اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ملک کے اندر مذہبی منافرت اور لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے

ملک کے اندر مذہبی منافرت اور لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے

ملک کے اندر مذہبی منافرت اور لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے: وزیراعظم

اسلام آباد میں ’رب ذوالجلال کا احسان پاکستان‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھ کر پاکستان کے معاشی، معاشرتی اور دہشت گردی کا مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی کےخاتمے کے لیے ایک مرتبہ پھر افواج پاکستان قربانیاں دی رہی ہیں، اس کے باوجود ملک کے اندر تفریق ہے، مذہبی منافرت ہے، لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے، ذاتی خواہشات آگے لانے کے لیے قومی مفاد قربان کرنے کی جو سوچ ہے وہ بے وفائی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عظیم ملک پاکستان کے لیے ہم نے قربانیاں دیں آج وہاں پر ترقی اور خوش حالی کے مناظر کے بجائے تفریق ہے اور اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے ملکی استحکام، عزت اور وقار کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ آج بھی موقع ہے کہ فیصلہ کریں کہ پاکستان کے وسیع ترمفاد کی خاطر اپنی تمام ذاتی خواہشات اور انا کو پاکستان کے تابع کریں، اس سے بڑی پاکستان کی خدمت نہیں ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مملکت خداد پاکستان کو اللہ نے جوہری قوت سے نوازا ہے، جوہری افزودگی کے خلاف تمام عالمی طاقتیں متحد ہیں اور کہیں پر مارنے کی کوشش کرے گا تو وہ اس کو سزا دینے کے لیے تیار ہیں لیکن خدائے بزرگ برتر کا جتنا شکر کرے کم ہے، جس کی کمال مہربانی سے پاکستان 1998 میں ایٹمی قوت بن گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا کوئی ازلی دشمن ہو یا کوئی قریبی دشمن ہو تو اللہ نے اس قوم کو بہادر فوج کے علاوہ جوہری طاقت عطا فرمائی ہے، دشمن اگر ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کرے تو یہ قوم اس کو روند ڈالے گی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم قوم کی ترقی، یک جہتی اور اتفاق کے لیے اپنے ذاتی اختلافات دفن کریں، ذاتی خواہشات قربان کریں، یہی وہ واحد راستہ ہے، جس سے پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس لیے معرض وجود میں نہیں آیا تھا کہ ہم قرضے لیتے رہیں اور قرض کی زندگی بسر کریں، جب تک ہم پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط قلعہ نہیں بنالیں اس وقت تک ہمیں بھرپور خیال رکھنا ہوگا کہ معاشی آزادی کے حصول تک سیاسی آزادی خواب ہوتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481