تحریر :شمائلہ عزیز ستی
جماعت اول میں واقفیت عامہ کے سبق ‘میرا خاندان” کے مشقی سوالات میں ایک سرگرمی تھی جس میں اپنے خاندان کے سبھی افراد کے نام لکھنے تھے،جبکہ دوسری سرگرمی میں رشتوں کی پہچان تھی۔سوائے دو بچوں کے کسی نے بھی سرگرمیاں مکمل نہ کیں۔زیادہ بچے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے سوا کسی کو نہیں جانتے تھے نہ ان کا نام معلوم تھا حالانکہ میں نے پہاڑی ،اردو اور انگریزی تینوں زبان میں مکمل وضاحت کرنے کی کوشش کی۔جس قدر سہولت مہیا کر سکتی تھی، کی مگر بے سود۔بچہ اگر رشتہ سمجھ بھی جاتا تھا تو نام نہیں جانتا تھا۔نانکے ،دادکے کا تصور معدوم ہوتا جارہا ہے۔یعنی مشترکہ خاندانی نظام کی اکائیاں اک اک کر کے گرتی جا رہی ہیں۔شاید وقت کی ضرورت ہے یہ یا زمانے کی ہوا بدلتی جا رہی ہے۔
میں اپنے خاندان کا پہلا اور بڑا بچہ تھی ،بیحد لاڈلی ،دادا ،دادی پھوپھیاں ،تایا ،چچا ،نانا نانی ،خالہ موموں سمیت خاندان کے سبھی افراد سے پیار ملا ،خوب خوب ناز اٹھوائے ۔اس محبت نگر کی اکلوتی رانی تھی میں۔اتنی سخت اور تلخ زندگی میں اگر میرے پاس خوشگوار یادوں کا خزانہ ہے تو وہ بچپن کا وہی سنہرا دور ہے جو میں نے اپنوں کے سنگ جیا۔جب ہوش سنبھالا اور خاندانی نظام کی سمجھ آئی تو میری بڑی خواہش تھی کہ جب میری اولاد ہو تو وہ بھی میری طرح کا ہی بچپن جیے۔دادا دادی کی محبت ،نانا نانی کا دلار ،چچا تایا کے کے لاڈ ،ماموں کے ناز،خالہ کی شفقت ،پھوپھو کا انت پیار پائے۔زندگی بڑی تلخ راہوں سے گزر کر محبت کے رستے پر نکلی ۔منزل کی جانب یہ سفر بڑا کٹھن تھا مگر انجام بخیر… میری سبھی دعائیں قبولیت کے درجے پر پہنچیں۔رب نے انزش سے نوازا تو ساتھ ہی اسے محبتوں کے نگر سے نوازا۔سبھی پیارے رشتوں سے نوازا۔صبح دادا دادی کے پیار بھرے بلاوے پہ آنکھ کھولتی ہے۔ تایا ،چچا سے لاڈ لیتی ہے تو پھوپھیاں صدقے واری جاتی ہیں۔چھوٹی پھوپھو تو اس بنا سانس نہیں لیتی۔دوسری طرف ننھیال والے منتظر رہتے کہ کب آئے گی نانا نانی صدقے واری جاتے ،ماموں ممانی دن میں کئی بار فون کرتے تو خالہ دس بار دیکھ کے صبر کرتی ہے۔یہی میں چاہتی تھی، نفرتوں کے دور میں بہت لازم ہے نئی نسل محبت شناس ہو ،رشتوں کی مٹھاس کو محسوس کرے ،تعلق نبھانے کی مشق سے گزرے۔ادب آداب سیکھے۔محبت کی مضبوط ڈوری سے بندھ جائے جسے نہ توڑ سکے نہ کھول سکے۔
ہاں مگر یہ تو چڑیا کے بچے ہیں کل کو اڑ جائیں گے آشیانہ خالی رہ جائے گا۔ہم اپنی سے کوشش کریں گے کہ کل جب وہ نئی ڈال پہ اپنا آشیانہ بنائیں تو ہمیں یاد کریں نہ کریں۔اس آشیانے کی بنیادیں ہماری دی ہوئی محبت سے رکھیں تاکہ ان کے بچے اونچی اور لمبی اڑان بھر سکیں اور ہم اپنی قبروں میں اطیمنان سے سو سکیں۔
اولاد کی پرورش محبت سے کریں ذمہ داری اور فرض سمجھ کر۔۔۔نہ کہ احسان جتانے کے لیے یا کسی صلے کی تمنا کے لیے۔جسے قید کرنا ہو اسے محبت دے کر آزاد چھوڑ دیں کہیں نہیں جائے گا۔دوگنی محبتوں کے ساتھ بار بار لوٹ آئے گا۔
رانی کی نکی نکی باتیں
