہاں

درج بالا شعر کی حقِیقی اور عملی صُورتحال کیا ہے اِس کا اجمالی جائزہ درج ذیل سطُور میں عوام اور اربابِ اِختیار کی نذر ہے ۔
تحصِیل مری میں سو سے زائد پرائیویٹ تعلِیمی اِدارے فروغِ تعلِیم میں حکومتِ وقت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں لیکِن اِن میں قریباً ڈیڑھ درجن (1۔ لارنس کالج ، بانسرہ گلی 2۔ پریزینٹیشن کانونٹ سکُول ، پِنڈی پوانٹ ، 3۔ کانونٹ آف جِیزِز اینڈ میری ، پِنڈی پوائنٹ ، 4۔ اے پی ایس سی ، مری شہر "تِین برانچیں” ، 5۔ فضائیہ اِنٹر کالج ، لوئر ٹوپہ ، 6۔ سینٹ ڈینِیز گرلز ہائی سکُول ، کشمِیر پوائنٹ و گھڑیال ، 7۔ دِی ایجُوکیٹر ، مری شہر ، 8۔ پنجاب کالج ، مری کیمپس ،9۔ کیڈٹ کالج ، بھُوربن ، 10۔ کیڈٹ کالج ، کمپنی باغ ، 11۔ دارِارقم ہائی سکُول ، سنی بینک "مُسلم مِشنری اِدارہ” ، 12. گرِین لینڈ بورڈنگ سکُول ، بھُوربن ۔ پانچ برانچیں ، 13۔ پی اے ایف کیڈٹ کالج ، لوئر ٹوپہ ، 14۔ مِلٹری کالج ، اپر ٹوپہ ، 15۔ پاکِستان کیڈٹ کالج ، سنی بینک چوک ، 16. آغوش کالج ، ایکسپریس وے” مُسلم مِشنری ادارہ” ، 17. دُخترانِ اِسلام کالج ، بانسرہ گلی "مُسلم مِشنری ادارہ” ، 18۔ مِثالی پبلک سکُول ، سوراسی روڈ ، نیُو مری ) کو سرکاری تعلِیمی اِداروں پر بھی ہر لحاظ سے برتری حاصِل ہے ، جِن کے نتائج اور تعلِیمی ماحول سرکاری تعلِیمی اِداروں کے مُقابلے میں سب کے لئے قابلِ تقلِید ہے ۔ اگرچہ یہ اِدارے تعلِیم سے زیادہ مال بنانے میں پیش پیش ہیں لیکِن یہاں پڑھے ہُوئے طُلباء و طالِبات اندرُون و بیرُون مُلک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے آئے ہیں ۔ جب کہ یہاں پڑھنے والے بچّے جب بھی اِنہی میں سے کِسی بھی ایک سکُول میں داخلہ ٹیسٹ دینے چلے جائیں تو وہ اُن کے معیار پر پُورا نہیں اُترتے ۔ باقی اِدارے تو تعلِیم کے نام پر بدنُما داغ کے سِوا کُچھ نہیں ۔ کِیُوں کہ یہاں سرکاری تعلِیمی اِداروں سے نِکالے گئے بچّوں کو بھی پُورے سال کی فِیس لے کر ایک جماعت آگے داخلہ دے دِیا جاتا ہے اور یہاں ایسے اِدارے بھی ہیں جو پُورے سال کی ہزاروں روپے فِیس مع داخلہ فِیس لے کر ایسے بچّوں کا بھی مِڈل اور میٹرک کا جعلی داخلہ بھیج دیتے ہیں جو کبھی وہاں زیرِ تعلِیم رہے ہی نہ تھے ۔ اِن میں سے چند سکُولوں کے اساتذہ کے تو اپنے پرائیویٹ سکُول ہیں جو اگلی کلاسوں میں داخلے کا لالچ دے کر سرکاری سکُولوں کے بچّے اُن کے ہیڈ ماسٹروں کی مِلی بھگت سے اپنے سکُولوں میں لے جاتے ہیں ۔
