اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وہ پانچ سو کا نوٹ

4f763248 ad8e 448d 8faa 95e36e7f10b7

چند سال پہلے کی بات ہے۔ میں اسلام آباد سے کراچی آیا ہوا تھا اور اُس دن مجھے اپنے دوست شفیق اللہ اسمٰعیل کے گھر دعوت میں گلشن اقبال جانا تھا۔ میں ملیر سے نکلا اور مین روڈ پر بس اسٹاپ پہ آ کے کھڑا ہو گیا۔ یہاں کئی رکشے موجود تھے۔ میں نے ان سے گلشن اقبال کا پوچھا۔ کسی نے چار سو روپے کہے کسی نے تین سو۔ ایک بزرگ رکشے والے نے کہا دو سو روپے۔ میں حیران ہوا، کیونکہ دو سو روپے اس نے خاصے کم بول دیئے تھے۔ اس فاصلے کے تین سو روپے بھی ٹھیک ہی تھے۔ بہرحال میں رکشے میں بیٹھ گیا اور رکشہ چل پڑا۔
رکشے والا بوڑھا سا آدمی تھا۔ اسے غالباً راستوں کا صحیح اندازہ بھی نہیں تھا۔ اس نے میری منزل تک پہنچنے کیلئے ایسا راستہ منتخب کیا جو بلا وجہ طویل تھا۔ ڈرگ روڈ سے نیپا … نیپا سے حسن اسکوائر … پھر آگے پرانی سبزی منڈی … وہاں سے یوٹرن کر کے واپس حسن اسکوائر … اور پھر اندر گیلانی ریلوے اسٹیشن کی طرف سے گلشن اقبال بلاک تیرہ ڈی۔ بڑ ی دیر میں اس نے منزل پر پہنچایا، حالانکہ وہ درمیان میں کوئی شارٹ کٹ بھی لے سکتا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ اگر وہ اس راستے کے تین سو روپے بھی مانگتا تو کم ہی ہوتا۔ پھر ایک بات اور بھی تھی۔ اس کے رکشے کا ایک ٹائر بھی تقریباً ناکارہ تھا۔ راستے بھر رکشہ جھٹکے لیتا آیا تھا۔ مجھے بوڑھے رکشے والے پر رحم آیا کیونکہ ایک تواس کے رکشے کی حالت ٹھیک نہیں تھی دوسرے اس نے کرایہ بھی کم مانگا تھا۔
جب اس نے مجھے اتارا تومیں نے اسے پانچ سو روپے کا نوٹ دیا۔
”کھلا نہیں بھائی میرے پاس“ وہ بولا۔
”کوئی بات نہیں“ میں بولا۔ ”آپ پانچ سو روپے پورے رکھ لیں“
”نہیں جی پورے کیسے رکھ لوں؟ … دو سو روپے ہوئے“وہ بولا۔
”نہیں … آپ کے رکشے کا ٹائر بھی خراب ہے“میں بولا۔”جب بھی آپ دوسرا ٹائر خریدیں تو یہ اضافی پیسے میری طرف سے اس کی قیمت میں ڈال دیں“
وہ کچھ دیر خالی خالی نظروں سے کبھی مجھے اور کبھی نوٹ کو دیکھتا رہا، پھر شکریہ کہہ کر چلا گیا۔ جب میں شفیق اللہ کے گھر پہنچا تو وہاں اور بھی احباب جمع تھے۔ پرتکلف کھانا اور دلچسپ گپ شپ رہی۔ واپس جانے کیلئے اٹھے تو میں نے دیکھا کہ اب میری جیب میں کھلے پیسے نہیں ہیں، بس پانچ ہزار کا ایک نوٹ تھا۔ اس کے علاوہ جو وہ پانچ سو کا نوٹ تھا وہ میں اس رکشے والے کو دے چکا تھا۔ مجھے کچھ پریشانی ہوئی۔ میں نے شفیق اللہ سے کہا کہ وہ مجھے پانچ ہزار کا کھلا دے دے کیونکہ مجھے آگے بھی کئی جگہوں پر جانا تھا اور ٹیکسی رکشے لینے تھے۔
شفیق اللہ مجھ سے پانچ ہزار کا نوٹ لے کر گھر کے اندر گیا، لیکن کچھ دیر بعد واپس آ کر بولا کہ گھر میں پانچ ہزار کا کھلا موجود نہیں۔
”یہ پانچ سو روپے رکھ لیں“وہ بولا۔ ”اگلی ملاقات پر واپس کر دیجئے گا“
