ترکیے,یورپی اور مسلم معاشرت کے دو رنگوں میں گندھا ہوا ہے،ماضی میں وہ ہزاروں برس کی بزنطینی اور عثمانی اسلامی تہذیب کے ملاپ سے بالکل ہی ایک نئےرنگ میں ڈھل گیا تھا، اس رنگ میں مزید نکھار اس کی پناہ میں آئی یہودی آبادی کے پیوند سے آیا۔
زوال پذیر ہوتی عثمانی خلافت کی حدود میں فلسطین بھی شامل تھا اور موجودہ صیہونی اسرائیل کی بنیادوں میں عثمانی ملکیت کی ان وسیع زمینی جاگیروں کا اھم کردار ھے جو عثمانیوں کی “وسیع المشربی” یا کمزور ہوتی گرفت سے نکل کر یہودی خریداروں کے توسط سے ان کی ملکیت بنیں۔
ترکیے کی فلمی اور ڈرامائی تشکیلات بھی قدیم و جدید کے دو دھاروں میں بٹی ہیں۔ان کی بیشتر فلمیں اور ڈرامے ھمارے ھاں بالغ بھی دیکھنے سے محروم ہیں۔انتخابات میں تمام ساحلی بیجز اور یورپی اثرات والے علاقے اور اس کے مقابل قدامت پسند علاقے سرخ اور نیلے رنگوں میں رنگ جاتے ہیں۔ترکیے کے اسلام میں قدامت پسند نجم الدین اربکان جدت پسند تانسو چلر سے مصافحہ کر لیتا ھے اور اس کے ساتھ کابینہ میں شراکت بھی۔جبکہ پاکستان کا تنک مزاج مذہبی عنصر ایسا سوچ کر بھی خوف کی جھرجری لیتا ھے۔البتہ حالات کا جبر کبھی کبھار،اسے محترمہ فاطمہ جناح اور بی بی بے نظیرکی دہلیزتک ضرور لے جاتا ھے۔
ترکیے آج بھی ایک طرف اسرائیل اور امریکہ سے بہترین سفارتی تجارتی اور سیاسی تعلقات رکھتا ھے اور دوسری طرف ان کے ستائے ہوؤں کی بلائیں لیتا اور پشتیبانی کرتا بھی دکھتا ھے،دو دھاروں میں بہتا ترکیے ایک گُتھی ھے سمجھنے اور سمجھانے کی۔جو نہ سمجھے اسے خدا سمجھے