حکُومتِ وقت کے فیصلے کے مُطابِق ایک مزدُور کی ماہانہ تنخواہ کم از کم 37 ہزار رُوپے طے کی گئی ہے لیکِن عوامی سروے کے مُطابِق کِسی پرائیویٹ سکُول ، ہوٹل یا اِدارے میں اِن قوانِین کی پاسداری نہیں کی جاتی بلکہ پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں کے اکثر اساتذہ تو ایسے ہیں جِنہیں آٹھ سے دس ہزار ماہانہ تنخواہ دے کر 15 اور 20 ہزار ماہانہ پر دستخط کروا لئے جاتے ہیں جبکہ سربراہِ اِدارہ یا نام کے پرنسپل کو اُس کی قابلِیّت ، اِدارے کی آمدن اور شہرت کی مُناسبت سے 20 تا 40 ہزار تنخواہ دی جاتی ہے اور عُذر یہ پیش کِیا جاتا ہے کہ حکُومت کے ٹیکس ، سکُول کی مرمّت ، مہمان داری اور سٹیشنری وغیرہ کے اخراجات اِدارہ ہی کو کرنا پڑتے ہیں ۔
اِن تعلِیمی اِداروں کا ایک تکلِیف دہ پہلُو یہ بھی ہے کہ عام اساتذہ کو دس تا بِیس ہزار رُوپے ماہانہ مُعاوضہ دے کر اُن سے پچاس ہزار والی محنت لی جاتی ہے اور اُن کی محنت کا پھل سکُول مالکان کی جھولِیوں میں جا گِرتا ہے ۔
مری شہر اور قُرب و جوار میں چند اِدارے ایک صنعت یا کارخانے کے طور پر صِرف مالکان کی نسلوں کو عیّاشیاں فراہم کر رہے ہیں جب کہ یہاں کام کرنے والے” مزدُور” جِینے کے نام پر مر مر کر جی رہے ہیں ۔ اِن اِداروں میں سکُول اور ہوٹل سرِفہرِست ہیں ۔ جِس طرح سکُول کی اساتذہ ، اِنتظامی عملے اور درجۂ چہارم کے مُلازمِین کی محنت کے نتِیجے میں حاصل ہونے والے مُنافع کا 70 فِیصد سے زائد حِصّہ مالکان کی تجورِیوں میں گُم ہو جاتا ہے بِالکُل اِسی طرح ہوٹلوں کی اِنتظامیہ اور مزدُور عملے کی محنت سے حاصِل ہونے والی دولت کا 80 فِیصد حِصّہ چند مالکان کی پُرتعیّش زِندگی کا اِیندھن بنتا ہے اور اِس کی ششماہی و سالانہ جھلک ماہِ رمضان میں حرم پاک میں دیکھی جا سکتی ہے ۔
مری کے 10 مربّع کِلومیٹر میں 500 سے زائد ہوٹل صِرف بیرے ، باورچی ، ڈرائیور ، چوکِیدار اور بدتہذیب ایجنٹ مُعاشرے کو دے رہے ہیں ، جبکہ عُلماء ، ماہرِینِ تعلِیم ، سائنسدان ، اِنجِینئر ، ریاضی دان ، کمپیُوٹر ماہریِن ، وکلاء اور بیوروکریٹ دینے والی واحد کوہسار یُونِیورسٹی بھی تعلِیم عام کرنے کے بجائے اِنٹر کالج ختم کرنے کے جُرم کا اِرتکاب کر کے جہالت عام کر رہی ہے ۔
پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں کے مُقابلے میں سرکاری سکُولوں کے اساتذہ ( جو بظاہر پرائیویٹ اساتذہ کی نِسبت زیادہ تعلِیم یافتہ ہوتے ہیں) کی تنخواہ 35 یا 40 ہزار سے شُرُوع ہو کر دو لاکھ کے قرِیب جاتی ہے لیکِن وہ 20 ہزار ماہانہ کا کام بھی نہیں کرتے ۔ اِس کا مطلب تو یہ ہُوا کہ تعلِیم کا عمل ڈِگری اور تجربے سے زیادہ تدرِیسی مُہارت کا مُتقاضی ہوتا ہے ۔ جبکہ حکُومت اساتذہ کی تنخواہوں کے عِلاوہ سرکاری تعلِیمی اِداروں میں فِی بچّہ ماہانہ 15 تا 20 ہزار رُوپے خرچ کرتی ہے ۔
پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں کی کم تنخواہ میں اِن اساتذہ نے آنے جانے کا کرایہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ خُوش لِباس ماڈل ٹِیچر نظر آنے کی ذِمّہ داری بھی نِبھانا ہوتی ہے ۔ اکثر خواتِین اساتذہ تو اِس تنخواہ میں ایک دو سُوٹ ہی بنا پاتی ہیں ۔ اگر اِن کے شوہر ، بھائی اور والد گھر کا مُعاشی نِظام نہ چلا رہے ہوں تو اِس تنخواہ میں ہر ٹِیچر کا خاندان فاقوں کی نذر ہو جائے ۔ جبکہ کئی قابل اور تعلِیم یافتہ محنتی خواتِین اساتذہ تو اپنے نِکھٹُّو مردوں کو بھی پال رہی ہوتی ہیں ۔ مرد اساتذہ تو ہر ماہ دس تاریخ کو ہی خالی جیب ہو کر قرض لینا شُرُوع کر دیتے ہیں اور پرائیویٹ سکُولوں کا کوئی ٹِیچر کامیاب ازواجی زِندگی گُزارنے کے قابل نہیں ہوتا ۔
اگر ترقّی یافتہ مُمالک سے اپنے اساتذہ کے معیارِ زِندگی کا موازنہ کِیا جائے تو شرمساری کے سِوا کُچھ نہیں بچتا ۔ جِن اقوام نے اساتذہ کا معیارِ زِندگی بُلند کِیا ، اُن کو زیادہ مرتبہ اور مقام عطا کِیا وہ اقوام آج دُنیا کے ہر شعبے پر حُکمرانی کر رہی ہیں لیکن بدقِسمتی سے ہمارے سرکاری اور پرائیویٹ اساتذہ کا مطمع نظر بہتر تنخواہ کے سِوا کُچھ نہیں ۔ پُورے وطن میں ایک فِیصد اساتذہ بھی ایسے نظر نہیں آتے جو خُود کو فِطری طور پر مُعلّم ثابت کر سکیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ پیشۂ پیغمبری ہے ۔ دراصل جِس کو کہیں نوکری نہ مِلی تو وہ قوم کا بِیڑہ غرق کرنے کے لئے اُستاذ بن گیا ۔
تدرِیس سے فِکری اور عملی وابستگی رکھنے والے اساتذہ اپنے کِردار ، وسیع النظری ، عِلم دوستی ، غیر جانبداری اور سائنسی طرزِ فِکر کے باعث آج بھی مُعاشرے میں اپنا مقام بنانا جانتے ہیں ، اپنے پیشے سے جُنُون اور عِشق کے باعث وہ پیکرِ تدرِیس بنے پھِرتے ہیں ۔
پرائیویٹ سکُولوں کی اِنتظامیہ کے خِلاف روزنامہ نوائے وقت کے نامہ نِگار اِمتیاز الحق کی رپورٹ پر چند روز قبل پِنڈی بورڈ کی ایک ٹیم نے سکُولوں میں چھاپا مار کر رپورٹ تیّار کی ۔ شِکایت یہ تھی کہ ماہانہ اور داخلہ فِیسوں کے عِلاوہ سالانہ فنڈ کے نام پر ہزاروں رُوپے کی رقم بٹوری جا رہی ہے ۔ اگر داخلہ فِیس اور ماہانہ فِیس کی مد میں اِضافی اخراجات شامِل ہیں تو پھر سالانہ فنڈ کے نام پر نئی لُوٹ مار کا کیا جواز ہے ؟
عسکری اشرافیہ کے زیرِ اِنتظام تعلِیمی اداروں ( لارنس کالج ، ملٹری کالج ، کیڈٹ کالج اور اے پی ایس سی) میں متوسط طبقہ کے پڑھنے والے صِرف سِولِین بچّوں سے سالانہ فنڈ اور ڈونیشن لینا اِنتہائی نااِنصافی ہے ۔
