اسلام آباد کے علاقے پنڈوریاں اشرف ٹاؤن میں منشیات فروش مافیا نے معروف سماجی کارکن اور سابق امیدوار برائے یو سی چیئرمین اشتیاق عباسی کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔
اشتیاق عباسی گزشتہ چند ماہ سے علاقے میں منشیات فروشی کے خلاف اہل علاقہ کے ساتھ آواز بلند کر رہے تھے اور ان سمیت آٹھ افراد کو قتل کی دھمکیاں بھی دی جا رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق بدھ کی صبح 10 بجے کے قریب تین موٹر سائیکلوں پر سوار ملزمان نے انہیں گھر کے قریب دن دہاڑے فائرنگ کا نشانہ بنایا اور ان کے جسم میں سات گولیاں پیوست کر دیں۔ اشتیاق عباسی کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزمان کے چہرے پر کوئی نقاب نہیں تھا اور انہیں شناخت بھی کر لیا گیا ہے جن کا تعلق منشیات فروش مافیا سے ہے۔مکینوں کے مطابق اسلام اباد کی حدود میں واقع اشرف ٹاؤن پنڈوریاں کا یہ علاقہ چرس ،ہیروئن ،آئس سمیت ہر قسم کی منشیات کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ اس حوالے سے علاقہ مکین کئی بار احتجاج کر چکے ہیں اور اشتیاق عباسی نے دو روز پہلے ہونے والے جرگے میں اعلان کیا تھا کہ اگر پولیس نے منشیات فروشی کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی نہ کی تو کھنہ پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج اور دھرنا دیا جائے گا۔
دوسری طرف واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے سے منتخب رکن قومی اسمبلی راجہ خرم نواز ، اسلام اباد سے منتخب وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سمیت اہم شخصیات پمز ہسپتال پہنچ گئیں جہاں بڑی تعداد میں مشتعل افراد موجود تھے جو منشیات فروشوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
اس موقع پر رکن قومی اسمبلی راجہ خرم نواز نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ ہم علاقے سےمنشیات کی لعنت کا خاتمہ کیے بنا چین سے نہیں بیٹھیں گے۔اس دوران آئی جی پولیس کے ساتھ بھی اعلی سطح کا اجلاس منعقد کیا گیا جس کے بعد ہنگامی طور پر منشیات فروشوں کی سرکوبی کے لیے سہالہ پولیس کو بھی ٹاسک دے دیا گیا ہے۔
مقتول اشتیاق عباسی کا تعلق مری کے علاقے مسیاڑی سے تھا جن کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی مری اور ملحقہ لوگ علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ ان کے گھر جمع ہو گئے
