اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پروفیسرجاوید اقبال ،ایک نابغہ روزگار شخصیت، بے بدل استاد

bd48fd93 8f30 498d 9f71 0f6ebe4d176c

میرے ماموں استاد اور دوست پروفیسر جاوید اقبال پچھلے ہفتے سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ تاہم تدریس کبھی بھی اُن کے لیے محض سرکاری ذمہ داری کا نام نہیں رہا۔ پڑھانے کا جذبہ اُن کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ وہ ایک فطری اور کُل وقتی استاد ہیں اور رہیں گے۔

بی ایڈ میں لازمی مضمون کے ساتھ اختیاری مضمون کے طور پر بھی انگریزی کا انتخاب کر رکھا تھا. ہمارے ٹیوٹر ایک ولایت کے پڑھے ہوئے پروفیسر صاحب تھے. (بعد میں انہوں نے سی ایس ایس کیا اور ‘وڈے افسر’ ہونے) کلاس کے دوران انہوں نے باقی سٹوڈنٹس کے مقابلے میں میری انگریزی کی حالت کافی بہتر پاتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ کیا میری تعلیم کسی اچھے انگریزی سکول سے ہوئی ہے. جواباً انہیں بتایا کہ "سر ایک دور افتادہ گاؤں میں پلا بڑھا اور پڑھا ہوں، ساری تعلیم ٹاٹ سکولوں اور سرکاری کالج، یونیورسٹی کی ہے. انگریزی کی اے، بی، سی سے پہلا تعارف چھٹی جماعت میں ہوا ہے” . بولے: "یقیناً تمہیں انگریزی کے استاد اچھے ملے ہیں.”
ان کی بات درست تھی. میں نے بنیادی انگریزی اور اس کی گرامر جاوید صاحب سے سیکھی ہے.

ایک انٹرنیشنل پروفیشنل سرٹیفیکیشن کے کورس میں ہمارے ٹرینر ایک لائق فائق ایرانی انجنیئر مسٹر جواد خسروی تھے. موضوع پر بلا کا عبور، برطانیہ سے لے کر سینٹرل ایشیا، مڈل ایسٹ اور فار ایسٹ کے کئی ممالک میں ٹریننگ کا وسیع تجربہ. (جواد خسروی بعد ازاں ایرانی حکومت میں گیس اور پٹرولیم وزارت کے ٹیکنیکل مشیر رہے). کلاس روم ٹریننگ میں انہوں نے کچھ حسابی سوالات کے بارے میں پوچھا. سارے سٹوڈنٹس کا جواب تھا کہ ککھ سمجھ نہیں آئی کہ کیسے حل کرنے ہیں . میں اٹھا اور وائٹ بورڈ پر حل کرنا شروع کیا. کوئی راکٹ سائنس نہیں تھی. بس سوال کو سمجھنا تھا، مساواتیں بنانی تھی، باقی سادہ حسابی عوامل تھے. ایک سوال کے حل کے بعد کسی سٹوڈنٹ نے دوسرے کا پوچھا. وہ بھی حل کیا اور سمجھایا. پھر تیسرا، پھر چوتھا اور پانچواں. خسروی صاحب ایک طرف بیٹھے دیکھتے رہے اور بولے:
"Hussain, you’re exceptionally good at understanding and solving the mathematical problems.”
(تمہاری حسابی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت غیر معمولی ہے)
ایک غیر ملکی کی زبان سے تعریف سن کر ‘موگیمبو خوش ہوا’. ایسا لگا یہ صرف میری نہیں، میرے پاکستان کی تعریف ہے.
حسابی مسائل کو ایسے سمجھنا اور حل کرنا بھی مجھے جاوید صاحب نے سکھایا تھا۔

