اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جذباتی ماحول پیدا کیا جاتا ہے،ہماری آواز جرم بن جاتی ہے

جذباتی ماحول پیدا کیا جاتا ہے،ہماری آواز جرم بن جاتی ہے

جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جذباتی ماحول پیدا کیا جاتا ہے، جس میں ہماری آواز جرم بن جاتی ہے۔

وہاڑی میں استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان دینی مدارس کے خلاف ہے، اسے کیسے قبول کرلوں؟

انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں نشانہ بنایا لیکن انہیں کچھ نہیں کہا جو تعصبات پھیلاتے ہیں، سروں پر جو پگڑیاں سجائی ہیں، وہ سر جُھکانے کےلئے نہیں اُٹھانے کےلئے ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم سود کے خاتمے کی آئینی ترمیم لانے میں کامیاب ہوئے ہیں، 26ویں ترمیم میں سود کے خاتمے نے شرعی عدالت کو طاقت دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، شرعی عدالت کا اپنا جج تو چیف جسٹس تک نہیں بن سکتا۔

سربراہ جے یو آئی ف نے یہ بھی کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے فرقہ واریت کرتے ہیں، ہم تو ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں، مدارس اور علماء پاکستان کی وحدانیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین بنا اس میں اسلامی دفعات علماء کی وجہ سے رکھی گئیں، اگر پاکستان سے پیار ہے تو ایک نظریہ پر جمع ہونا چاہیے۔

فضل الرحمان نے کہا کہ جذباتی ماحول پیدا کیاجاتا جس میں ہماری آواز جرم بن جاتی، اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام آئین میں نہ ہوتا اگر علماء نہ ہوتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جے یو آئی عوام کو متحد کرنے کیلئے کوشاں ہے، ملک میں تعصبات پیدا کرنے والے علماء نہیں سیاست دان ہیں، جذباتی ماحول میں ہماری معقول آواز بھی پسند نہیں آتی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481