اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہسار کا درویش

The dervish of Kohsar

کوہسار کا درویش

 

علم و عمل کے بام و در آج سوگوار ہیں، درد و غم کی آندھیاں چل رہی ہیں، اور دل ایک ناقابلِ بیان سناٹے میں ڈوب چکے ہیں۔ حضرت قاری سعید صاحب رحمہ اللہ ایسا مہیب خلا چھوڑ گئے ہیں جو شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔ ان کی درد میں ڈوبی ہوئی باتیں، وہ سوز و گداز سے لبریز بیانات، وہ علم و حکمت کے دریا جو ان کی زبان سے بہتے، سب ایک ناقابلِ فراموش یاد بن گئے ہیں۔ ان کی آواز کا جادو، ان کے الفاظ کی تاثیر، اور ان کے اشعار کی وہ پرترنم گونج جو سننے والوں کے دلوں میں اتر جایا کرتی تھی، اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ وہ خود بھی روتے تھے اور دوسروں کو بھی اپنے اشکوں میں شریک کر لیتے تھے۔ کتنے دل ان کی صحبت سے سیراب ہوئے، کتنی زندگیاں ان کی نصیحتوں سے بدل گئیں، اور کتنے راہ گم کردہ مسافر ان کی رہنمائی میں منزل تک پہنچ گئے!

 

وہ صرف ایک عالمِ دین نہیں تھے، بلکہ پورے خطۂ کوہسار کے ہر فرد کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ کسی کی خوشی ہو یا غم، وہ ہمیشہ ساتھ کھڑے ہوتے۔ ان کی شخصیت کا سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ وہ کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر، خالص محبت اور شفقت کے ساتھ سب کے خیرخواہ تھے۔ ان کے جنازے میں شامل ہجوم صرف عقیدت مندوں کا نہیں، بلکہ دل شکستہ یتیموں، پریشان حال شاگردوں، غمزدہ اہلِ علاقہ اور ہر اس شخص کا تھا، جس نے کبھی ان کی شفقت کو محسوس کیا تھا۔

 

مجھ پر ان کی خاص شفقت تھی، اور میرے والد صاحب، چچا جان اور برادران کے ساتھ ان کا تعلق محبت اور اپنائیت کا تھا۔ لیکن یہ تو ہر شخص محسوس کرتا تھا کہ قاری صاحب اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق اور مہربان ہیں۔ وہ ایک ایسی ہستی تھے، جو جس سے ملتے، اسے یہی گمان ہوتا کہ قاری صاحب کو اس سے سب سے زیادہ محبت ہے۔ آج وہ چہرہ جس میں نور تھا، وہ لب جو حکمت و نصیحت کے موتی بکھیرتے تھے، اور وہ وجود جو سراپا خیر و برکت تھا، ہم سے جدا ہو گیا۔ ان کی یوں اچانک جدائی کی خبر نے ان کے چاہنے والوں پر سکتہ طاری کر دیا ہے، جیسے کوئی مسافر اچانک راستے میں بچھڑ گیا ہو اور باقی قافلہ حیرت سے اس کے نقشِ قدم کو دیکھتا رہ جائے۔

 

قاری صاحب علم کے امین، محبت کے سفیر اور کردار کی معراج تھے۔ وہ ایک سایہ دار درخت کی مانند تھے جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں نہ جانے کتنے لوگ سکون پاتے۔ ان کے حلقہ درس میں بیٹھنے والا ہر طالب علم ان کی شفقت کو اپنا خاصہ سمجھتا، ان کی نصیحت کو اپنی زندگی کی روشنی گردانتا۔ وہ جب درس دیتے، جب بیان فرماتے، جب اشعار پڑھتے، تو سامعین کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتے جہاں علم، عمل، محبت، اور درد کا حسین امتزاج ملتا تھا۔ وہ محض عالم نہیں تھے، مربی بھی تھے، صرف معلم نہیں تھے، بلکہ رہنما تھے۔

 