ادب شناسی اور ادب سے محبت بھی وہ پودا ہے جس کی آبیاری میں سب سے بڑا حصہ جاوید صاحب کا ہے. جب میری عمر کے بچے درسی کتاب بھی گائیڈ بک کی مدد سے پڑھتے تھے، میں ماموں کی لائبریری اور رہنمائی کے طفیل اُن کے ساتھ منٹو اور کرشن چندر کے افسانوں کے فنی محاسن ڈسکس کرتا تھا، غالب اور فیض کی شاعری پڑھتا تھا. اتنا کچھ پڑھ ڈالا کہ ایک وقت تھا میں کہا کرتا تھا کہ اردو اور انگریزی کی کوئی قابل ذکر کتاب (اور کچھ ناقابل ذکرِ بھی) ایسی نہیں جو میں نے نہ پڑھ رکھی ہو. اب تو غم ہائے روزگار میں الجھ کر پڑھنے پڑھانے سے تعلق واجبی ہی رہ گیا ہے لیکن آج بھی کوئی اچھا شعر، کوئی خوب صورت فقرہ نظر کے سامنے سے گزرے تو دل اور دماغ کو سرشار کر جاتا ہے. زندگی کی تلخیاں اور تاریکیاں کچھ کم ہوتی محسوس ہوتی ہیں اور زندہ رہنا تھوڑا سا آسان لگنے لگتا ہے. اس آسانی کے لیے تشکر کے سزاوار بھی جاوید صاحب ہی ہیں۔

جاوید صاحب اردو کے پروفیسر رہے، سکول میں ریاضی اور فزکس پڑھاتے رہے۔ لیکن اُن کی تدریسی مہارت مذکورہ مضامین تک محدود نہیں۔ انگریزی کے اصول و قواعد ہوں یا کیمسٹری کا موضوع ہو کہ الیکٹران تھری پی کے بعد تھری ڈی سب شیل میں جانے کے بجاَئے فور ایس میں کیوں چلا جاتا ہے، بائیالوجی میں مائیوسیس سیل ڈویژن کے دوران کروموسومز کی کراسنگ اوور کیسے جینز میوٹیشن اور نتیجے میں ارتقا کی بنیاد فراہم کرتی ہے یا پھر عربی میں ثلاثی مزید اور مزید فیہ کے ابواب کی خصوصیات کیا کیا ہیں۔ یہ سب کچھ جاوید صاحب نے کچھ اس ڈھنگ سے پڑہایا کہ مدتوں بعد بھی ذھن میں محفوظ ہے۔

جاوید صاحب کو علم کی روشنی پھیلانے کا جنون ہے۔ خود پڑھاتے ہیں، کتابیں سجیسٹ کرتے ہیں اور کتابیں بانٹتے ہیں پھر زبردستی ان کو پڑھواتے بھی ہیں۔ اقرا کالج چڑالہ میں بیٹھے میں اور جاوید صاحب کچھ دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا رہے تھے کہ ہمارے دوست زبیر صاحب Zubair Abbasi تشریف لائے۔ زبیر بھائی انتہائی ذھین، حاضر جواب اور دلچسپ گفتگو کرنے والے انسان ہیں۔ باتوں باتوں میں جاوید صاحب نے زبیر صاحب سے پوچھا کہ کیا انہوں نے فلاں ناول پڑھا ہے۔ زبیر بھائی نے نفی میں جواب دیا۔ جاوید صاحب نے انتہائی حیرانی کا اظہار کیا اور بولے: افوہ۔۔۔۔۔ یہ تو افسوس کا مقام ہے۔ اٹھیں، اٹھیں جائیں اور ابھی یہ ناول پڑھ کے آئیں”۔ زبیر بھائی اس نصیحت سے اتنے چارج ہوئے کہ انہوں نے کئی کتابیں بیک ٹو بیک بلکہ فلیپ ٹو فلیپ پڑھ ڈالیں۔ کچھ دن بعد دوبارہ زبیر بھائی سے ملاقات ہوئی تو ان کے ہاتھ میں کوئی کتاب تھی۔ میں نے پوچھا” خیر ہے؟ بڑی پڑھائیاں ہو رہی ہیں”۔ انگریزی میں گویا ہوئے:
There are only two kinds of books under the sun: those I’ve already read and those I will.
(اس دنیا میں صرف دو قسم کی کتابیں ہیں۔ ایک وہ جو مین نے پڑھ لی ہیں اور دوسری وہ جو میں یقینا پڑھ لوں گا)
اس دعوی کو حقیقت میں پورا کرنا تو شاید کسی کے لیے بھی ممکن نہ ہو لیکن یہ دعوی بذات خود ایک کمال ہے اور اس کمال کو پیدا کرنا ہی جاوید صاحب کا کمال۔

