اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کولاج (افسانہ)

426468651 297701339992808 9056278456572855711 n

دل بھی بڑی عجیب چیز ہے۔ یہ آئینہ مجھے ہمیشہ ماضی کے عکس ہی دکھاتا ہے۔ جب چاہتا ہوں گردن جھکا کرمرضی کی تصویریں دیکھ لیتا ہوں۔ کبھی رنگین،کبھی سادہ، کبھی نامکمل، اور کبھی مکمل، کبھی شبیہیں، کبھی واضح اور صاف تصویریں۔ ان میں پورٹریٹ بھی ہوتے ہیں، پنسل کے سکیچ کی طرح کے خاکے بھی، کینوس پر پھیلے بے ترتیب رنگ بھی جنہیں مصور نے بے دھیانی میں برش لگا کر چھوڑ دیا ہو، تجریدی آرٹ کے شاہکار بھی اور قدِّ آدم پینٹنگز بھی جومجھے اپنی وسعتوں میں دور تک کھینچتی رہتی ہیں اور میں ان سرابوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہوں۔ مجھے سرابوں کے پیچھے بھاگنا یوں بھی اچھا لگتا ہے۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگتے ہیں تو میں اپنے اندر اس سفر پر روانہ ہو جاتا ہوں۔ ان گلیوں، کوچوں اور سڑکوں کی خاک چھانتا ہوں جن سے کبھی میرے قدموں کی شناسائی تھی۔ ان کواڑوں ، دہلیزوں، برآمدوں اور طاقچوں میں یادوں کے چراغ روشن کرتا رہتا ہوں جو وقت کے غبار میں کہیں دھندلا گئے تھے۔ میں ان سے گرد ہٹاتا ہوں، انکے چہرے صاف کرتا ہوں اور ان تحریروں کو پھر سے پڑھنے لگتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ تو لوحِ دل پر آج بھی نقش ہیں۔
گورنمنٹ کالج لاہور کے انگلش ڈیپارٹمنٹ میں ایم اے سالِ اول کا کلاس روم ہے۔ میں کلاس روم کے مستطیل شکل کے بنچوں میں سے ایک پر کھڑکی کے پاس ایک کونے میں بیٹھا ہوں۔ کھڑکی کے پاس کی نشست مجھے ہمیشہ محبوب رہی ہے، کلاس روم ہو، بس کی سیٹ یا ٹرین کی نشست، میری ترجیح کھڑکی کی ہمسائیگی ہی ہوتی ہے۔ اندر بیٹھ کر باہر کی فضا کو دیکھنا اور باہر بیٹھ کر اندر کی دنیا میں جھانکنا میری عادت ہے۔ میں اس کلاس میں نیا ہوں۔ آج کلاس کا پہلا دن ہے اور میں دل کی دھڑکن کو اپنی ہتھیلی پر محسوس کر سکتا ہوں۔ میرا یہاں کوئی شناسا نہیں ۔ سب نئے چہرے ہیں۔ دمکتے ہوئے، لو دیتی ہوئي آنکھیں، تمتماتے ہوئے گال، تبسم کی پھوار سے بھیگتے لب، اور موسمِ بہار کے اوّلیں شگوفوں کی چٹک لیئے کھنکتے قہقہے۔ میں خاموش نظروں سے سب کچھ تولتا جا رہا ہوں، بولتا کچھ نہیں۔ پروفیسر رؤف انجم نفیس سا بادامی رنگ کا سوٹ زیب تن کیے کلاس روم میں داخل ہوتے ہیں۔ تازہ واردان کی جانب ایک باوقار مگر دلآویز مسکراہٹ اچھالتے ہیں۔ رؤف انجم صاحب بنچوں کے درمیان چہل قدمی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں اس کلاس روم اور ان بنچوں کا تقدس سمجھاتے ہیں کہ یہاں کون کون سی شہرہء آفاق ہستیاں براجمان رہی ہیں اور ان نیم روشن کمروں سے نکلنے والی روشنی دنیا بھر میں کہاں کہاں پھیلی ہے۔ میں کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوں۔ میرون کلر کے بلیزر زیب تن کیے طلبہ ایک ترتیب سے کالج کے کوریڈورز اور لان میں گھوم رہے ہیں۔ ہر طالب علم نے بلیزر پر کالج کا مونوگرام سینے سےلگا رکھا ہے جس پر ایک ہاتھ نے شمع تھام رکھی ہے اور جلی حروف میں انگریزی زبان میں ” کریج ٹو نو” درج ہے۔ کچھ جاننے کے لیے ہمت کرنے کی تلقین میری روح میں بس جاتی ہے۔ میرے لیے میری مادرِ علمی کا یہ پہلا درس ہے جسے میں اپنے ذہن کی الماری کے سب سے محفوظ شیلف میں سنبھال لیتا ہوں۔
