اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

 صحافی صحافت پریس کلب اور اخبار

28f0c6ad a5b2 4cbf b6f3 2dda523c6dc3

 

نہ کوئی صحافی رہا نہ صحافت رہی اور نہ کوئی اخبار لگتا ہے کہ اب صرف خانہ پوری ہوتی ہے کچھ عرصہ پہلے بہت بڑے بڑے اخبار ہوا کرتے تھے لیکن پچھلے پانچ دس سال میں وہ اخبار پتہ نہیں کہاں چلے گئے نام تو ہے مالکان بھی ہیں لیکن وہاں کام کرنے والے صحافی غائب ہیں وہ دل ہلا دینے والی خبریں غائب ہیں، وہ پڑھنے والے آرٹیکل غائب ہیں وہ دیکھنے والے فوٹوگرافز نہیں ہیں وہ صحافت کا شوق ختم ہو گیا ہے یا ختم کر دیا گیا ہے.

ہو سکتا ہے کہ بہت سارے بڑے بڑے صحافی یا تو بوڑھے ہو گئے ہوں یا پھر ریٹائر ہو گئے لیکن یہ تو پکی بات ہے کہ مجھے وہ سینئر صحافی نظر نہیں آتے اسی لیے نظر نہیں آتے کیونکہ وہ غائب کر دیے گئے ہیں یا وہ خود ہی غائب ہو گئے ہیں کیونکہ صحافی کے لیے ایک صحافت کرنے کے لیے وہ جگہ چاہیے ہوتی ہے جہاں پہ وہ دل لگا کے صحافت کریں خبریں لکھے آرٹیکلز لکھے اور اس اخبار کا نام ہو آج میں وثوق سے کہتا ہوں کہ بہت بڑے بڑے اخبار جن کو کہا جاتا تھا کہ ان میں چھوٹی سی کسی کونے میں چھپی ہوئی سنگل کالم خبر ایک ایف ائی ار کے برابر ہوتی تھی بہت رعب اور دبدبہ ہوتا تھا اس صحافت کا لیکن وہ رعب اور دبدبہ اب اس صحافت میں نظر کیوں نہیں آتا اس لیے نہ وہ اخبار رہے نہ وہ صحافی رہے نہ وہ صحافت رہی اب تو بس صرف پریس کلب ہیں جہاں پہ ہم جاتے ہیں تو ہمیں پریس کلب میں ایسے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کو ہم نے کبھی بھی صحافت میں کچھ کرتے نہیں دیکھا کوئی ایسی چیز جو دل کو دہلا دے دل کو بہلا دے یہ نہیں کہ سب لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ان میں سے کوئی لوگ ہوتے ہوں گے جو صحافت ابھی تک کر رہے ہوں گے لیکن خال خال اور جب پریس کلب کے الیکشن ہوتے ہیں کچھ خاص لوگ اسی دن نظر آتے ہیں پھر اس کے بعد وہی لوگ اگلے الیکشن میں نظر آئیں گے.

اس درمیان جب بھی میں گیا کلب میں مجھے وہ لوگ نظر نہیں آئے جنہوں نے مجھے منتیں کر کے ووٹ ڈلوایا تھا کہ بھائی اس کینڈیڈیٹ کو ووٹ دینا الیکشن والے دن جب میں کلب کے گیٹ سے اندر جاتا ہوں تو جتنے بھی کینڈیڈیٹ اور کینڈیڈیٹس کے پروموٹرز میری طرف ایسے لپکتے ہیں جیسے میرے ووٹ کے بغیر ان کا گزارا نہیں ہوگا لیکن جیسے ہی میں ووٹ دے کر واپس گیٹ سے نکلتا ہوں تو میری طرف کوئی نہیں دیکھتا کیا عجیب زمانہ ہے یہ وہی لوگ ہیں جو تھوڑی دیر پہلے جب میں گیٹ سے اندر آیا تھا میری طرف لپکے تھے لیکن اب وہ مجھے دیکھ بھی نہیں رہے یہ ہیں جناب صحافی اور مجھے لگتا ہے صحافت بھی یہی ہے اور اپنے پینل کا ایک پوسٹر یا ایک کارڈ ووٹر کو تھما دیتے ہیں کہ پلیز ان کو ووٹ کیجئے گا میں آج تک یہ سمجھ نہیں سکا کہ یہ اتنے سارے لوگ اسی دن کیوں اکٹھے ہوتے ہیں جب ووٹنگ ہوتی ہے تو ایک بہت بڑی فیسٹیوٹی کا رنگ ہوتا ہے اور یہ ووٹ کیوں مانگتے ہیں اور یہ الیکٹ کیوں ہونا چاہتے ہیں اور یہ الیکٹ ہو کے پریس کلب کا کیا فائدہ کرتے ہیں یا صحافیوں کا کیا فائدہ کرتے ہوں گے یا صحافت کی خدمت کرنے کے لیے کوئی نئے کرییٹو کام کرتے ہوں گے.

