اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اتوار کے اسرائیلی حملوں میں مزید 46 فلسطینی شہید

اسرائیل غزہ جنگ بندی معاہدے پر رضامند

جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل نے دہشت گردی جاری رکھی ہوئی ہے،اتوار کے روز حملوں میں مزید 46 فلسطینی شہید ہوگئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ اور دیگر علاقوں میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں 46فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں 19 جبکہ غزہ سٹی کے زیتون محلے میں 2 افراد شہید ہوئے۔ وسطی غزہ کے دیر البلاح میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں 8 فلسطینی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔طبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ خان یونس میں 19، غزہ طوفہ اور اطراف میں 10 جبکہ دیر البلاح میں 8 فلسطینی شہید ہوئے۔اس کے علاوہ غزہ سٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 2 فلسطینی شہید ہوئے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے فضائی حملوں میں رہائشی عمارتوں، پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق 18 مارچ کو یکطرفہ طور پر جنگ بندی معاہدہ توڑنے کے بعد اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں کم ازکم 1309 فلسطینی شہید جبکہ 3 ہزار 184 افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی دہشت گردی میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

غزہ کے شہری دفاع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل کو طبی عملے کے قتل کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جانا’بدتر’ ہوگا۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں فلسطینی شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے کہا ہے کہ امدادی کارکنوں، پیرا میڈکس اور سول ڈیفنس کی ٹیموں پر حملے کے اثرات بہت سنگین ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا بین الاقوامی برادری یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ہیلتھ ورکرز اپنے انسانی مشن کی تکمیل بند کر دیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر ان مجرموں کو سزا نہیں دی گئی اور یہ اسرائیلی بے رحمی سے کام کرتے رہے تو وہ فلسطینی آبادی میں مزید جنگی جرائم اور مزید قتل عام کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ا


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481