اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سعودی لیبر لاء میں نئی ترامیم

Picsart 24 10 23 17 03 01 618

سعودی لیبر لاء میں اہم ترامیم 

سعودی عرب حالیہ چند برسوں میں خلیجی ممالک کی لیبر مارکیٹ کی دلچسپی دوبارہ اپنی جانب مبذول کروانے میں خاصی حد تک کامیاب رہا ہے۔ جدید عالمی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سعودی حکومت کئی دور رس نتائج کے حامل اہم فیصلے کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ فٹ بال کے عالمی کپ کا سعودیہ میں انعقاد بھی سعودیہ کے لیے ایک بڑا اعزاز اور معاشی موقع سمجھا جا رہا ہے۔ قطر کی طرح سعودی عرب میں بھی کھیل کے میدانوں کی تیاری، ہوٹلوں اور ریستورانوں کی عالمی معیار کی تزئین و آرائش، مختلف سہولیات کی فراہمی اور ملکی ماحول کی بہتری کئی معاشی مواقع کو جنم دے گی۔

سعودی عرب کی کابینہ نے اپنے ایک حالیہ اجلاس میں اپنے لیبر لاء کی مختلف شقوں میں باضابطہ طور پر کچھ ترامیم کی منظوری دی ہے۔ ان ترامیم کا مقصد ملازمین کے لیے کام کے ماحول کو زیادہ پرکشش بنانا اور سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کی مطابقت میں پائیدار ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ یہ ترامیم لیبر مارکیٹ کی حکمت عملی میں بھی معاون ثابت ہوں گی اور یہ بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق بھی کرتی ہیں۔

ان ترامیم سے سعودی لیبر مارکیٹ میں ملازمین کی دل چسپی بڑھانے میں مدد ملے گی کیونکہ ان کے ذریعے ملازمتوں میں استحکام، معاہدوں کی مطابقت میں آجر و اجیر کے حقوق کے تحفظ اور ملازمین کی تربیت و بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو ملازمت کے بہتر اور وافر مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

وزارت انسانی وسائل و معاشرتی ترقی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ترامیم ایک لمبی تحقیق اور غور و خوض کا نتیجہ ہیں۔  ماہرین نے مختلف ممالک کے لیبر قوانین کا گہرا مطالعہ کر کے عالمی سطح پر مروج بہترین نظام کار اور پالیسیوں کی سفارشات پیش کیں۔ ایک سروے کے ذریعے تیرہ سو سے زائد ماہرین و متعلقین کی آراء کی تجمیع کی گئی۔ پرائیویٹ سیکٹر کے ماہرین سے بھی مشاورت کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ متعلقہ سرکاری محکموں، لیبر کمیٹیوں اور انسانی وسائل کے ماہرین کے ساتھ اجلاسوں کے علاوہ ورکشاپوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تفصیلات بتاتے ہوئے وزارت نے اعلان کیا کہ ۔۔

The revisions include modifications to 38 articles, the removal of 7 articles, and the addition of 2 new articles to the Labor Law.

یہ ترامیم آجر و اجیر اور حکومت کے مفادات کے تحفظ اور ملازمت کے بہتر معاہدوں کے نتیجے میں بہتر تعلقات اور کارکردگی پر منتج ہوں گی۔ اہم تبدیلیوں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا۔۔۔۔

Key changes include۔۔۔۔

  • an expansion of the chapters on leave and contracts, (چھٹیوں کا نظام)
  • the introduction of definitions for "resignation” and "outsourcing,”
    and the addition of procedures for resignation. (استعفی اور ٹھیکے پر کام)
  • The amendments also revise worker grievance processes and impose penalties for unlicensed worker recruitment activities. (ملازمین کی شکایات اور غیر تربیت یافتہ ملازمین کے حوالے سے جرمانہ)
  • Employers are now required to establish training and qualification policies to enhance worker skills and performance. (آجر ملازمین کی تربیت کے ذمہ دار ہوں گے)
  • Additionally, significant changes have been made to the maritime labor۔ chapter. ( سمندر اور ساحلوں پر کام والوں کے حوالے سے قوانین میں ترامیم)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481