اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بڑے بھائی محمد نواز عباسی المعروف لالہ

a411d5ab c8b3 4b32 b1ae fb06187cd419

آج 26 فروری کو بڑے بھائی محمد نواز عباسی کو ہم سے جدا ہوئے4برس ہوگئے۔وہ آج ہی کےدن2021میں فوت ہوئے۔اس حوالےسےچند یادوں کو ترتیب دینےکی ایک کوشش۔۔

میں نے جب ہوش سنبھالا تب لالہ جوان تھے تب تک ہمارے والدین کی پانچ حیات اولادوں میں لالہ سب سے بڑے اور میں سب سے چھوٹا تھا۔ماں جی بتاتی تھیں کہ لالہ سے چھوٹے ایک بھائی طفولیت میں ہی فوت ہو گئے تھے۔دلچسپ بات یہ کہ لالہ عمر میں مجھ سے ٹھیک 15 برس بڑے تھے اور ان کی تاریخ پیدائش 15 جون 1952 کی تھی اس اعتبار سے مجھے چار پانچ برس کی عمر کی جو باتیں یاد آرہی ہیں تب لالہ کی عمر انیس بیس برس کی تھی۔والد صاحب بیماری کے باعث مسلسل راولپنڈی میں ہی مقیم اور زیر علاج تھے۔میں نے پہلی بار والد محترم کو1970میں دیکھا جب وہ اپنے بھتیجے اور کنبے کے بڑے بیٹے بھائی محمد اسلم کی شادی میں شرکت کے لیے گھر آئے وہ 1966 میں میری پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ہی بیمار ہوکر راولپنڈی سینٹرل ہسپتال میں داخل ہوئے جہاں5 برس مسلسل انکا علاج ہوتا رہا۔سبب اس کا یہ تھا کہ گلے سے ناف تک ان کا ایک پیچیدہ آپریشن ہوا جو بار بار septic ہو جاتا اور اس طویل تر آپریشن جس کی وجہ سے ان کے پیٹ میں 36 ٹانکے لگائے گئے بار بار کے کھلنے اور پھر سیے جانے سے اس کی پیچیدگیوں میں اضافہ ہوتا رہا
اس دوران ماں جی نے سلائی کا ہنر سیکھا اوراسی ہنر کو کام میں لاکر بچوں کی کفالت کا آغاز کیا(یہ سلائی مشین میری ہم عمر ہے اور آج بھی ہمارے گھر میں موجود ہے)
ایسے میں لالہ نے جماعت ہشتم سے سکول چھوڑ دیا اور ماں جی کی زمہ داریاں بانٹنا شروع کردیں۔تب گورنمنٹ مڈل سکول پھپھڑیل کے اساتذہ نے انہیں سکول نہ چھوڑنے پر بہت مجبور کیا مگر کنبے کی کفالت اور بھوک کے ہولناک خطرات کے آگے انہیں یہ کڑوا گھونٹ ہی پینا پڑا
(اگرچہ بعد میں انہوں نے پرائیویٹ مڈل کا امتحان پاس بھی کرلیا)
سکول میں انکے اساتذہ جن سے بعد میں مجھے بھی فیض یاب ہونے کا اعزاز ملا لالہ کی علمی لیاقت ذہانت اور شعر شناسی و سخن فہمی بارے رشک امیر لہجے میں بات کرتے تھے اور ان کے ہم جماعت تو گویا باقاعدہ ان کے مرید تھے۔عین اس ماحول میں اپنے مستقبل کی قربانی دے کر انہوں نے کنبے کی شکم سیری کے لیے سخت ترین مشقت کا راستہ اپنایا
چیڑ کے بلند وبالا درختوں کی شاخ تراشی کرنا انہیں چھانگنا یا کونڈنا،بنجر میدانوں کی کھدائی کرکے انکے کھیت بنانا پہاڑوں اوربڑےبڑے پتھروں کےسینے میں چہبل سے شگاف کرکے انہیں بلاسٹنگ کےبعد قابل استعمال بنانا لکڑی کی سیڑھیاں,ٹین کےنلکےبناکرفروخت کرنا،بیلوں کی جوڑی جوڑ کرمزدوری پر لوگوں کےکھیتوں میں ہل چلانا (لہانونت) اور جانے کیا کیا ہنر تھے جو انہوں نے اس عمر میں سیکھے جب ان کے ہم عمر جوانی کے سنہرے دور کو یادگار بنانے کے لیے خوشحالی کے جھولے جھول رہے تھے۔دن بھر کی مشقت کے بعد جب وہ شام کو گھر لوٹتے تو ان کا جلال دیدنی ہوتا ہم چھوٹے بہن بھائی ان سے بہت ڈرتے تھے اور والد محترم کی غیر موجودگی میں گویا وہی گھر کے حقیقی سربراہ تھے(ان کی مار ہم پہ صورت برق گرتی تھی)
محنت سے محبت اور مشقت میں اطمینان ان کے طبعی لوازم تھےوہ رات گئے تک ہل جونٹ میڑا کوہڑ اور دیگر آلات کاشتکاری کی مرمت کرتے اور صبح سویرے مزدوری پر چلے جاتے۔کاشت برداشت اور زمینداری کے علاؤہ انہیں زراعت اور سبزیوں کی کاشت کا بہت شوق تھا اس ہنر میں ماں جی انکی رہبر اور معاون تھیں۔ال کدو ٹینڈے بینگن بھنڈی توری فراش بین سدا بہار چور چرنڈے ٹماٹر اور دیگر قابل ذکر سبزیوں کی بہار لگی رہتی اور باقاعدگی سے ایک بڑی ٹوکری سبزیوں کی بھر کر پیدل براستہ بڑا ہوتر مسیاڑی مری بازار میں جاکر فروخت کرتے اور دوپہر سے قبل واپس اجاتے۔ستر کی دہائی کے آغاز میں جب گندم کی نئی اقسام میکسی پاک اور لائلپور 73 متعارف ہوئیں تو انہوں نے بھی ان اقسام کی کاشت سے بہترین فصل لیناشروع کی وہ گاؤں کے چند اچھے فصل اٹھانے والوں میں شامل ہوئے۔ گندم کی کٹائی اور گاہائی نیز گھاس کی کٹائی ڈھلائی اور رچائی کے دنوں میں ان کی طبیعت زوروں پہ ہوتی۔ان کے دوست ان سرگرمیوں میں ان کا ہاتھ بٹانے اچھی تعداد میں آجاتے ایسے میں انہیں جب معقول تعداد میں سامعین میسر آجاتے تو وہ اپنی ایک نئی جہت کے ساتھ جلوہ گرہوتے۔اقبال غالب رومی جامی سعدی اور اسی قبیل کے فارسی اور اردو شعرا کا کلام وہ خود گنگناتے بھی اور تحت الفظ میں پڑھتے۔وہ اس امر سے آگاہ بھی تھے کہ ان کے یہ مزدور پیشہ دوست شاعری کا اتنا شغف اور درک نہیں رکھتے مگر انہیں تو اپنی افتاد طبع سے کام تھا۔دوسرے دوست انکے لحاظ اور احترام میں خاموش ہی رہنے میں عافیت جانتے ورنہ لالہ جلال میں آکر یہ اعلان کرتے کہ جو اقبال کے اشعارنہیں سن سکتا وہ بے شک لیتری پہچھی تروپی کہاڑا رچنے یا گندم اور گھاس کی کٹائی میں آنے کی زحمت نہ کرے مگر خدا بھلا کرے دوستان لالہ کا کہ وہ ان کی تلخ ترش سے کبھی بدمزہ نہ ہوئے۔روایتی فصلوں کے علاؤہ انہیں دالوں کی کاشت سے بھی خاص شغف تھا وہ ماش مونگی سفید لوبیا اور موٹھ کی دال بیجتے اور ان سب دالوں کا ایک الگ چھوٹا گاہ بھی گاہیا جاتا..