کالج کیفے ٹیریا کے لان کا سبزہ میری آنکھوں میں تیر رہا ہے۔ وسیع لان میں ٹولیاں ہیں۔ قہقہے لگاتے ہوئے اور لڑکیوں کو مرعوب کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں منہمک لڑکے۔ سٹرا کی مدد سے ہونٹوں کو زحمت دیتی ہوئی، کوک پیتی اور کانونٹ کے لہجے میں انگلش بگھارتی لڑکیاں، بھاپ اڑاتی چائے کے کپ، گرم سموسے اور پکوڑے، سفید رنگ کی پلیٹوں میں زرد رنگ کے کیک پیس اور دور نیم تاریک کونوں میں شرمیلی مسکراہٹوں سے گلابی پڑتے گالوں والے نوگرفتارانِ محبت جوڑے جنہیں محفل پسند نہیں مگر مطلوبہ تنہائی بھی میسّر نہیں۔ کبھی کبھار کوئی من چلا دزدیدہ نگاہوں سے جوڑے کی جانب دیکھتے اور جمائي لیتے ہوئے کوئی جملہ اچھال دیتا ہے اور محفل سے قہقہوں کی ست رنگی قوسِ قزح بکھرنے لگتی ہے۔ لڑکے لڑکیاں کیفے ٹیریا والے سے ادھار بھی کرتے ہیں۔ کیفے والا جانتا بھی ہے کہ یہ ادھار ادا ہونے کے امکانات کم ہیں مگر وہ سود و زیاں سے ماورا ہو کر اقرار میں سر ہلا دیتا ہے اور ایک ایسے رجسٹر میں اس ادھار کا اندراج کر لیتا ہے جس میں وصولی کے بہت سے خانے خالی ہی رہتے ہیں ۔
کالج کے اوول گراؤنڈ میں اترتی زینہ بہ زینہ ڈھلوان پر شیکسپئیر کے ہیملٹ کی روح میرا بدن اوڑھے مجھے سولہویں صدی میں دھکیل دیتی ہے۔ اوفیلیا میرے پاگل پن پر پاگل ہو رہی ہے۔ میں بے بس ہوں۔ وقت کا تانا بانا ادھڑ گیا ہے ، مجھے ہی رفو گری کرنی ہے۔میں ہست و نیست کے بیچ مصلوب ہوں۔ خرد کی گتھیاں مزید الجھ رہی ہیں اور میں خود فراموشی کی بُکل مارے خاموش کھڑا ہوں
"ہیملٹ۔۔۔ ہیملٹ۔۔ مجھے پہچانو۔۔۔۔میں اوفیلیا ہوں۔۔۔دیکھو میں تمہاری محبت میں کیا سے کیا ہو گئی ہوں۔۔۔۔ مجھے میری پہچان ہی لوٹا دو”۔
میں اپنی پہچان ہی کھو چکا ہوں اوفیلیا کو اس کی پہچان کیا لوٹاؤں۔ ارد گرد کی منظم بد نظمی نے مجھے کرچی کرچی کر دیا ہے، مجھے کون سمیٹے گا؟ میں بے چارگی سے اوول میں چاروں طرف دیکھتا ہوں اور کالج کی مانوس چاردیواری، ٹاور اور گیٹ سے کالج کی طرف جانے والی سڑک کے مناظرمجھے حال میں لا پھینکتے ہیں۔
بخاری آڈیٹوریم میں تقریری مقابلہ ہو رہا ہے۔ میں بھی اس مقابلے کا حصّہ ہوں۔ میں اپنی باری میں روسٹرم پر پہنچتا ہوں۔ عدم مساوات سے متعلق موضوع پر ہونے والے اس تقریری مقابلے میں میری تقریر میں جوش، ہوش پر غالب آ جاتا ہے۔ الفاظ مجھ پر حاوی ہو رہے ہیں اور میں بولتا چلا جا رہا ہوں،
” وہ کسان جو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر،خون پسینہ ایک کر کےغلّہ اگاتا ہے اس کا حصّہ سرمایہ دار کی جیب میں کیوں چلا جاتا ہے؟ اس کا پسینہ کارخانے کی چمنیوں سے دھواں بنا کر کیوں اڑا دیا جاتا ہے؟ بولیے جواب دیجیے۔ اس طرف بھی آدمی ہیں، اُس طرف بھی آدمی۔۔۔۔۔۔۔ ان کے چہروں پر اداسی، اُن کے جوتوں پہ چمک”