میں نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ شاید ہی کوئی کام کرتے ہونگے یا صحافیوں کے لیے یا صحافی صحافیوں کے بینیفٹ کے لیے کچھ کرتے ہوں گے میں نے تو یہ دیکھا ہے کہ جب یہ الیکٹ ہو جاتے ہیں تو اوپر والی منزل پہ آفس میں بیٹھ کر بالکل بیوروکریٹ کی طرح کی کرسیاں ان کے اوپر براجمان ہو جاتے ہیں اور پھر پتہ نہیں کہ یہ کیا کرتے ہوں گے اور ان عہدوں کا اور الیکشن کے بعد الیکٹ ہو کے ان کو فوائد کیا حاصل ہوتے ہوں گے یہ سرکاری طور پہ یا صحافت میں ان کا کوئی بہت بڑا نام ہوتا ہوگا یا پھر یہ جس ادارے میں کام کرتے ہیں اس میں جا کر کوئی فائدہ اٹھاتے ہوں گے اس کا آج تک مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ صحافی پریس کلب کے الیکشنز میں الکٹ ہو کے کیا فائدے اٹھاتے ہوں گے سنا تو میں نے بہت کچھ ہے لیکن مجھے آج تک پتہ نہیں چلا کہ صحافی لوگ اپنے ان اداروں میں الیکشن کیوں لڑتے ہیں میرا ریکارڈ رہا ہے کہ جب سے میں پریس کلب کا ممبر بنا ہوں تب سے میں اپنے اس الیکشن میں ووٹ کا استعمال ضرور کرتا ہوں اور بالکل اس طرح سے جیسے کسی الیکشن میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا جاتا ہے.

ان سب الیکشن لڑنے والوں کو کچھ پتہ نہیں کہ میرا ووٹ کس طرف جائے گا میرے ایک ووٹ کی وجہ سے کسی پینل کا پانسہ پلٹ سکتا ہے تو جناب صحافی لوگ صحافت کرتے ہیں یا نہیں کرتے لیکن ہم ووٹ ضرور کرتے ہیں ایک اور ضروری بات بتانا پسند کروں گا کہ کچھ لوگ ایسے اس الیکشن میں مجھے نظر آتے ہیں جن کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی کسی اخبار سے کوئی تعلق ہے لیکن وہ اتنے مصروف نظر ا رہے ہوتے ہیں کہ جیسے اس الیکشن میں ان کا ہونا بہت ضروری تھا اور پولنگ بوتھ میں پچھلے 20 25 30 سال سے کچھ ایسے کریکٹرز کو دیکھ رہا ہوں جن کے بال میرے سامنے کالے سے سفید ہو گئے وہ لوگ بھی کسی اخبار میں کام نہیں کرتے لیکن ان کرسیوں پہ تشریف رکھتے ہیں جو آپ کا ووٹ چیک کرتے ہیں آپ کا نام چیک کرتے ہیں آپ کا نام ووٹر لسٹ میں ہے یا نہیں ہے مجھے آج تک یہ لوگ بھی سمجھ نہیں آئے یہ کرتے تو کچھ اور ہیں لیکن ان کا صحافت سے کیا تعلق اس بات کا آج تک مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اسی دن وہ لوگ جو کسی اخبار میں کام نہیں کرتے وہ وہاں ضرور پائے جاتے ہیں اور اتنا مصروف نظر آرہے ہوتے ہیں جیسے یہ الیکشن ان کے بغیر ہونا ناممکن ہے عجب بات ہے جناب یہ ہے صحافت صحافی اور اخبارات میں کام کرنے والے لوگ اور اخبارات میں نہ کام کرنے والے لوگ جو ہمارے الیکشن کرواتے ہیں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481