یہ درُست ہے کہ سالانہ فنڈ پُورے مُلک کے پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں میں لِیا جا رہا ہے اور مُلک بھر کے پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں کی نِسبت مری میں فِیس کم لِی جا رہی ہے لیکِن یہاں کی اکثریت کے ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ 5 فِیصد خُوشحال خاندان اپنے بچّوں کو نامور اِداروں میں پڑھا رہے ہیں ۔
مری کے مُسلم اور مسیحی مِشنری تعلِیمی اِدارے اِس لُوٹ مار سے اِس لئے مُستثنیٰ ہیں کہ وہ اپنی آمدن کا خطِیر حِصّہ سکُول اور طُلباء و طالِبات کی بہتری پر اِستعمال کرتے ہیں ۔ اِن اِداروں کی شاندار عمارات اور تعلِیمی نِظام اِس بات کا مُنہ بولتا ثبُوت ہے ۔ یہاں متوسط طبقے کے سینکڑوں ایسے بچّے بھی زیرِ تعلِیم ہوتے ہیں جِن کی فِیس مُکمّل یا نِصف مُعاف ہوتی ہے اور مُستحِق بچّوں کو کُتب ، سٹیشنری اور وردی بھی اِدارہ فراہم کرتا ہے ۔ پریزینٹیشن کانونٹ سکُول مری کا وہ واحد پرائیویٹ تعلِیمی اِدارہ ہے جو اپنے اساتذہ کو سرکاری سکیل کے مُطابِق تنخواہ دیتا ہے اور یہاں کی تعلِیم پاکِستان کے کِسی بھی معیارِی تعلِیمی اِدارے سے کم نہیں ۔
سرکاری سکُولوں میں بچّوں کو کِتابیں مُفت ، وردی مُستحِق بچّوں کو مُفت حکُومت کی طرف سے دی جاتی ہے جبکہ فِیس بِالکُل نہیں لی جاتی اور اِس کے مُقابلے میں پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں کے بچّوں سے موسمِ سرما کی فِیس تو پیشگی لے لی جاتی ہے لیکِن اکثر اساتذہ کو تنخواہ نہیں دی جاتی ۔
یہاں چند پرائیویٹ تعلِیمی اِدارے اِضافی قابلِیّت والےماہر اساتذہ کے بغیر اِنٹرمیڈیٹ ، اے لیول اور او لیول کی کلاسِز شُرُوع کر رہے ہیں ۔ ظُلم کی اِنتہا دیکھیں کہ مِڈل اور میٹرک کو پڑھانے والے اساتذہ اب درج بالا کلاسِز کو پڑھائیں گے ۔ جبکہ دونوں کا نِصاب الگ الگ اور کِتابیں بھی دستیاب نہیں ۔
اگرچہ پرائیویٹ تعلِیمی اِدارے اساتذہ سے زیادہ محنت کروا کے بہت کم تنخواہ دیتے ہیں لیکِن اُن کی ایک خُوبی کو نہ بیان کرنا نااِنصافی ہو گی وہ یہ کہ یہاں جو اُمِیدوار مُلازمت کے لئے غیر تربِیّت یافتہ حیثیت سے آتے ہیں ، یہ اِدارے اُن کی تعلِیمی اور تدرِیسی نشو نُما کر کے تدرِیسی تجربے کا حامِل بناتے ہیں جِس کے نتِیجے میں اُنہیں دِیگر سکُولوں میں بہتر تنخواہ پر مُلازمت مِل جاتی ہے۔
