اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

یوسفی کے ’’ چراغ تلے‘‘ تقلیب و تصرف کا اُجالا(قسط نمبر 5)

یوسفی کے ’’ چراغ تلے‘‘ تقلیب و تصرف کا اُجالا(قسط نمبر 5)

عبدالخالق بٹ

مضامین

1:۔ پڑیے  گربیمار

جینے کی ادا یاد نہ مرنے کی ادا یاد

مجھے اُن خوش نصیب جواں مرگوں سے سرو کار نہیں جو جینے کے قرینے اور مرنے کے آداب سے واقف ہیں۔ میرا تعلق تو اُس مظلوم اکثریت سے ہے جس کو بقول شعار

جینے کی ادا یاد ، نہ مرنے کی ادا یاد‘

اس اقتباس میں بحث طلب مصرع جگر مراد آباد(1960-1890) کا ہے، جس میں کوئی تقلیب نہیں برتی گئی ۔ البتہ ترتیب بدل دی گئی ہے۔ مکمل شعر ہے:۔

کیا جانیےکیا ہوگیا ارباب جنوں کو

مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

جگر مراد آبادی کے کہاں جینے سے پہلے مرنےکا بیان اپنے سیاق میں آیا ہے اور درست آیا، اگر یوسفی کے ہاں یہ ترتیب بدلی ہے تو اس فطری قاعدے کے مطابق ہے ۔جس میں موت سے پہلے  زندگی سے واسطہ پڑتا ہے۔ البتہ چُوک یہ ہوئی کہ اس تبدیل شدہ مصرع کو واوین میں درج کرنے کے بجائے ’ بقول شاعر‘ کہہ کر بیان کردیا گیا ہے ، جس اول نظرمیں تبدیلی کا پتا نہیں چلتا ہے۔

سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے۔۔۔۔۔۔

اپنی بیماری کے بیان میں رقمطرراز ہیں:۔

اس وقت میں اُس بے زبان طبقہ کی ترجمانی کرنا چاہتا ہوں جو اس درمیانی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ جو موت اور زندگی دونوں زیادہ تکلیف دہ ہے اورصبر آزما ہے۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بیماری !

میرا اشارہ اس طبقہ کی طرف ہے جسے

سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے صحت کے سوا‘

اس دکھ بھری داستان کا اختتام جس مصرع پر ہوا ہے، یہ مصرع اصلاً اکبر اللہ آبادی کا ہے۔ جس مشہور شعر کا یہ مصرع ہے وہ معروف مغنیہ گوہر  جان کے بیان میں فی البدیہہ کہا گیا تھا۔

واقعہ یہ ہے کہ کلکتہ کی مشہور مغنیہ گوہر جان ایک مرتبہ الہ آباد گئی اور جانکی بائی طوائف کے مکان پر ٹھہری۔۔۔۔ جب گوہر جان رخصت ہونے لگی تو اپنی میز بان سے کہا کہ میرا دل خان بہادر سید اکبر الہ آبادی سے ملنے کو بہت چاہتا ہے۔ جان کی بائی نے کہا کہ آج میں وقت مقرر کرلوں گی۔ کل چلیں گے۔ چانچہ دوسرے دن دونوں اکبر الہ آبادی کے ہاں پہنچیں۔ جان کی بائی نے تعارف کرایا اور کہا یہ کلکتہ کی نہایت مشہور و معروف مغنیہ گوہر جان ہیں۔ آپ سے ملنے کا بے حد اشتیاق تھا ، لہٰذا ان کو آپ س ے ملانے لائی ہوں ۔ اکبر نے کہا ’ زہے نصیب ، ورنہ میں نہ نبی ہوں نہ امام، نہ غوث، نہ قطب اور نہ کوئی ولی جو قابل زیارت خیال کیا جائوں۔ پہلے جج تھا اب ریٹائر ہو کر صرف اکبر رہ گیا ہوں۔ حیران ہوں کہ آپ کی خدمت میں کیاتحفہ پیش کروں۔ خیر ایک شعر بطور یادگار لکھے دیتا ہوں۔ یہ کہہ کرمندرجہ ذیل شعر ایک کاغذ پرلکھ اور گوہر جان کے حوالے کیا۔

خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا

سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا(5)

یہ یوسفی کا کمال ہے کہ انہوں نے اس پرُ شوخ مصرع میں ’’ شوہر‘‘ کو’صحت ‘ سے بدل کر اپنی تشکیل کردہ فضاء کے مطابق ڈھال لیا ہے۔

علالت بے عیادت

بیمار کے ذکر میں عیادت کے متعلق لکھتے ہیں:

’ اردو شاعروں کے بیان کو باور کیا جائے تو پچھلے زمانے میں علالت کی غایت ’ تقریب بہر ملاقات ‘ کے سوا کچھ نہ تھی۔ محبوب عیادت کے بہانے غیر کے گھر جاتا تھا اور ہر سمجھ دار آدمی اس امید میں بیمار پڑتا تھا کہ شاید کوئی بُھولا بھٹکا مزاج پرُسی کو آ نکلے۔

علالت بے عیادت جلوہ پیدا کر نہیں سکتیٔ

اس اقتباس کے اختتام پر درج تصرف شدہ مصرع مکمل شعر کے ساتھ اصل صورت میں اس طرح ہے:۔

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں  سکتی

چمن زنگار ہے آئینہ باد بہاری کا

اس شعر میں غالب نے عربی مقولے ’ الاشیاء تعر باضدادھا‘ ، یعنی چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ۔ کے مصداق لطافت کے ادراک کے لیے کثافت کا وجود لازمی قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اپنے معنی و مطالب کے اعتبار سے یہ ایک پر مغز مصرع ہے۔ مگر یوسفی نے علالت کو ذریعے عیادت گردانتے ہوئے جس چابک دستی سے اس مصرع میں جو تصرف کیا ہے اس نے اپنے مقام پر ان کے نظریہ ،علالت و عیادت ‘ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

غذا رسیدہ

بیماری میں پرہیزی کھانے سے متعلق لکھتے ہیں:۔

’ اس قبیل کے ہمدردان صحت دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک وہ غذا رسیدہ بزرگ جو کھانے سے علاج کرتے ہیں ۔ دوسرے وہ جو علاج اور کھانے دونوں سے پرہیز تجویز فرماتے ہیں۔ پچھلی گرمیوں کا واقعہ ہے کہ میری بائیں آنکھ میں گوہانجی نکلی تو ایک نیم جان جو خودکو پورا حکیم سامجھتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

موقع کی مناسبت سے ’ غذا رسیدہ‘‘ کی ترکیب خوب ہے ،جو ظاہر ہے کہ ’’ خزاں رسیدہ‘‘ کی تقلیب ہے۔ اس ترکیب کی رعایت سے فیض احم دفیض کا شعر دیکھیں :۔

تری نگاہ ک سی غم گسار کو ترسے

خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے۔

نیز اقتباس بالا میں ’ نیم جان ۔۔۔۔۔ پرا حکیم‘‘ ، کا بیان محاورہ ’ نیم حکیم خطرہ جان‘ سے کشیدہ کر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481