جاوید ماموں کو پڑھانے کے لیے کلاس روم کی ضرورت ہے نہ کتاب اور کسی مخصوص وقت ہی کی حاجت۔ چلتے پھرتے، کھانا کھاتے، سفر کرتے کہیں بھی ان کی تدریس جاری رہتی ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا کہ ان کو پڑھانے کے لیے شاید انسانوں کی ضرورت بھی نہ ہو۔ وہ ہل چلاتے ہوئے کسی بیل کو سکھانا شروع کر سکتے ہیں کہ تم اگر گردن کو تھوڑا جھکا کر چلو تو افقی کمپوننٹ کی ویلیو بڑھنے سے تمہیں کم فورس لگانی پڑے گی، یا کسی پودے کوبتا سکتے ہیں کہ تم اگر نوے ڈکری کی بجائے ساٹھ ڈگری پر اوپر کی طرف بڑھنا شروع کر دو تو پتوں پر پڑنے والی دھوپ کی پر یونٹ ایریا انرجی بڑھنے سے تم زیادہ خوراک بنا سکتے ہو!

علم کا ایک سمندر ہونے کے باوجود (یا شاید اسی وجہ سے) مخصوص پروفیسرانہ غائب دماغی اور معصومیت بھی جاوید صاحب کے مزاج کا حصہ ہے۔ ہم لوگ شاید نویں جماعت میں تھے۔ ہمارا کلاس فیلو اور دوست ظہیر عباس Zoheer Abbas Abbasi (آج کل ہمارے علاقے کی معروف سیاسی سماجی شخصیت ہے) جاوید صاحب کے دستخطوں کی بڑی کامیاب نقل کرتا تھا۔ ایک دن اس کا چھٹی کا موڈ بنا تو اس نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے چھٹی کی درخواست لکھی، اس پر جاوید صاحب کے دستخط کیے اور نکل لیا۔ اگلے دن اسمبلی کے بعد رول کال کے دوران کلاس انچارج منیر صاحب نے ظہیر سے گذشتہ روز شام کی حاضری سے بلا اطلاع غائب ہونے پر بازپرس کی۔ ظہیر بھائی نے بتایا کہ وہ جاوید صاحب سے باقاعدہ چھٹی لے کر گیا تھا اور ثبوت کے طور پر جیب سے درخواست نکال کر پیش کردی۔ منیر صاحب نے قریب ہی موجود جاوید صاحب کو درخواست دکھا کر ان سے تصدیق چاہی۔ جاوید صاحب نے درخواست اور اس پر ثبت دستخطوں کو دیکھا اور بولے: مجھے یاد نہیں ہے لیکن دستخط میرے ہیں تو میں نے ہی چھٹی منظور کی ہو گی۔ ظہیر بھائی اپنی جان چھوٹنے پر تھینک یو سر کہتا ہوا اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا۔
ایک روز ہم سب لوگ بیٹھے تھے۔ چھوٹے ماموں جان (عبدالوہاب انکل Abdul Wahab ) نے سومنات کا مندر کس نے توڑا والا لطیفہ سنایا۔ سب ہنسے۔ بس جاوید ماموں نے تھوڑی دیر سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد کہا: مجھے لگتا ہے یہ لطیفہ ہمارے محکمہ تعلیم پر طنز ہے! اصل لطیفے سے زیادہ ان کے اس انکشاف نے لطف دیا۔ ہم لوگ دیر تک ہنستے رہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے اس مربی، محسن اور استاد کو بھی ہمیشہ خوش اور ہنستا ہوئے رکھے اور ان کا سایہ تادیر قائم رکھے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481