26cf5e9c a320 4208 9dda 84b870153009
لالہ کی شادی 21 برس کی عمر میں 1973 میں کردی گئی کیونکہ ماں جی کی صحت بھی مسلسل مشقت سے متاثر ہورہی تھی اسی سال وہ CDAمیں بطوربیلداربھرتی ہوگئے۔یہ سملی ڈیم واٹر شیڈمینیجمینٹ پروگرام کا ایک حصہ تھا جس کے تحت مری کے برساتی نالوں کی کٹائی روکنےکےلیے چیک ڈیم بنانےجانےتھے۔اللہ دے اور بندہ لے،الہ کوتو پتھروں کے سینوں میں شگاف ڈالنےکا کمال ہنر آتا تھا۔یونین کونسل مسیاڑی میں دوگینگ بنےجھیکاگلی گینگ اورپھپھڑیل گینگ یہ دونوں گینگ دریائےسواں اور اسکے معاون برساتی نالوں پر چیک ڈیم بنانے گے۔لالہ جھیکاگلی گینگ کے پیش دست ٹھہرےیوں انکے ہنر کےمعترفین کی ایک نئی جماعت وجود میں ائی۔اس دوران لالہ کی سیاسی لیاقت بھی پیپلز پارٹی کے قالب میں ڈھل گئی۔ملازمت سے قبل پھپھڑیل مڈل سکول کی پر شکوہ عمارت اور اس کی بنیادوں میں گڑی پتھر کی ٹنوں بھاری چٹانیں ان کی سخت جانی اور ہنر مندی کی شہادت آج بھی دیتی ہیں۔لوئر ٹوپا پھپھڑیل روڈ کے ابتدائی حیرت انگیز مقامات بھی انہی کی جواں ہمتی اور ولولہ انگیز سیاسی شعور کے گواہ ہیں۔ایک مکمل سوشلسٹ اور پرولتاری ہونے کے باوجود انہیں دینداری سے ازحد لگاؤ تھا۔جامع مسجد سنبل بیا سے ان کی محبت اور عقیدت کا ثبوت وہاں باجماعت نماز میں شمولیت بغیر لاؤڈ سپیکر کے اذان اور نعت انکے وظائف تھے اس شوق کی سے متاثر ہوکر تایا جان بابولال خان جومذکورہ عوامی منصوبوں کے بانی اور تکمیل کےضامن تھے نے جامع مسجد سنبل بیا میں تب لاؤڈ سپیکر لگوایاجب مسیاڑی اوراس سے ملحقہ نمبل کی دونوں یونین کونسلیں اس سہولت سے محروم تھیں۔اس دوران ان کا تبادلہ اسلام آباد کردیا گیا جسے ایک ناگہانی افت سمجھتے ہوئے انکے بہت سے رفقائے کار نوکری چھوڑ کر واپس اگئے۔مگر لالہ نے ہمیشہ کی طرح اس للکار کو بھی ایک موقع میں بدل دیا۔وہ بیلدارسے ہیڈ مالی پھر سپاہی اوربالاخر فارسٹر کےدرجے پر ترقیاب ہوئے۔انہوں نے58سال کی عمرمیں فارسٹرکاکورس درجہ اول میں مکمل کیا اور اسی حیثیت سےریٹائر ہوئے۔گاوں میں خلق خدا کو ان کی بہت ضرورت تھی مگر ملازمت کے سبب اسلام آباد تبادلہ اور بہارا کہو میں انکی رہائش بھی مخلوق کے لیے ایک امید اور سہارے کا سبب بنی۔CDAمیں اپنے ساتھی ملازمین کی حوصلہ افزائی انہیں سروس مکمل کرنے کا حوصلہ,چھوٹے چھوٹے کاموں میں ان کی مدد اور پلاٹ اونے پونے نہ بیچنے کے مشوروں نے بہت سے بے نواؤں کو انکےحق کی وصولی میں مدد کی۔
بھیرہ سیداں میں بجلی کی فراہمی گلیوں کی تعمیر ٹھنڈی ٹوٹی مین سپلائی لائن سے ڈائریکٹ پانی کا کنکشن اور بالآخرگیس کی فراہمی میں انکا کردار بنیادی راہنما کا تھا
وہ ایک سیاسی کمٹمنٹ والے ٹریڈ یونینسٹ تھے۔جب تک پاشا صاحب مرحوم اپنی پارٹی کے ساتھ رہے وہ انکے ہراول میں رہے۔بصورت دیگر انہوں نےاپنا الگ راستہ اختیار کرلیا۔امان اللہ خان اور راجہ نور الہی انکے دوست اور مداح تھے۔بھیرہ سیداں کی ٹیکری کو انہوں نے سیاسی کمٹمنٹ سے پیپلز پارٹی کا گڑھ بنانے میں اہم ترین کردارادا کیا۔راجہ پرویز خان مرحوم,بڑے اور چھوٹے کھوکھر صاحب سب ان کی سیاسی استقامت کےمداح تھے۔سیدنیرحسین بخآری تو جیسے ان کے گھر کے فرد تھے ہر کمی بیشی میں ہمہ وقت ساتھ,حتی کہ مشکل وقت میں کندھا دینے بھی پہنچ آئے

