اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

یوسفی کے چراغ تلےتقلیب و تصرف کا اُجالا(قسط نمبر7)

یوسفی کے چراغ تلےتقلیب و تصرف کا اُجالا(قسط نمبر7)

یوسفی کے چراغ تلےتقلیب و تصرف کا اُجالا(قسط نمبر7)

عبدالخالق بٹ

دخل در ماکولات
ہر آزاد قوم کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے منہ اور معدے کے ساتھ جیسا سلو کرنا چاہے، بے روک ٹوک کرے۔ اس کے علاوہ جب دوسری قومیں ہماری رساول، نہاری اور فالودے کا مذاق نہیں اڑاتیں تو ہم دخل د ر ما کولات کرنے والے کون؟
مخصوص سیاق میں وضع کی گئی ’ دخل در ماکولات‘ کی ترکیب سے بھر پور حظ اٹھانے کے لیے چند باتوں کا پیش نظر رہنا ضروری ہے:۔
اول یہ کہ دخل در ماکولات ’ دخل در معقولات‘ کی محرف صورت ہے۔
دوم یہ کہ ’ کافی ‘ کی رعایت سے بات مشروبات کی ہو رہی ہے۔
سوم یہ کہ عربی میں پینے کے قابل ہر سیال ’ اکل‘ کی تعریف میں داخل ہے، ’ ماکولات‘ اسی ’ اکل‘ سے مشتق ہے۔
چہار یہ کہ لغت میں ’ دخل در معقولات‘ کے معنی ‘ کسی معاملے میں خواہ مخواہ دخل دینا ، بلاو جہ یا بلا کسی حق و استحقا کے مداخلت کرنا اور جہاں مداخلت کی ضرورت نہ ہو وہاں نا حق مزاحم ہونا‘ ، کے ہیں۔
یہ نکات پیش نظر ہوں تو غیروں کے مشروبات سے کوئی واسطہ نہ رکھنا اور اس کے لیے دخل در ماکولات کی ترکیب لانا کسی کمال سے کم نہیں۔
کافی کا جلا۔۔۔۔۔۔۔۔ چائے کے ارماں
مضمون’ کافی ‘ کی اختتامی سطور میں رقمطراز ہیں:۔
’ میں کافی سے اس لیے بیزار نہیں ہوں کہ مجھے چائے عزیز ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافی کا جلا چائے پھونک پھونک کرپیتا ہے۔
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چائے کے ارماں ہوں گے۔
اس مختصر اقتباس میں دو مقامات پر تقلیبی فنکاری برتی گئی، اول ضرب المثل میں اور دوم شعر میں۔ مشہور ضرب المثل ہے کہ ’’ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘۔ اس کے معنی و مفاہیم درج ذیل ہیں:۔
اگر کسی چیز سے تکلیف پہنچے تو انسان اسی قسم کی چیزوں سے ڈرتا ہے۔
نقصان اٹھا کر انسان ضرورت سے زیادہ ہی محتاط ہو جاتا ہے۔
ایک بار دھوکا کھانے کےبعد انسان مستقبل کے لیے محتاط ہو جاتا ہے۔
جہاں تک شعر کی بات تو مومن خان مومن(1851-1800) نے جہاں ’ چاہ ‘ برتا تھا وہاں یوسفی صاحب نے’ چائے ‘ درج کر کے مصرع موضوع کی مناسبت سے موزوں کرلیا ہے۔
ویسے ’ چائے‘ اور ’ چاہ‘ کی صوتی مماثلت کے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک چائے کمپنی نے اپنی تشہیری مہم میں ’ ہر لمحے کی چاہ‘ کی ٹیگ لائن وضع کی تھی اور دوسری جانب پنجابی کے عوامی لطائف میں’ لپٹن دی چاہ‘ سے ’ لپٹنے کی چاہ ‘ کا مفہم پیدا کیا گیا ہے۔ اب یہ نہیں کہا جاسکتا یوسفی کے ہاں تقلیب پہلے ہوئی یا پنجابی لطیفہ پہلے ظہور میں آیا۔
3۔ یادش بخیریا
لعاب ذہن
’ آغا اپنے لعاب ذہن سے اس کے گردا گرد یادوں کا ریشمی جالا بنتے رہے، یہاں تک کہ اُس نے ایک تہ دار کوئے کی شکل اختیار کرلی۔
آغا تلمیذ الرحمٰن چاکسوی المعروف ’ آغا‘ اس مضمون کا مرکزی کردار ہیں۔ چونکہ یہ کردار ماضی پرست واقع ہوا ہے، سو بیٹے پلوں کے جال کی تیاری میں خام مال کی فراہمی کا ذریعہ ’ لعاب ذہن‘ کو قرار دینا خوب ہے۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ ’ لعاب ذہن‘ کی ترکیب، لعاب دہن‘ کی تقلیب ہے، جس کو بروئے کار لاتے ہوئے ریشم کا کیڑا پنے گردا گرد اس طور ابریشم بنتا ہے کہ اُسی کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔
اک گھونٹ لیا
میاں ! ہم درویش ہیں ۔ ایک گھونٹ لیا، دل شاد کیا، خوش وقت ہوئے اور چل نکلے۔ ملنگ کے دل میں سبیل پر قبضہ کرنے کی خواہش نہیں ہوتی‘
یہ اقتباس ،چُگی ڈاڑھی والے درویش‘ کے اس سوال کا جواب ہے جس میں آغا کو محبوب کی فقط دہلیز چومنے اور در پر دستک نہ دے سکنے پر عار دلائی گئی تھی۔
جواب میں آغا نے جو کچھ کہا اس میں بین السطور نظیر اکبر آبادی(1830-1735) کا تصرف شدہ مصرع درج ذیل صورت میں موجود ہے۔
اک گھونٹ لیا، دل شاد کا ، خوش وقت ہوئے اور چل نکلے
یہ مصرع نظیر کی ایک مخمس کی ’ ٹیپ کا بند‘ ہے۔ جس میں یوسفی نے حسب ضرورت تصرف برتتے ہوئے ’ تک دیکھ لیا‘ کی جگہ ’ اک گھونٹ لیا‘ کردیا ہے۔ اس مخمس سے ایک بند مع اصل مصرع کے ملاحظہ کریں:۔
ہے دید فقط منظور جنہیں وہ ہو کر جب بے کل نکلے
آپہنچے اس کے کوچے میں جو لے کر دل چنچل نکلے
کیا کام انہیں جو ہنس بولے یا شوخی میں اچپل نکلے
ہے مقصد جن کے دیکھے سے وہ گھر سے جب اک پل نکلے
ٹک دیکھ لیا، دل شاد کیا ، خوش وقت ہوئے اور چل نکلے
رہا یہ سوال کہ مصرع تو موقع کی مناسبت سے موزوں تھا، پھر اِک گھونٹ لیا۔۔۔۔۔ ’ کا تصرف کیونکر ہوا؟۔۔۔۔ اس حوالےسے دو باتیں ذہن میں آتی ہیں۔ اول یہ کہ ’’ گھونٹ ‘‘ کا تعلق سبیل سے پیدا کیا گیا ہے۔ جس سے پیاس بجھانے والا اس کی ملکیت کا دعویدار نہیںہوتا۔ دوم یہ کہ آغا کی منظور نظر کوئی ’ ڈومنی‘ رہی ہو گی۔ جس کے دیکھے سے اوروں کی طرح وہ بھی شاد کام ہوتے رہے۔اسی لیے اسے ’ سبیل ‘ سے تشبیہہ دی ہے۔ واللہ اعلم


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481