اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عمران خان نے پھر الفاظ کی گولہ باری کر دی

عمران خان نے حکومت کی تعریف کر دی

 

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ فوجی عدالتیں اور آئینی بینچ بنا کر رول اف لا کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹ سے عام شہریوں کو سزا دلوانے کی اجازت دے کر آئینی بینچ نے منہ کالا کر لیا۔

پیر کے روز اڈیالہ جیل سے جاری کردہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے اللہ پر پورا یقین ہے کہ 2025 حقیقی آزادی کا سال ہوگا ۔انہوں نے نواز شریف کوبارہواں کھلاڑی قرار دیتے ہوئے گویا ان کی سیاست کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ رجیم چینج کے بعد معیشت تباہ ہو گئی کاروبار بند ہو رہے ہیں اور صنعت کار اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں۔ ایسے میں سرمایہ کاری خواب ثابت ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔جس ملک میں قانون کی حکمرانی کا جنازہ اٹھ چکا ہو وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی بدحالی کی چار وجوہات ہیں جن میں سے ایک رول اف لا کا خاتمہ ہے۔
دوسری طرف فوجی عدالتیں اور آئینی بینچ بنا کر ملک سے رول اف لا ختم کر دیا گیا اور اس کے نتیجے میں جی ایس پی پلس اسٹیٹس بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کا یہ بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیا گیا ہے۔
عمران خان نے اپنے بیان میں انٹرنل انٹرنیٹ کی بندش پر بھی تنقید کی اور کہا کہ تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے ملک کی آئی ٹی کی معیشت کو بری طرح متاثر کر دیا گیا جو نوجوانوں کا روزگار کمانے کا بڑا ذریعہ تھا ہم عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل نہیں رہے۔انٹرنیٹ سے وابستہ کاروبار تباہ کیے جا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں ایک بار پھر دہشت گردی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جو معیشت کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ میں 20 سال سے کہہ رہا ہوں کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں اس کے لیے سیاسی حل نکالنا ہوگا۔

 

عمرا ن خان نے کہا ڈیل کر کے نہیں نکلوں گا،علیمہ خان

عمرا ن خان نے کہا ڈیل کر کے نہیں نکلوں گا،علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کی دوبارہ آباد کاری کی تجویز سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے ہمارے دور میں کابینہ میں پیش کی تھی جس پر مراد سعید، نور الحق قادری سمیت قبائلی علاقوں کے اراکین اسمبلی نے مخالفت کی۔ہمارا موقف تھا کہ مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی قدم دیر پا حل کی طرف نہیں جائے گا۔ہماری حکومت ختم ہونے پر پی ڈی ایم حکومت کو بھی بریف کیا گیا۔اس کے بعد اکتوبر 2021 میں فیض حمید کا تبادلہ ہو گیا اور پھر کبھی یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں اٹھایا گیا۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کنویں سے پانی نکالتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ مستقل حل کے لیے ناکام پالیسیوں کا اعتراف کر کے اصلاح کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آر کو ملٹری کورٹس پر جواب دینا چاہیے تھا۔کون سا قانون اپ کو جج جیوری اور پھانسی کے کا اختیار دیتا ہے۔
عمران خان نے نو مئی کو ایک بار پھر پری پلان آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نو مئی کو کالر سے پکڑ کر ڈنڈے مار کر گھسیٹ کر اسلام آباد ہائی کورٹ سے اسی لیے اغوا کیا گیا تھا تاکہ عوامی رد عمل سامنے آئے ۔اس دن بھی ہمارے 25 لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ہم پر ظلم کر کے ہمارے ہی خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور 10 ہزار کارکنوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ پھر لوگوں پر تحریک انصاف چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔اس کا مقصد لندن معاہدے کے تحت تحریک انصاف کو کچلنا تھا۔پارٹی چھوڑنے والوں پر مقدمات ختم کر دیے گئے۔نو مئی کے بعد آٹھ فروری بھی ہوا جس میں قوم نے آپ کا بیانیہ مسترد کر دیا۔عمران خان نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ 26 نومبر کو اسلام آباد میں معصوم شہریوں کا قتل عام کیا گیا اور کئی لوگ اب تک لاپتہ ہیں۔ہمیں خدشہ ہے کہ انہیں لال مسجد آپریشن کی طرح غائب کیا گیا ہے لہذا جوڈیشل کمیشن کا قیام ضروری ہ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481