اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مٹی کی محبت اور کوہسار کے باسی

FB IMG 1735632848597 1

مٹی کی محبت اور کوہسار کے باسی

گزشتہ دو عشروں میں پہلی بار کوہسار کے سرسبز پہاڑوں میں ایک ایسا نعرہ گونج رہا ہے جو کہ شاید آج سے بیس یا تیس سال قبل ہوتا تو کوہسار کے معروضی حالات بہتر ہوتے

وہ نعرہ ہے۔۔۔۔۔

مری ماڑے پیو نی اے  (مری میرے باپ دادا کی ہے)

گو کہ یہ نعرہ کسی وقتی فائدے کے حصول کے لیے ہی ہو مگر اس کی اہمیت کا کوئی انکاری نہیں ہو سکتا.

کوہسار کے حالات و واقعات کو جب کوئی ذی شعور شخص مسائل کے تدارک کے حوالے سے سوچتا ہے تو ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ۔۔۔

جوں جوں کوہسار کے کسی فرد یا خاندان کے مالی حالات بہتر ہوتے گئے، توں توں وہ اپنی مٹی، اپنی اقدار اور اپنی روایات کو خیر آباد کہتا گیا

میں اس وقت سرسبز پہاڑوں پہ بنے کنکریٹ کے جنگلات دیکھ رہا ہوں، جہاں حقیقی مالکان چوکیداری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

میں بڑی گاڑیوں کی ریس میں دھرتی ماں کو بیچنے والی ناخلف اولاد کو دیکھ رہا ہوں، جو بن ٹھن کر اس طرح بیٹھے ہیں جیسے انہوں نے اپنے آباء و اجداد کا سر فخر سے بلند کیا ہو۔

میں امانت دار، سچائی اور بہادری سے مرکب پہاڑیوں کو پیسے کے آگے سجدہ ریز دیکھ رہا ہوں۔

میں دیکھ رہا ہوں کہ آج کا پہاڑی سچائی کو بے وقوفی اور منافقت کو عقل مندی سمجھ بیٹھا ہے۔

بدقسمتی سے آج ہم بطور معاشرہ اپنی آنے والی نسل کو کسی قسم کی بھی اقتدار و روایات دینے سے قاصر ہیں۔

آخر یہ سب کیسے ہوا، کیوں سادگی، سچائی اور ایمانداری کے اوصاف والا شخص ہمارے ہاں سادہ اور ناکام جبکہ مکار، دھرتی ماں کو بیچنے والا شخص، کامیاب کہلوانے لگا!؟

میں بڑی سوچ بچار کے بعد جس نتیجہ اور سبب پہ پہنچا ہوں وہ ہے "اندھی مادیت پرستی”.

جی فلاں کا ایک لینٹر ہے تو میرے دو کیوں نہیں؟ فلاں کی شادی پہ دس لاکھ خرچ ہوا،  میں بیس لاکھ لگاؤں گا۔ فلاں کی گاڑی اتنے کی ہے، میری اتنے کی ہونی چاہیے۔ دراصل یہ حقیقی زندگی سے آرٹیفیشل زندگی کا سفر ہے۔

بڑا اور باکردار بننے کے بجائے لوگوں کی نظر میں بڑا لگنے کی تگ و دو کی منزل تھکاوٹ، کھوکھلے پن اور ذہنی بیماری کے سوا کچھ نہیں ہے۔

میں روپیہ پیسہ بنانے کی تگ و دو کے خلاف نہیں ہوں بلکہ اس کا حامی ہوں اور اس بات کو فرض سمجھتا ہوں کہ جو وسائل اللہ نے آپ کو آپ کے والدین کے ذریعہ دیے، آپ اپنی نسل کو اس سے بڑھ کر دیں تاکہ معاشرہ بہتر سے بہتر کی طرف جائے مگر میں اس کمائی سے پناہ مانگتا ہوں جس سے میرے معاشرے کو تکلیف پہنچے اور علاقے اور پرکھوں کی اقدار کو دفنانا پڑے۔

یاد رکھیے ! موجودہ طرز حیات کا مستقبل بہت بھیانک ہے۔ خدارا اپنی آبائی زمینوں کو نہ بیچیں. اپنی اولاد کو تعلیم بھی دیں اور ان کی اچھی تربیت کا فریضہ بھی سر انجام دیں۔ مادیت پرستی اور تصنع (شو آف) کے کلچر سے نکلیں اور ایک بہتر شہر اور علاقہ اپنی آنے والی نسل کے حوالے کریں.

موجودہ حالات دیکھ کر مجھے ان شہیدوں کی روحوں پہ ترس آتا ہے، جنہوں نے کوہسار کی آزادی کے لیے خود کو اور اپنی نرینہ اولادوں کو توپ دم کروایا تھا۔

آج کا منظر دیکھ کر قربانیاں دینے والوں کی پاک روحیں کس کرب اور اذیت میں ہوں گی۔ آج اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے اپنے اپنے اخلاق و کردار کا محاسبہ کرنا ناگزیر ہے۔

 

صھیب عابد ۔۔۔۔۔ کوہ مری 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481