اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہم یہاں حکومتیں چلانے کیلئے نہیں بیٹھے،جسٹس جمال مندوخیل

We are not sitting here to run governments Justice Jamal Mandokhel ہم یہاں حکومتیں چلانے کیلئے نہیں بیٹھے،جسٹس جمال مندوخیل

ہم یہاں حکومتیں چلانے کیلئے نہیں بیٹھے،جسٹس جمال مندوخیل

سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے اہم ریمارکس د ئیے کہ ایک وقت تھا جب عدالتیں حکومتیں چلاتی تھیں، اب وہ وقت گزر چکا، ہم یہاں حکومتیں چلانے کیلئے نہیں بیٹھے۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 5 رکنی آینی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ نامزد ملزمان کو ضمانتیں مل چکی ہیں، واقعہ کی تفتیش درست نہیں ہوئی، ہماری سپریم کورٹ اور بھارتی سپریم کورٹ میں بہت بڑا فرق ہے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے اقدام پر مہر لگائی، ہماری سپریم کورٹ نے 2014 میں ایسا نہیں کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ جو بات آپ کر رہے ہیں وہ تو نیشنل ایکشن پلان میں شامل ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اگر ضمانت ہوئی ہے تو منسوخی کیلئے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔ ہم ٹرائل کے عمل میں اس وقت مداخلت نہیں کر سکتے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز نے موقف اپنایا کہ یہاں حکومت کیخلاف اس لیے بات کی جا رہی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر ویوز ملیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حال ہی میں ٹرین پر دہشت گردی کا افسوس ناک واقعہ ہوا۔ اگر ایک انفرادی شخص غفلت برتے تو یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا پوری اسٹیٹ ملوث ہے۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس کی سماعت 5 ہفتوں تک کیلئے ملتوی کردی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481