ان کے بچپن اور لڑکپن کے دوست ہم جماعت رفقائے کار سیاسی ساتھی کارکنان اور راہنما جب مجھے ان کےنام اور شباہت سے پہچان کر پوچھتے ہیں کہ آپ نواز عباسی راجہ نواز یا نواز صاحب کے بھائی ہیں تو اقرار پر جب یہ کہتے ہیں کہ آپ بھلے پڑھے لکھے شاعر ادیب اور یونیورسٹی پروفیسر ہیں لیکن جو لیاقت ذہانت اور حاضر جوابی نواز عباسی میں تھی وہ لاجواب اور بےمثال تھی تو یقین کریں میرا سینہ فخر سے چوڑا ہوجاتا ہے کہ جو شخص مجھےاپنے کندھوں پہ بٹھا کر خود ہل چلاتا رہا،جومیری انگلی پکڑ کر مجھے سکول تک لے گیا جس کے اعلیٰ ادبی ذوق نے مجھے شعر کا شعور بخشتا,جس کی انسان دوستی مجھے ورثے میں ملی اور ایم فل میں داخلے کے وقت جس شخص نے مجھے اپنے پسندیدہ کلیات اقبال عطا کیے سچ پوچھیں تو میرے خانہ ءولدیت میں محض محمد اقبال خاں لکھا ہے ورنہ تو میرے روحانی باپ میرے مربی میرے محسن اور میرےلیے سرمایہء حیات تو وہی شخص تھا جس نے اپنی جوانی ہمارےلیے تج دی اپنی تعلیم ہمارے لیے ادھوری چھوڑ دی جس نے سب کچھ ہمیں دےدیااورہم سےکچھ بھی نہ لیا

وہ جو آجاتے تھے آنکھوں میں ستارے لے کر
جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر
چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے

پیڑ گرتا ہے تو آجاتے ہیں آرے لے کر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481