اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جانے کہاں گئے وہ دن؟ ضمیر کو جھنجھوڑتی تحریر

42c7d6db 3ef0 4f3c 9b35 4fbd93633d48

چالیس سال پہلے ہمارے علاقے میں نہایت کسمپرسی کا عالم تھا، بجلی نہیں تھی، سڑکیں نہیں تھیں، پانی کے پائپ بالکل نہیں تھے، مگر غلہ بیشمار ہوتا ہے، اکثر لوگ مکئی اور دیگر کھیتی باڑی کے زریعے پیدا ہونے والی اشیاء میں خود کفیل ہی نہیں بلکہ دوسروں کا سہارا تھے، لاعلاج امراض کا نام و نشان نہیں تھا نہایت خطرناک سڑکوں پر اکا دکا ایکسیڈنٹ کے واقعات ہوتے تھے، سکول بہت کم تھے، بمشکل ایک ہائی سکول تھا، کوئی یونیورسٹی نہ تھی، مگر ادب احترام انتہا کو تھا، پانی کے چشمے اچھل رہے ہوتے تھے،

باہرلے کا نام کوئی نہ لیتا تھا، کہتے تھے باہرلے کا نام لینے سے چالیس دن تک زبان ناپاک رہتی ہے اس لئے باہرلے کو بے نامہ کہا جاتا تھا، جنگلوں کو بالکل آگ، نہیں لگائی جاتی تھی، پھلوں کی کثرت تھی، امن و اخوت کا دور دورہ تھا، ہارٹ کی بیماری کا تصور ہی نہیں تھا، شوگر سے سو فیصد پاک معاشرہ تھا، خواتین جوتے اتار کر قبلہ رخ بیٹھ کر روٹی پکاتی تھیں، مکئی، اور گھاس کٹائی پر پورا گاؤں اکھٹا ہو جاتا تھا مگر آج ناشکری کی انتہا ہے، پائوں کے نیچے رزق لتاڑا جا رہا ہے،

لا علاج بیماریوں کا راج ہے، باہرلے کھیت برباد کر رہے ہیں اور چمگادڑ پھل کھارہے ہی کھیت اجڑ چکے ہیں، مال مویشی سے نفرت ہے، افففففف ہر دن ایکسیڈنٹ میں نوجوانوں کی لاشیں بکھر رہی ہیں، ہر چوتھے دن گھر جل رہے ہیں، ہارٹ کے مریض ہر گھر میں ہیں، کینسر ہر محلے میں گھس چکا ہے، ایک ایک گھر میں چار چار شوگر کے مریض ہیں،ہر دن قتل کی وارداتیں ہو رہی ہیں، پھر بھی ہم کہتے ہیں اللہ ہم سے راضی ہے، میں تو یہ کچھ عذاب کی شکل میں دیکھ رہا ہوں، ہمارا سکون ختم، برکت ختم، اناج ختم، پھل فروٹ ختم، بارشیں بند، چشمے خشک، پھر عذاب کسے کہتے ہیں؟ عذاب کے سر پر کیا سینگ ہوتے ہیں، چالیس سال پہلے کے بزرگ رات گئے تک قرآن کی تلاوت کرتے تھے، شب قدر کی تلاش میں رمضان میں وہ عبادت کرتے تھے کہ واللہ رشک آتا تھا، آج علم بینشمار مگر کسی بھی اللہ والے کے گھر کے قریب رات کو تلاوت کی آواز نہیں آتی، میرا اپنا حال بھی ایسا ہی ہے، ظاہر ہے اللہ ہم سے ناراض ہے جس کی وجہ سے رب نے ہم سے قرآن بھی چھین لیا، پھل فروٹ چھین لیے، صحت چھین لی،

کہیں ہمیں اللہ تعالیٰ سے دوری کی سزا تو نہیں مل گئی؟ کہ ہم بستر پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں، کہیں ہم سے ناشکری تو نہیں ہو گئی؟ کہ ہمارے کھیت بنجر ہو چکے، ہم بیماریوں میں مبتلا ہو چکے، ہم صدقات کے بجائے ڈاکٹروں کے قدموں میں پیسے پھینک رہے ہیں، آہ۔۔۔۔!!!.
کاش کوئی ہمیں جگائے، ہماری حالت پر روئے، ہمیں رونے کی تبلیغ کرے، ہمارے دلوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کرے، میں کچھ درویشوں کی زندگی کو دیکھتا ہوں تو یقین کر لیتا ہوں کہ ہاں عذاب آ چکا، آخر درویشوں اور مسکینوں کو شوگر کیوں نہیں، بلڈ پریشر کیوں نہیں، کینسر اور ہارٹ اٹیک کیوں نہیں؟ کچھ تو ہے، جس کی وجہ سے ہم تباہ حال ہیں، یارب، وہ آہ عطاء فرما جس میں درد ہو ، رب جی ہزاروں گناہوں کی پوٹلی اٹھائے تیرے در پر دستک دے کر رحم و کرم کی گدا مانگ رہے ہیں ہمارے کاسہ گدائی کو اپنی رحمت سے بھر دے اور میری سرزمین میں بسنے والوں کو شیر و شکر کر دے، یارب!
آمین


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481