میں چاروں طرف دیکھتا ہوں اور دل میں گہری اداسی لیے خاموش ہو جاتا ہوں۔ ہجوم میں سناٹا ہے۔ چند ثانیے یہی کیفیت رہتی ہے پھرسامنے والی نشستوں سے کسی کے حنائی ہاتھوں سے پہلی تالی بجنے کی آواز آتی ہے۔ پھر دوسری ، پھر تیسری اور پھر ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے۔ مقابلہ ختم ہوتا ہے تو مجھے پہلی پوزیشن کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔ میرے دوست مجھے کاندھوں پر اٹھا لیتے ہیں اور خوشی سے نعرے لگا رہے ہیں مگر میں ابھی تک بے بس کسان کے لیے افسردہ ہوں اور میری آنکھوں میں نمی تیر رہی ہے۔
کالج کے معروف ادبی مجلے” راوی” کے لیے مجلسِ ادارت کا انتخاب ہوتا ہے اور میں پہلے سال کے لیے شریک مدیر اور دوسرے سال کے لیے مدیر منتخب ہو جاتا ہوں۔ میرے بدن میں اس احساس سے سنسنی دوڑنے لگتی ہے کہ جس پرچے پر تاریخ ساز شخصیات کے نام مدیر کی حیثیت سے درج ہیں، ان میں میرا نام بھی شامل ہے۔ یہ احساس میرے اندر بے چینی بھر دیتا ہے۔ میں تمام رات سو نہیں پاتا۔
کالج یونین کا الیکشن ہے۔ اوپن ائر تھئیٹر میں ایک تنظیم کے حامی جمع ہیں اور کیفے کے لان میں دوسری تنظیم کے طلبہ اپنا گلا پھاڑ رہے ہیں۔ دونوں طرف سے نعروں کی گونج ہے۔ ایشیا سبز ہے اور ایشیا سرخ ہے کا شور ہے ۔ سب کو ایشیا کو رنگنے کی پڑی ہے اور کوئي نہیں دیکھتا کہ ایشیا کے ایک کونے میں بسنے والا ایک چھوٹا سا سرسبز ملک بے روزگاری، بد امنی، لاقانونیت، بھوک اور غربت سے بے رنگ ہو چلا ہے۔
سردیوں کے دن ہیں۔ لاہور کے سڑکوں نے گلابی دھوپ اوڑھ رکھی ہے۔ میں اور اعجاز نیو ہاسٹل کی چھت پر بیٹھے مالٹے کھا رہے ہیں۔ میں ساتھ ساتھ "جنگ” اخبار کے لیے کتاب کا اردو ترجمہ کر رہا ہوں جو باقاعدگي سے اس کے ہفتہ وار میگزین میں چھپتا ہے۔ اعجاز اکنامکس کی کسی کتاب کے ساتھ ٹکریں مار رہا ہے اور سمجھ نہ آنے پر بار بار جھلّا رہا ہے۔ فراغت، مہربان دھوپ اور مالٹے میرے اندر سرخوشی بھر رہے ہیں۔ زندگي بہتی چلی جا رہی ہے۔
میرے کچھ مہمان آئے ہیں۔ وہ ہاسٹل میس سے کھانا کھا کر میرے کمرے میں بیٹھے ہیں ۔چائے بھی پی چکے ہیں ۔ اتنے میں ایسے مواقع کے متلاشی ملک امین اور اخلاق کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ آتے ہی اپنی زندگیوں میں شاذ و نادر ہی در آنے والے تپاک کے ساتھ مہمانوں سے ملتے ہیں۔ پھر چھوٹتے ہی کہتے ہیں "آپ کی کوئي خدمت تو کی ہی نہیں۔ آپ کے لیے کینٹین سے کچھ منگواتے ہیں”۔ مہمان بار بار بتاتے ہیں کہ وہ کھا پی چکے ہیں اور اب کسی چیز کی حاجت نہیں مگر یہ دونوں انہیں تکلف کا طعنہ دے کو میرے ملازم کو بلاتے ہیں اور اسے چائے کے ساتھ کیک، پیسٹریاں اور پیٹیز لانے کا کہتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرا ملازم جب آرڈر لے کر جائے گا تو بل میرے ہی نام سے آئے گا۔ اخلاق اور ملک امین بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ وہ اپنی واردات کر چکتے ہیں تو مہمانوں کے رخصت ہونے سے قبل ہی رخصت ہو جاتے ہیں تاکہ بعد کی ناخوشگواریت سے محفوظ رہ سکیں۔ میں ان کی شرارت سے بخوبی آگاہ ہوں۔ میرے ہونٹوں پر بے اختیار تبسم کھیلنے لگتا ہے۔
