اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کرم میں 128بچوں سمیت 200 اموات کا دعویٰ

ضلع کرم میں خوفناک جھڑپیں 30 جاں بحق،سو زخمی

خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں اشیائے خورونوش اور ادویات کی قلت سنگین رخ اختیار کرگئی جب کہ سول سوسائٹی کی جانب سے ادویات کی قلت سے اب تک 128 بچوں سمیت 200 افراد کی اموات کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے نجی ٹی وی کے مطابق مقامی رجسٹرڈ تنظیم سول سوسائٹی نے علاج وسہولیات نہ ملنے کے باعث 128 بچوں سمیت 200 افراد کی جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے، ان میں سے  کینسر میں مبتلا مریضوں کی تعداد زیادہ ہے جو ویکسین نہ ملنے سے دم توڑ گئے ہیں۔سول سوسائٹی کے مطابق ہسپتال میں سہولیات فراہم نہ کی گئی اور ادویات کا بندوبست نہ کیا گیا تو  انسانی بحران شدت اختیار کرسکتا ہے۔

ضلع کرم میں پشاور پاراچنار مین شاہراہ پاک افغان سرحد سمیت آمد و رفت کے راستے ڈھائی ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں جس سے شہری بحرانی کیفیت اور اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آمد و رفت کے راستے مسافر گاڑیوں پر فائرنگ اور جھڑپوں کے بعد سیکیورٹی خدشات کے باعث بند کیے گئے ہیں اور مذاکراتی عمل کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف راستوں کی بندش کے خلاف ضلع کرم کے صدر مقام پاراچنار میں پریس کلب کے باہر جب کہ سلطان اور گوساڑ میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں جب کہ لوئر کرم کے علاقے بگن میں علاقے کی دکانوں اور گھروں کو نقصان پہنچنے کے خلاف احتجاجی دھرنا شروع کیا گیا ہے، مظاہرین نے واضح کردیا کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا۔سماجی رہنما میر افضل خان کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش کے باعث اشیائے خوردونوش اور روزمرہ اشیا ختم ہونے کی وجہ سے تمام بازار بند ہو گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کرم نے بتایا کہ فریقین کے درمیان جرگے جاری ہے، حتمی فیصلہ ہونے تک راستے کھل جائیں گے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481