اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مزید 60 فلسطینی شہید

یمن سے اسرائیل پر ہائپر سونک میزائل سے حملہ

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ کے پانچ کارکنوں سمیت مزید 65 فلسطینی شہید ہوگئے

 

دوسری طرف  اسرائیل نے لبنان کو بھی جنگ کی دھمکی دی ہے، اس حوالے سے دستیاب تفصیلات کے مطابق غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے اقوام متحدہ کے 5 کارکن اور60 شہری شہید ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والے کینسر اسپتال کو 2017 میں ترکیہ کی 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا اور یہاں سالانہ 10 ہزار مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ اسرائیلی فوج نے رفح میں بھی زمینی آپریشن اور شمالی علاقوں کی طرف پیش قدمی کی جس پر فلسطینی پھر سے علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین(انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہاب تک انروا کے ہلاک شدگان ارکان کی تعداد284 ہوگئی ہے جن میں یادہ تر اساتذہ، ڈاکٹر ز اور نرسز ہیں۔ دوسری جانب ہفتہ کو اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی لبنان کے قصبوں حولا، مرکبا اور یحمر الشقیف پر گولہ باری کی ہے۔ یہ بمباری اسرائیلی فوج کے اس اعلان کے فوراً بعد کی گئی، جس سے 2 شہریوں کے شہید ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، جب اسرائیل نے لبنان سے داغے گئے پانچ میں سے تین میزائلوں کو سرحدی شہر المطلہ میں روک دیا۔ یہ 3 ماہ سے زائد عرصے میں اپنی نوعیت کی جنگ بندی کی پہلی خلاف ورزی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بظاہر باقی دو میزائل لبنان میں گرے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

 

 

 

اسرائیلی جنگ نے غزہ کی ترقی کو 60 سال پیچھے کر دیا

اسرائیلی جنگ نے غزہ کی ترقی کو 60 سال پیچھے کر دیا..file photo

 

لبنانی ایجنسی کے مطابق 10 اسرائیلی گولے یحمر الشقیف، ارنون اور کفر تبنیت میں گرے۔ لبنانی میڈیا نے بتایا کہ دیر سریان اور عدشیت میں یونیفل مراکز میں سائرن بجائے گئے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ تلۃ الحمامص میں اسرائیلی فورسز نے مرکبا اور حولا کی طرف فائرنگ کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی طیاروں نے مشرقی سیکٹر پر بھی پروازیں کی ہیں جس سے اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کو روکنے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی کے ساتھ لبنانی رابطوں کا اشارہ ملتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنی سرزمین سے داغے جانے والے کسی بھی میزائل کا ذمہ دار لبنانی حکومت کو ٹھہرایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ میزائل داغےجانے کا مناسب جواب دیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ المطلہ کو نشانہ بنانا بیروت کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے جنوبی سرحد پر نئے سرے سے فوجی کارروائیوں کے خلاف خبردار کیا ہے کیونکہ ملک کو ایک نئی جنگ میں گھسیٹنے کے خطرات ہیں جو لبنان اور لبنانیوں کے لیے تباہی کا باعث بنے گی۔ نواف سلام نے قومی دفاع کے وزیر میجر جنرل مائیکل مانسی کو کال کی اور تمام ضروری حفاظتی اور فوجی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور امن کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق صرف ریاست کو ہے۔ نواف سلام نے لبنان میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ذاتی نمائندے جینین پلاسچارٹ کو بھی فون کیا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کے لیے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ کو دوگنا کرے کیونکہ یہ قبضہ بین الاقوامی قرارداد کی خلاف ورزی ہے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481