پچھلے پہر کا وقت ہے اور گورنمنٹ کالج ، اورئینٹل کالج، لا کالج اور ایف سی کالج کے ہاسٹلوں کے مکین بن ٹھن کر انارکلی میں نکلے ہیں۔ حسبِ توفیق مہنگے ترین پرفیومز کی آدھی آدھی شیشیاں چھڑک کر اور سیاہ چشمے لگا کر یہ سب من چلے ایک ہی مقصد کے لیے سرگرداں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک خود کو کسی فلمی ہیرو سے کم نہیں سمجھتا مگررات کو انارکلی کی تمام دکانیں اپنی نگرانی میں بند کروا کے جب یہ تمام ہیروز ہاسٹل لوٹتے ہیں تو اپنا دیدہ زیب ملبوس عالمِ طیش میں کمرے میں ادھر اُدھر پھینک دیتے ہیں اورانتہائی مایوس کن اور افسردہ فلمی نغمے الاپنے لگتے ہیں۔ آدھی رات کو ہاسٹل کے دوسرے کونے کے کسی کمرے سے کیسٹ پلئیر پر بجتا ہوا گیت میری سماعت سے آ ٹکراتا ہے،
” تیری یاد آ گئی غم خوشی میں ڈھل گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک چراغ کیا جلا سو چراغ جل گئے۔۔۔۔۔۔۔ میں اس نغمے کے سوز میں چھپی کسک دبا نہیں پاتا اور سونے کے لیے آنکھیں میچ لیتا ہوں۔
نیو ہاسٹل میں خالد بسرا میرے ساتھ والے کمرے میں رہتا ہے۔ وہ بھی عجب بے چین روح ہے۔ رات گئے ستار بجاتا رہتا ہے۔ اس کا ستار درد بھری تانیں بکھیرتا رہتا ہے۔ سارا دن دراز قداور وجیہہ خالد منظور بسرا اپنی گھنی مونچھوں اور داڑھی تلے مسکراہٹ سجائے رکھتا ہے اور دوستوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے میں مگن رہتا ہے مگر رات ڈھلے جانے اس کے اندر افسردگی کا ورود ہوتا ہے۔ اپنی دھنوں سے آگ لگا دیتا ہے۔خود بھی سلگتا ہے، مجھے بھی سلگاتا ہے۔
ہم اپنی ڈگری مکمل کرنے کے آخری مراحل میں ہیں۔ ہمارے جونئیرز ہمارے لیے الوداعی تقریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ سانولی شام کا حسن اپنے جوبن پر ہے، روشنیاں جگمگ جگمگ کر رہی ہیں، ایک طرف کھانے کی میزیں سجی ہیں۔ مدھم آواز میں موسیقی بج رہی ہے۔ بظاہر فضا چمک رہی ہے مگر ہمارے ہم سبق لڑکے اور لڑکیاں اداسی کے گھونٹ حلق سے اتار رہے ہیں۔ ہرچہرہ بجھا ہوا، ہرآنکھ چھلک جانے کو تیار۔ ایسے میں سب کی فرمائش پر تنویر اپنی جادو بھری آواز میں گیت چھیڑتا ہے،
” چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ”۔ آنکھوں کے آبگینے پھوٹنے لگتے ہیں۔ بڑے جتنوں سے باندھے ہوئے ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں اورساری فضا سسکنے لگتی ہے۔
میرے گلے میں گولے اٹکنے لگے ہیں ۔ میں وہاں اب مزید نہیں بیٹھ سکتا۔ یہ سچائی میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہی کہ میں اب ان درو دیوار سے بچھڑ رہا ہوں۔ میں بوجھل قدموں کے ساتھ کالج کے بیرونی گیٹ کی طرف جانے والی سڑک پرچل رہا ہوں۔ میری آنکھوں کے گوشے بھیگ رہے ہیں۔
"آج ساری رات یوں ہی بیٹھے رہیں گے؟ سونا نہیں کیا؟”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ بیگم کی آواز نے مجھے کہاں لا پٹخا ہے؟
(سلمان باسط


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481