معیارِی تعلِیمی اِداروں کو مُعاشرے کی طرف سے جِن تعلِیمی رُکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ والدین کی لاپرواہی اور غیر ذِمّہ داری سے جو طُلباء و طالِبات ناکام ہو جاتے ہیں اُن کے لواحقِین اِن کمزور بچّوں کی اِصلاح اور کمزوریوں کو دُور کرنے کے بجائے اگلی جماعتوں میں ترقّی دِلوانے کے لئے ہر ناجائز حربہ اِستعمال کرتے ہیں اور ناکامی کی صُورت میں سکُول کے خِلاف اِلزامات کا ایک محاذ کھول لِیا جاتا ہے اور اِس محاذ میں ہمارے سرکاری افسران اور بلیک میلر صحافی پیش پیش ہوتے ہیں ۔ اِس طرح کی سفارشات سے بچّوں کے بعد سب سے زیادہ تدرِیسی عملہ مُتاثر ہوتا ہے ۔
جدِید تعلِیمی نِظام خیر کے ساتھ شر کا باعث بھی بن رہا ہے ۔ اِسی مصنُوعی نِظام کی آڑ میں محنت سے جان چُھڑانے والوں نے چور راستے بھی نِکال لئے ہیں ۔ سرکاری سکُولوں کی دیکھا دیکھی غیر معیارِی پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں میں بھی سکُول اِنتظامیہ کی طرف سے سوشل مِیڈیا کا جھُوٹ پر مبنی اِستعمال ہو رہا ہے ۔ سرکاری سکُول روزانہ کی بُنیاد پر اپنی نِصابی اور ہم نِصابی سرگرمِیوں کی تصوِیری رپورٹ اعلیٰ حُکّام کو بھیجنے کے پابند کر دِئیے گئے ہیں ۔ جِس کے نتِیجے میں بچّوں اور سکُول سٹاف کا مجمُوعی وقت تدرِیس سے زیادہ فوٹو سیشن میں گُزر جاتا ہے۔ جب بی ایڈ اور ایم ایڈ کی پروفیشنل تدرِیسی ڈِگری والوں سے حکُومت پولیو قطرے ، الیکشن ڈیُوٹی ، اِمتحانی ڈیُوٹی ، ڈینگی ڈیُوٹی اور خانہ و مردم شُماری وغیرہ جیسے غیر تدرِیسی کام سکُول اوقات میں کروائے گی تو پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں کا مُقابلہ کیسے مُمکِن ہو گا ؟
پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں نے بھی نہ صِرف بچّوں کو فیل کرنا چھوڑ دِیا ہے بلکہ ہر بچّے کی کلاس میں پڑھتے ہُوئے خُوبصُورت تصاوِیر بنا کر والدین کو وٹس ایپ کر دی جاتی ہیں ۔ بچّے خُوش ، والدین راضی ، سکُول کی آمدن جاری و ساری اور تعلِیم گئی بھاڑ میں بیچاری ۔
کِیُوں کہ اِن اِداروں میں چند پروفیشنل اساتذہ( بی ایڈ ، ایم ایڈ ، بی ایس سی ، ایم ایس سی) کے عِلاوہ اکثر اساتذہ کم تعلِیم یافتہ(میٹرک ، اِنٹر یا زیادہ سے زیادہ بی اے) "ہیلپِنگ ٹِیچر” کے نام پر رکھ کر تعلِیمی تجارت کو تحفّظ فراہم کِیا جا رہا ہے اور وطنِ عزیز کے دیگر شہروں اور دیہاتوں کا حال تو اِس سے بھی بُری اور خستہ حالت میں ہے ۔
یہی والدین جو سکُولوں کی فِیس ادا کرتے ہُوئے غُربت اور مہنگائی کی داستانیں سُنا رہے ہوتے ہیں ، لیکِن پُر تکلّف دعوتوں ، قِیمتی فینسی ملبُوسات اور سیر سپاٹوں جیسی فضُول خرچِیوں کے لئے ہزاروں رُوپے لُٹاتے وقت غُربت اور مہنگائی کو بھُلا دیتے ہیں ۔ بلکہ ایسے ایسے لوگوں نے فِیس مُعافی اور فِیس میں رعایت کی درخواستیں دے رکھی ہیں جِن کی ماہانہ آمدن نہ صِرف چھ ہِندسوں کو چھُو رہی ہے بلکہ شادیوں پر ہزاروں رُوپوں کو نِچھاور کرنا اُن کے جاہ و جلال کا حِصّہ ہے ۔