میں نے کہا ٹھیک ہے اور اس سے پانچ سو کا نوٹ لے لیا۔
جب سب مہمان باہر نکلنے لگے تو سلیم مغل بھی ساتھ تھے۔ وہ حسن اسکوائر پر رہتے ہیں۔ کہنے لگے :
”آپ کو کہاں جانا ہے میں چھوڑ دیتا ہوں“
”بس مین روڈ تک چھوڑ دیں“ میں بولا۔”وہاں سے میں کوئی رکشہ کر لوں گا“
میں ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔
”ویسے آپ کو جانا کہاں ہے؟“وہ بولے۔
”مجھے تو پریس کلب جانا ہے“ میں بولا۔
”تو میں وہیں چھوڑ دیتا ہوں نا“ وہ بولے۔
”ارے نہیں نہیں سلیم بھائی … آپ اس قدر ٹریفک میں اتنی دور کیوں جائیں گے؟ … آپ کا اپنا گھر تو یہیں قریب ہی ہے“ میں نے احتجاج کیا۔ لیکن وہ نہیں مانے اور شدید ٹریفک میں اچھا خاصا ٹائم لگا کر مجھے پریس کلب تک پہنچا دیا۔
شفیق اللہ کا دیا ہوا پانچ سو روپے کا نوٹ جیب میں ہی رکھا رہ گیا۔
پریس کلب میں رات گئے تک دوستوں سے محفل رہی۔ بارہ ایک بجے جب میں واپس جانے کیلئے اٹھا تو موسیٰ کلیم نے پوچھا کہ گھر کیسے جائیں گے؟
”یہاں سے کوئی ٹیکسی رکشہ کرلوں گا، چار پانچ سو روپے میں گھر چھوڑ دے گا“
”نہیں نہیں … ٹیکسی کرنے کی ضرورت نہیں … میں اپنی گاڑی میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں“ موسیٰ بھائی بولے۔
میں اس پر بالکل تیار نہیں تھا، کیونکہ وہ خود تو مرکزِ شہر سے قریب بہادر آباد میں رہتے تھے۔ میری وجہ سے انہیں دور ملیر جا کر پھر واپس آنا پڑتا۔ لیکن وہ نہیں مانے اور اپنی گاڑی میں مجھے ملیر تک لے آئے۔
وہ پانچ سو روپے کا نوٹ پھر ویسے کا ویسے میری جیب میں رکھا رہ گیا۔ یعنی وہ پیسے مجھ سے خرچ ہی نہیں ہوئے جو میں نے اس غریب رکشے والے کو دیئے تھے۔ بلکہ اس دن میری جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا۔ میں بڑا حیران ہوا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ کسی کا دکھ محسوس کریں تو اللہ کیسے مال میں برکت دیتا ہے۔ یہ سوچ کر کچھ شرمندگی بھی ہوئی کہ میں نے رکشے والے کو پیسے کم کیوں دیئے۔
کچھ دن کراچی میں گزار کر میں اسلام آباد واپس آگیا۔ کافی دن بعد دوبارہ کراچی گیا تو شفیق اللہ سے ملا اور اس سے کہا :
”بھیا … براہِ مہربانی اپنے یہ با برکت پانچ سو روپے واپس لے لیجئے کیونکہ یہ مجھ سے خرچ نہیں ہو رہے، آپ خود ہی خرچ کیجئے“
”کیا مطلب؟…“ وہ چونکا۔
جب میں نے اسے اپنے رکشے میں سفر والا قصہ سنایا تو وہ بھی حیران رہ گیا۔ اس قصے سے ہم نے یہ سبق لیا کہ جب آپ کے دل میں کسی کا درد جاگتا ہے اور آپ اس پر کچھ خرچ کر دیتے ہیں تو وہ خرچ لازماً پلٹ کر واپس آتا ہے … اور ضروری نہیں کہ بس اتنا ہی واپس آئے، کئی گنا زیادہ ہو کر بھی واپس آتا ہے۔ خدا جانے اس پانچ سو روپے کے بدلے میں مجھے کتنا مال واپس لوٹایا گیا ہو ؟…
*


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481