اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

میٹھے چشمے سوکھ رہے ہیں

0ebb4864 1616 4da6 a46c ab3cd09c48e0

 

میرے آبائی گھر کے بائیں طرف یہ صدیوں پرانا میٹھے ،ٹھنڈے پانی کا قدرتی چشمہ (چلہر ) ہے۔سڑک بننے سے پہلے دھیر کوٹ ،دھن گرا،چلاورہ کے سبھی رستے میرے گھر کے اردگرد سے گزرا کرتے تھے۔گزرنے والے چند گھڑی رکتے ،ٹھنڈا پانی پیتے اور پھر محو سفر ہو جاتے۔ہمارے گھر یہ ریت تھی مہمان آتا تو بھاگ کر چشمے سے تازہ پانی بھر لاتے۔اس چشمے کا پانی اس کے پیچھے پتھروں سے نکلتا ہے۔بلکہ یہ ایک ہی قطار میں بہت سے چشمے ہیں ،جیسے چوہہ ،جنڈالی چلہر ،بالے نی چلہر اور بُنہے بالے نی چلہر۔سبھی چشموں کا پانی ایک سا ٹھنڈا اور میٹھا ہوا کرتا تھا۔

گاہے گاہے اہل محلہ مل کر اس کی صفائی کیا کرتے تھے خاص کر ساون میں۔میں تو بچپن میں کئی بار اس میں جا گری ۔نہا دھو ،پاک ہو کے نکلی۔البتہ میرے نکلنے کے بعد سارا پانی باہر انڈیل کر چشمے کو صاف کیا جاتا۔کہا جاتا تھا کہ یہ سارے چشمے بھاری پانی کے ہیں یعنی ان پر جنات ہوتے ہیں۔مختلف کہانیاں ان سے وابستہ ہیں۔اپنے بچپن چھوٹے بھائی کی بیماری مجھے یاد ہے ۔کہا گیا کہ کسی بوڑھی چڑیل کا سایہ ہے۔بہت دعاو علاج کے بعد اس کی طبیعت سنبھلی۔میں نے بڑی ضد کی کہ کوئی چڑیل مجھ پہ سایہ کرے اس واسطے بارہ بجے بھی جا کے پانی پہ بیٹھی،بلکہ گھر والوں سے روٹھ کر اک پورا دن چشمے کی چھت پر لیٹی رہی مگر مجال ہے کوئی چڑیل قریب پھٹکی ہو۔شاید محلے کے جنات بھی میری شرارتوں سے تنگ تھے۔

42c7d6db 3ef0 4f3c 9b35 4fbd93633d48 1
سارا سال چشمے میں پانی رہتا البتہ جون جولائی میں جب سارے پردیسی لوٹ آتے تو پانی کم ہو جاتا پھر باری باری پانی بھرتے سارے۔گھنٹے ڈیرھ بعد اک گھڑا پانی ۔ہم شکر کرتے کہ پانی کم ہوا اور گھڑا لے کر شوقیہ بالے نی چلہر یا ناڑوٹہ پانی بھرنے چل پڑتے ۔اک ادھ بار اس چشمے کو پکا کرنے کی کوشش کی گئی مگر جونہی چھیڑا پانی گم ہونے لگا یا رستہ بدلنے لگا لہذا جوں کا توں رہنے دیا۔ہاں چھت سالہا سال نئی ڈال دی جاتی۔رفتہ رفتہ محلہ ویران ہو گیا جو بچ گئے ان کے گھر پانی کے پائپ پہنچ گئے۔چشمے منتظر رہے کہ ہنستی کھلکھلاتی حسنیائیں اپنے گھڑے سنبھالتی آئیں گی دیر تک پانی بھرنے کے بہانے دل کی باتیں کریں گی مگر وہ زمانے تو کب کے چلے گئے۔چشمے ویران ہوئے ،سوکھنے لگے۔

شاید اب جنات کا ہی بسیرا ہو۔میں پھر سے گئی مگر کسی چڑیل یا جن سے ملاقات نہ ہوئی۔البتہ چشمہ آٹھ آٹھ آنسو رویا۔مگر پانی چلو بھر تھا میرے ڈوب مرنے کے لیے ناکافی تھا یا شاید اسے بچپن کی وہ ضدی ،شرارتی رانی یاد ہو گی جو بھاگتے ،گزرتے اس سے چھیڑ خانیاں کرتی تھی۔جس چشمے نے مجھے بچپن میں نقصان نہیں پہنچایا وہ اب کیسے تکلیف دے سکتا تھا۔مگر اس خود اذیتی کا کیا جو اس میٹھے چشمے کی یادوں سے جڑی ہیں۔میری آنکھیں خواب دیکھتی ہیں کہ چشمہ پانی سے بھرا ہے ۔نکی رانی (ضوفشاں ) اور اس کی کزنیں سہلیاں اپنے دھانی آنچل لہراتی ،رنگین چوڑیاں کھنکاتی اپنے گھڑوں میں پانی بھر رہی ہیں۔ان کی سرگوشیوں کے بعد گونجنے والے قہقہوں سے اک جہاں آباد ہے۔دیوانی کے خواب
رانی کی نکی نکی باتیں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481