ہم نِصابی سرگرمِیوں کے نام پر نامور تعلِیمی اِداروں کی بھیڑ چال میں متوسّط طبقوں کا جِینا مُحال ہو جاتا ہے ۔ مُقابلوں میں شامِل والدین سے ایسی ایسی اشیاء کی فرمائش کی جاتی ہے جِنہیں خریدنے کے لئے مقرُوض ہونے کے عِلاوہ کوئی حل نہیں رہتا ۔ ٹیبلو شو ہوں یا مِینا بازار اور دِیگر میلہ جات والدین کے وقت اور پیسے کے ضیاع کے سِوا کُچھ نہیں ۔ اگر اِنہی اِداروں کو یہ اخراجات خُود کرنا پڑیں تو سال میں تِین بار فِیسیں بڑھائی جائیں گی۔
تعلِیم کے نام پر درج ذیل تجارتی گوشوارہ مُلاحِظہ فرمائیں :
(1). یہاں کے مُختلِف پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں میں داخلے کے وقت (10 تا 30 ہزار داخلہ فِیس و سالانہ ترقّیاتی فنڈ 10 تا 35 ہزار ناقابلِ واپسی ، سکیورٹی فِیس یعنی زرِ ضمانت 15 تا 40 ہزار قابلِ واپسی) کُل 35 ہزار تا ایک لاکھ رُوپے یکمُشت ماہانہ فِیس کے عِلاوہ داخلے کے نام پر اِضافی رقم لے لی جاتی ہے ۔
(2). ماہانہ ٹیُوشن فِیس 4 ہزار تا 25 ہزار ۔
(3). ماہانہ میس چارجِز یعنی کھانے کے اخراجات 15 تا 25 ہزار ۔
(4). ماہانہ ہاسٹل چارجِز یا اقامتی مصارِف 15 تا 25 ہزار ۔
(5). سالانہ میگزِین چارجِز یا جرِیدہ مصارف 2000 ۔
(6). سالانہ میڈیکل فنڈ 10 تا 15 ہزار ۔
(7). دھوبی کے اخراجات 10 تا 15 ہزار سالانہ ۔
(8). سالانہ سکیورٹی چارجِز یا زرِ تحفّظ 36 ہزار تا 75 ہزار ۔
(9). ایندھن مصارف”دسمبر تا جنوری” 4 تا 6 ہزار ۔
(10). والدین کے لاڈ پیار والی اِضافی رقم اور جیب خرچ اِس کے عِلاوہ ہیں ۔
نوٹ :- معیارِی اِداروں میں سب سے کم فِیس لے کر "بِیکن ہاؤس” ، "سِٹی سکُول سِسٹم” اور رُوٹس جیسے معرُوف تعلِیمی اِداروں کے مُقابلے میں تعلِیم دینا پریزینٹیشن کانونٹ سکُول کا اعزاز ہے جبکہ اقامتی اِداروں کے ماہانہ مصارف درج ذیل یا اِس کے لگ بھگ ہیں:-
(1) ” گرِین لینڈ بورڈِنگ سکُول ، بھُوربن 35 ہزار ۔
(2) ” پی اے ایف کیڈٹ کالج ، لوئر ٹوپہ ، 70 ہزار ۔ اور داخلہ کے وقت اڑھائی سے پونے تِین لاکھ پیشگی ۔ یاد رہے کہ اِس ادارے کے ایک تعلِیمی دورانیے میں پُورے پاکِستان سے صِرف ساٹھ بچّوں کو راشد مِنہاس شہید جیسے کیڈٹ بنانے کے لئے مُنتخِب کِیا جاتا ہے ۔
(3) ” مِلٹری کالج ، اپر ٹوپہ ، 70 ہزار ۔
(4) ” لارنس کالج ، بانسرہ گلی ، ایک سے سوا لاکھ ۔
درج بالا مضمُون میں مذکُور 18 تعلِیمی اِدارے پاکِستان بھر میں مری شہر کا تعلِیمی چہرہ ہیں ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481