نصف صدی تک علم کے چراغ روشن کرنے والے اس عظیم معلم کی خدمات کو چند الفاظ میں سمونا ممکن نہیں۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ ان کی جدو جہد کا وہ ثمر تھا جس نے نہ جانے کتنے ذہنوں کو روشن کیا، اور کتنے ہی سینوں میں دین کی محبت پیدا کی۔ خطہ کوہسار کے طول و عرض میں ان کی آواز اصلاح، ہدایت اور خیرخواہی کا استعارہ بن گئی۔ آپ کی آواز میں ایک ایسا ترنم تھا کہ جب وہ اشعار پڑھتے، تو نہ صرف خود روتے تھے، بلکہ آپ کے ساتھ پورا مجمع بھی آبدیدہ ہو جاتا تھا۔ یہ آواز، یہ اثر، یہ کرنیں، یہ حرارتیں کسی عام انسان کی نہیں، ایک درویش کی تھیں۔

 

اب سوچتا ہوں کہ یہ کیسا وقت ہے؟ یہ کیسی جدائی ہے؟ وہ شخص جو ہمیشہ زندگی کے ہر موڑ پر ہمت اور حوصلہ دیتا تھا، خود ہمیں سوگوار کر گیا۔ ابھی نئے سال کے آغاز پر صاحبزادہ مفتی سیف اللہ صاحب کی طرف سے مدرسہ کی پچاس سالہ خدمات پر ایک مجلہ شائع کرنے کی تجویز سامنے آئی تھی، اور میں سوچ رہا تھا کہ اس تاریخی دستاویز کی تیاری میں اپنا حصہ ڈالوں گا اور قاری صاحب کی بے لوث خدمات پر انھیں خراج تحسین پیش کروں گا، مگر یہ کس نے سوچا تھا کہ یہ تحریر خراجِ تحسین کی بجائے نوحہ بن جائے گی؟

 

یہی تو خاص بات ہوتی ہے ان درویشوں کی، وہ اپنی خدمات کا صلہ دنیا میں نہیں لیتے، وہ دنیاوی ستائش کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ اخلاص اور للہیت کے ایسے درجے پر ہوتے ہیں جہاں ان کے لیے صرف ایک ہی شرف کافی ہوتا ہے، اور وہ ہے ربِ کریم کی رضا! میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایسے نیک بندوں کو دنیاوی تعریفوں میں الجھنے نہیں دیتا، وہ انہیں وہ اجر عطا کرتا ہے جو انسانی گمان سے بھی بالا تر ہے۔

 

اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ کیا اس چراغ کے بجھ جانے کے بعد اندھیروں میں بھٹک جائیں؟ نہیں! قاری صاحب کا اصل حق یہی ہے کہ ان کے کام کو آگے بڑھایا جائے، ان کی فکر کو زندہ رکھا جائے، ان کے مشن کو جاری رکھا جائے۔ وہ چلے گئے، مگر ان کی آواز آج بھی ہمارے کانوں میں گونجتی ہے، ان کے نقشِ قدم آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

 

دنیا کی یہی ریت ہے، یہاں کوئی ہمیشہ نہیں رہتا، مگر کچھ لوگ اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد بھی نقوش باقی رہ جاتے ہیں۔ وہ اپنی تعلیمات میں، اپنی یادوں میں، اپنے شاگردوں میں، اپنی خدمات میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہتے ہیں۔ قاری صاحب بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے، ان کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوگی، ان کا فیض کبھی رکے گا نہیں۔

 

اللہ تعالیٰ حضرت قاری سعید صاحب کی روح کو سکون دے، اور ان کی تمام خدمات کا شایان شان بدلہ دے۔ اور پسماندگان مفتی سیف اللہ و مفتی عبداللہ برادران و قاری طاسین صاحب و مولانا قاسم شعیب صاحب سمیت تمام شاگردان اور محبت رکھنے والے سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔

 

یکے از شاگردان قاری صاحب

عاطف ہاشمی

دوحہ، قطر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481