اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کیوں در زنداں کھلتا ہے؟

کیوں در زنداں کھلتا ہے؟

کیوں در زنداں کھلتا ہے؟

 احمد اقبال

اب سے 73 برس قبل ایک دن سکول میں ہمیشہ مقفل رہنے والی الماری کو کھلا دیکھا تو پتا چلا کہ اس زنداں کی نئی اسیر کچھ کتابیں لائی گئی ہیں۔ اس سے پہلے کہ در زنداں پھر بند ہوتا میں نے ایک کتاب اٹھا کے کہا "یہ میں لے لوں” اور بہرے کلرک نے کتاب یا میری طرف دیکھے بغیر سر ہلا دیا تو میں جس کتاب کے ساتھ فرار ہوا وہ اشفاق احمد کی "ایک محبت سو افسانے تھی” ۔۔ ایک گھنٹے بعد فارسی و اردو کے استاد نے میری چوری پکڑلی تو غصے سے ان کا حال برا ہو گیا۔ "اس عمر میں ایسی فحش کتابیں بستے میں لاتے ہو”، وہ غصے  میں تھر تھر کانپنے لگے۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ مجھے آٹھ ڈنڈے رسید کرتے ہیڈ ماسٹر راونڈ لگاتے آگئے اور کیس ان کی عدالت عالیہ میں پیش ہوگیا۔ وہ سخت گیر لیکن اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب انسان تھے ۔ ان کے سامنے بڑے اعتماد سے میں نے جھوٹ بولا "ابا کی کتاب ہے سر۔غلطی سے آ گئی”۔ کیس وہیں ختم ہو گیا

وہ میری لائبریری کی پہلی کتاب تھی۔ اگلے 73 برس میں وہ لائبریری کچھ اسی طرح بڑھی۔ کوئی کتاب کسی سے پڑھنے کے لیے لی تو کبھی دینے والے کو واپسی یاد نہ رہی، تو کبھی میں نے رونی شکل بنا کر کہہ دیا کہ گم ہو گئی ہے۔ ایک آنہ روز کا جیب خرچ مشکل سے آدھی چھٹی میں گڑ چنے کے لیے پورا ہوتا تھا۔ کتاب کی خریداری کہاں سے کرتا۔ گورڈن کالج پہنچنے تک شاید بیس با بائیس کتابیں ہوگئی تھیں۔ سوچا تو بہت کہ لائبریری سے چوری کا موقع ملے مگر انگریز بڑے سیانے تھے کہ مسجد سے جوتا چرانے والی قوم ہے، اعتبار کے قابل نہیں۔ کتاب پندرہ دن کے لیے ملتی تھی تو چودھویں کے چاند جیسی لائبریرین یاد دلا دیتی کہ کل پندرھواں دن کتاب کی واپسی کا ہے۔ پھر بھی ایک کتاب کے لیے درد ناک کہانی بنائی کہ کیسے بس میں رہ گئی ۔شفیق اور بزرگ پرنسپل آر آر سٹیورٹ نے کہا کہ قیمت اقساط میں ادا کر دو۔ ترس یوں نہیں کھایا کہ تب ماہانہ 26 روپے کی فیس دینے والا کیسے کہتا کہ میں واقعی غریب ہوں ۔ غریب تو ساڑھے تین روپے ماہانہ پر گورنمنٹ کالج میں پڑھتا۔ شاید اسے پتا نہیں تھا کہ کچھ باپ کیسے پیٹ کاٹ کے اولاد کے لیے ناممکن کو ممکن بناتے ہیں۔
وارے نیارے ہوئے جب میں بی اے کرنے پشاور کے ایڈورڈز کالج میں پہنچا۔ وہ آسٹریلین گورا پرنسپل تھا جسے خبط تھا اعتماد سکھانے کا۔۔۔ ہمت ہے تو خزانہ لوٹو، جہاں اعتبار کا معاملہ ہو تو ایک پیسہ خزانے میں کم نہ ہو۔
مجھ سے سینئر احمد فراز نے بتایا کہ لائبریری کھلی ہے، جو کتاب چاہو نکالو اور پڑھو۔ باہر لے جانے کے لیے اس خوابیدہ سے لائبریرین کو نام لکھوا دو۔۔۔۔اب دیکھیں کہ اللہ کیسے قلوب کو بدلتا ہے۔ صرف ایک کتاب قمیص کے اندر چھپا کے نکالی تو رات بڈھا فل ایڈمنڈ خواب میں آیا اور کہتا رہا مسٹر اکبال۔۔کل کتاب واپس وہیں رکھ دینا۔ یو آر اے گڈ بوائے۔۔۔۔۔ پس ایسا ہی ہوا۔

سیکھی یہیں مرے دل کافر نے بندگی
رب کریم ہے تو تری رہگزر میں ہے

پھر ریڈیو پاکستان پشاور کے در کھل گئے، افسانوں ڈراموں کا معاوضہ ملنے لگا۔ پہلی تحفے میں ملنے والی کتاب فراز کا مجموعہ کلام "تنہا تنہا”،  پہلی خریدی ہوئی کتاب "نقش فریادی” ہوئی۔ اس کے بعد جب کتاب نے مجبور کیا کہ مجھے خریدو تو دل نے کتاب کا ساتھ دیا؛ یوں سالہا سال تک خریدی ہوئی کتابوں سے لائبریری بنتی گئی۔ اس میں اکثریت فکشن کی تھی۔ نصف صدی بعد وہ وقت آیا جب میں کراچی کے گلشن معمار والے اپنے "خوابوں کے محل” میں تھا کہ ہمیں کتابیں اعزازی ملنے لگیں اور نو وارد ان پر "گر قبول افتد۔۔۔۔۔” لکھنے لگے تو اردو کے منتخب شعر و ادب کی یہ لائبریری ہزاروں کتب پر مشتمل تھی۔
تب گردش روزگار کے سبب میں لوٹ کے پنڈی آیا تو کرایہ کے گھر میں احساس ہوا کہ کتابوں سے زیادہ انسانوں کے لیے رہنے کی جگہ ضروری ہے۔ سو کتابوں کو کارٹن میں محبوس کر دیا گیا۔۔ اس کے بعد ہر تیسرے چوتھے سال کرائے کے نئے مکان میں سامان منتقل کرنا پڑتا تو مزدور کتابوں کی تعداد سے حیران اور وزن سے پریشان ہوتے۔ کوئی پوچھ لیتا کہ اتنی کتابوں کو پڑھنے سے کیا ہوتا ہے؟ اسے ترس آتا تھا کہ اتنی کتابیں پڑھ لیں مگر رہتا کرائے کے گھر میں ہے۔ پانچ یا چھ گھر بدلنے کے بعد اب میری لائبریری ایک سٹور روم میں فالتو اور بے مصرف سامان کے درمیان کہیں پڑی ہے۔۔اور وہیں پڑی رہے گی جب تک ان کو کباڑی تول کے نہیں لے جاتا۔کتابوں کے ساتھ اب ایسا ہی ہوتا ہے۔ میں مستقبل قریب میں کم سے کم تین احباب کے ایسے اسباب شوق کا یہ انجام تصور کر سکتا ہوں۔
لیکن وہ جو مشہور ہے کہ اللہ شکر خورے کو شکر دیتا ہے وہ بڑا سچ ہے۔ اچانک "پی ڈی ایف” اور الیکٹرونک لائبریری کا ظہور ہوا اور اب میں پھر اپنی خوش بختی پر نازاں ہوں کہ سینکڑوں من پسند کتابوں کی پوری لائبریری ایک لیپ ٹاپ میں ساتھ لیے پھرتا ہوں.


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481